کشتواڑ // کشتواڑ ضلع کے دچھن ہونزڑ اور دیگر حصوں میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی فوری امداد اور بحالی کو یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر اشوک شرما نے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی اور سول اور پولیس انتظامیہ کی میٹنگ کی صدارت کی۔ ڈی سی آفس کمپلیکس میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کشوری لال شرما، اے ڈی ڈی سی شام لال ، جی ایم ڈی آئی سی ، خالد حسین ملک ،جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ محمد اقبال ،ڈی ایف او مڑوہ وجے کمار کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ڈی سی نے لائن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کیں کہ ایس ڈی آر ایف کے رہنما خطوط کے مطابق متاثرہ افراد کی فوری امداد اور بحالی کے لیے کمر کس لیں ۔انہوں نے ایس ڈی ایم مڑوہ کو ہدایت کی کہ وہ یو ڈی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایس ڈی آر ایف کے اصولوں کے مطابق معاوضے کی ادائیگی کے عمل کو فوری طور پر متاثرین کے کھاتوں میں داخل کریں۔انہوں نے تمام متعلقہ ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ اس تباہی کے دوران عام شہریوں کے جان ومال کے علاوہ زراعت کی فصلوں ، سرکاری اور نجی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی تشخیص کے عمل کو تیز کریں۔ انہوں نے ان سے کہا کہ ایس ڈی آر ایف کے رہنما خطوط کے مطابق نقصان کا جائزہ لیں اور بغیر کسی تاخیر کے 15 دن کے اندر فائل اپنے دفتر میں جمع کرائیں۔ڈی سی نے ڈی ایف او مڑوہ کو ہدایت کی کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے اقدامات کریں ۔محکمہ فلڈ کنٹرول اینڈ ایریگیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مستقبل کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حفاظتی کام انجام دیں تاکہ مستقبل میں انہیں سیلاب کا خطرہ لاحق نہ ہو ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ اینڈ سپلائی سے متاثرہ علاقے میں تباہ ہوئی اشیاء ضروریہ کی دکانوں کی بحالی اور راشن کی سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے کہا گیا ۔جبکہ سی ایم او کشتواڑ سے کہا گیا کہ وہ متاثرہ گائوں میں دو فارماسسٹ فوری طور پرروانہ کریں۔انہوں نے بجلی اور پانی کی بحالی کیلئے متعلقہ محکموں پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ تین روز کے اندر اندر وہاں بجلی اور پانی کی سپلائی بحالی ہونی چاہیں ۔بعد ازاں ڈی سی نے اے ڈی ڈی سی کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کشتواڑ کا دورہ کیا اوروہاں علاج کیلئے منتقل کئے گئے زخمیوں کی حالت کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کشتواڑ نے ڈی سی کو آگاہ کیا کہ تمام 6 زخمی افراد کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں اور مکمل صحت یابی کے بعد انہیں چھٹی دے دی جائے گی۔