منکوٹ میں ’پی ایم اے وائی ‘کے نام پر مستحقین کیساتھ کھلواڑ
ملازمین پر ایک فائل کے پانچ سے دس ہزارروپے کمیشن لینے کا الزام
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کی تحصیل منکوٹ کے مکینوں نے محکمہ دیہی ترقی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ’پردھان منتری اواس یوجنا ‘کے نام پر مستحقین کیساتھ کھلواڑ کی جارہی ہے جبکہ ملازمین غریبوں سے رہائشی مکان کی فائل کیلئے پانچ سے 10ہزار روپے بطور پیشگی کمیشن لے کر فائلیں غائب کر دی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ فائل جمع کروانے کے کچھ ہی دنوں بعد دوبارہ سے فائلیں طلب کر لی جاتی ہیں تاہم حالیہ کئی عرصہ سے مستحقین کو رہائشی مکانا ت کی تعمیر کیلئے فنڈز ہی فراہم نہیں کئے گئے جبکہ ان سے پیشگی کمیشن بھی لے لی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ منکوٹ میں محکمہ دیہی ترقی کے تعینات ملازمین گزشتہ کئی عرصہ سے لوگوں سے کمیشن لے کر فائلیں جمع کر رہے ہیں تاہم ان فائلوں کو جان بوجھ کر غائب کر دیا جاتا ہے اور دوبارہ سے فائلیں طلب کی جاتی ہیں جن کو تیار کرنے میں غریبوں کا خرچا ہونے کیساتھ ساتھ وقت بھی ضائع ہوجاتا ہے ۔نائب سرپنچ مکھنہ چوہدری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کے ملازمین نے مبینہ طورپر لوٹ مار شروع کی ہوئی ہے تاہم غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کئی ایک فائلوں کو جمع کروائے ہوئے ایک برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک مستحقین دفاتر کو چکر کاٹ رہے ہیں ۔پنچایتی اراکین نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ منکوٹ بلاک میں پردھان منتری اواس یوجنا کے نام غریبو ں سے لی گئی پیشگی کمیشن کے معاملہ کی مکمل تحقیقات کروا کر ملوث ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کر کے مستحقین کر حق دلایا جائے ۔
کانگریس پہاڑی سیل کا قیام
نثار خان کو چیئر مین بنانے کی ستائش
راجوری //چیر مین پہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئر فورم شرافت علی خان نے نثار خان سبکدوش آئی جی پی کو کا نگریس پہاڑی سیل کا چیئر مین تعینات کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ موصوف کی شمولیت سے پہاڑی طبقہ کی فلاح و بہبود کو ممکن بنانے کیلئے عملی اقدمات اٹھائے جائیں گے ۔یہاں جاری ایک بیان میں موصو ف نے کہاکہ کانگریس جماعت نے کئی دہائیوں کے بعد پہاڑی طبقہ کی جانب توجہ مبذول کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پہاڑی طبقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ناانصافیوں کاشکار ہے جس کی وجہ سے اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ پسماندہ طرز کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ سبکدوش آئی جی پی نثار خان پہاڑی طبقہ کی فلاح وبہبود میں اپنا رول ادا کریں گے ۔
ادوھم سنگھ کو یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش
حسین محتشم
پونچھ//جلیاں والا باغ قتل عام کا بدلہ لینے والا انقلابی جسے انگریزوں نے محمد سنگھ آزاد سمجھ کر سزائے موت دی تھی کی یاد میں پونچھ یوتھ کی جانب سے ایک تقریب منعقد کی گئی جہاں جوانوں نے شہید کی تصویر پر پھول چڑھا کر انھیں خراج پیش کیا۔ اس موقع پرمقررین نے کہا کہ شہید آزادی ادوھم سنگھ نے ملک کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔انہوں نے کہا انگریزوں کے دور میں پنجاب کے گورنر جنہوں نے جلیاں والا باغ میں قتل عام کیا تھا کو شہید نے13 مارچ 1940 کو لندن کے کیکسٹن ہال میں ایسٹ انڈین ایسوسی ایشن کے اجلاس کے دوران اودھم سنگھ نے کئی گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا حراست کے دوران انھوں نے اپنا نام رام محمد سنگھ آزاد استعمال کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب کے تین بڑے مذاہب ہندو مسلم سنگھ کہلانے کے بجائے ہندوستانی کہلانا پسند کیا۔نوجوانوں نے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔
سید منیر حسین شاہ کی سبکدوشی پر الوداعی تقریب
حسین محتشم
پونچھ//سید منیر حسین شاہ سینئر ٹیچر کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے موقع پرالوداعی تقریب گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول گورسائی میں منعقد ہوئی جس کی صدارت کرتے ہوئے پرنسپل سکول سید ناطق حسین جعفری نے سبکدوش ی پر ان کی شعبہ میں رہ کر انجام دی گئی خدمات کی تعریف کی ۔پرنسپل موصوف نے کہا کہ استاد کبھی سبکدوش نہیں ہوتا وہ قوم کی رگوں میں خون بن کر زندہ رہتا ہے ۔انہوںنے کہا سید منیر حسین شاہ سینئر ٹیچر ایک شفیق استاد تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کی ، ان کی تعلیم وتعلیم کے حوالہ سے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور سنہری حروف سے لکھا جائے گا.اس موقع پر موجود سید عظمت حسین جعفری اہم رکن ٹیچر جائنٹ ایکشن کمیٹ نے کہا ایک سرکاری ملازم ضرور ریٹائرڈ ہو رہا ہے مگر استاد کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا وہ اپنی نسل میں زندہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس تقریب میں آکر فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں ایک ایسے استاد کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں شریک ہوں جنہوں نے ایک بھرپور تعلیمی زندگی جی اوردوران سروس ایجوکیشن کے شعبہ کامیابی حاصل کی ۔تقریب میں علاقہ گورسائی، پوٹھہ اورسنئی کے سرپنچ اور قرب وجوار کے سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور گائوں کے بہت سے معزز افراد نے بشمولیت کی۔