ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع سے ایس ڈی آر ایف میں سیول ڈیفنس وارڈن کے طور پر کام کر رہے رضاکار نوجوانوں نے یوٹی انتظامیہ سے واضع پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈوڈہ کے گندوہ میں جمعہ کے روز اپنی مانگوں کو لے کر احتجاج کر رہے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ 2013 سے ایس ڈی آر ایف میں بطور سیول ڈیفنس وارڈن کام کر رہے ہیں اور اس کے لئے انہیں باقاعدہ طور پر تربیت بھی دی گئی ہے جبکہ متعدد بار پولیس ویریفیکیشن بھی ہوچکی ہے’ہم کیا چاہتے انصاف، ہماری مانگیں پوری کرو' کے نعرے بلند کرتے ہوئے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ بطور سیول ڈیفنس وارڈن انہوں نے ناگہانی آفات، سڑک حادثات و زلزلوں کے دوران بچا کارروائیوں میں شرکت کی ہے۔فرید احمد نامی ایک بے روزگار امیدوار نے کہا کہ ڈوڈہ ضلع کے چالیس نوجوانوں کو فروری 2013 میں ایس ڈی آر ایف میں بطور سیول ڈیفنس وارڈن تعینات کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہمیں آفات سماوی کے دوران بچا و امدادی کارروائیاں چلانے سے متعلق ہر طرح کی تربیت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلی حکام کی ہدایت پر سبھی امیدواروں کی پولیس ویریفیکیشن بھی ہوچکی ہے لیکن ابھی تک ان کے لئے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔راجندر سنگھ نامی ایک اور نوجوان نے کہا کہ پچھلے آٹھ برسوں سے وہ دربدر ہیں اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کے شروع میں انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے گریونس سیل میں بھی ایک یادداشت پیش کی تھی جس کے جواب میں ایس ایس پی ڈوڈہ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ ضلع سے چالیس نوجوانوں کو ایس ڈی آر ایف میں بطور سیول ڈیفنس تربیت دی گئی ہے اور ان کی پولیس چھان بین بھی ہو چکی ہے تاہم انہوں نے اپنے جواب میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ابھی تک ان کے مشاہرے سے متعلق حکام کی جانب سے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا ہے اور یہ رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے لیفٹیننٹ گورنر و پولیس حکام سے سیول ڈیفنس وارڈن کے طور پر کام کر رہے نوجوانوں کے لئے ایک مستقل پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔