ڈوڈہ میں کورونا وائرس کے 10 نئے مثبت معاملات درج
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع سے ہفتہ کو کوؤڈ 19 کے 10 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور 7 مریض صحتیاب ہوئے ہیں. اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران دس نئے افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور سات مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 95 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7031 پہنچ گئی ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 125 افراد فوت ہوئے ہیں اور 203275 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
نیشنل ہومین رائیٹس کونسل رام بن کو سڑک حادثات پر تشویش
شاہراہ کی مکمل تعمیر اور سڑک حادثات کی روکتھام کیلئے اقدامات اٹھانے پر زور
محمد تسکین
رام بن / نیشنل ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس کونسل ضلع رام بن نے جموں سرینگر شاہراہ پر رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں رونما ہونے والے مسلسل سڑک حادثات اور ان میں انسانی جانوں کے ضیاں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سرکار کو اس طرف ضروری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے تاکہ سڑک حادثات میں کمی لائی جاسکے۔ نیشنل ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس کونسل ضلع رام بن کے ضلع سیکریٹری نوید انجم نے پریس کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ عرصہ دراز سے فور لین شاہراہ کا کام جاری ہے مگر ابھی تک اُسے کئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود مکمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے رام بن بانہال کے درمیان سڑک حادثات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور آئے روز لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی تعمیراتی کمپنیوں نے ادہمپور رام بن اور بانہال کا سیکٹر سب لیٹ ٹھیکیداروں کودے رکھا ہے اور ٹھیکیداروں پر ٹھیکدار کی پالیسی کی وجہ سے رام بن بانہال سیکٹر میں فورلین شاہراہ مکمل نہیں ہو پارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ہی کنبے کے چار افراد کار سمیت چناب برد ہوئے جبکہ اس سے پہلے پچھلے چند ماہ میں کئی انسانی جانیں سڑک حادثات کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔ نیشنل ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس کونسل کے ضلع سیکرٹری نوید انجم نے گورنر منوج سنہا اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ رام بن اور بانہال کے درمیان فورلین شاہراہ کو جلد از جلد مکمل اور بہتر کرنے کیلئے زاتی مداخلت کریں تاکہ دل دہلانے والے سڑک حادثات پر کسی حد تک روک لگ سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاسی میں 320ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل
ریاسی //کورونا کی دوسری لہر میں تھوڑی سی راحت کے بعد ریاسی پولیس نے 320 ملزمان کے خلاف 237 چارج شیٹ عدالتوں میں داخل کرائیں ۔ ان میں سے کچھ ملزمین کے خلاف لوک عدالت اور پری لوک عدالت کے دوران فیصلہ سنایا گیا ہے ۔سب ڈویژن ریاسی میں112 مقدمات کی تفتیش مکمل کی گئی ہے اور ملزم کے خلاف عدالت میں قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے ۔اس دوران سب ڈویژن کٹرہ کے 65 مقدمات کی تفتیش مکمل ہوئی اور عدالت میں پیش کی گئی۔سب ڈویژن مہور میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں 40 حتمی رپورٹس پیش کی گئیں۔جبکہ ارناس تھانہ نے 20 مقدمات میں چارج شیٹ سب عدالتوں میں پیش کی ہیں۔اور اس طرح مجموعی طور پر 305 ملزمان کے خلاف متعلقہ عدالتوں میں 226 چارج داخل کی گئی ہیں ۔ایس ایس پی ریاسی شیلندر سنگھ نے ضلعی پولیس ریاسی کے تفتیشی افسران کومحنت اور لگن سے کام کرنے کی تلقین کی ہے ۔ریاسی پولیس نے لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران بہت سے دوسرے معاملات میں تحقیقات مکمل کیں ۔ایس ایس پی نے بتایا کہ جرائم کی روک تھام اور سراغ لگانا پولیس کا بنیادی فریضہ ہے اور یہ صرف مقدمات کی آزادانہ اور منصفانہ تفتیش سے ہی ممکن ہو سکتا ہے تاکہ ملزمان کو سزا دی جا سکے اور متاثرین کو قانون کے ذریعے انصاف مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جموں وکشمیر تخریب کاری کا نہیں ٹورازم کا خواہاں:ترن چگھ
جموں //بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری ترن چگھ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جموںوکشمیر میں آگ سے نہ کھیلے اور یونین ٹیریٹری میںعسکریت پسندوں کو بڑھاوا نہ دیں۔ کے ایس کے مطابق جموںمیںبی جے پی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترن چگھ نے کہاکہ پلوامہ میں جو 2جنگجو مارے گئے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کی پشت پناہی والی عسکریت پسندی جموں وکشمیر میں جاری ہے اور اس کیلئے پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوںنے حفاظتی دستوں کی اس بات کیلئے سراہنا کی کہ انہوںنے وادی میں جنگجوئوں کیخلاف کامیاب آپریشن کئے اور رواں سال جنوری سے اب تک 87عسکریت پسندوں کو مارا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ فورسز نے ان کا گھیرا کتنا سخت کیا ہے جو پاکستان کیلئے ایک وارننگ ہے۔ ترن چگھ نے کہا کہ جموںو کشمیر میں لوگ عسکریت پسندی سے تنگ آچکے ہیں اور وہ بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام چاہتے ہیں ’’لوگ ٹورازم چاہتے ہیں نہ کی دہشت گردی۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایک نیا باب کھل گیا ہے اور یہاں تشدد اور قوم مخالف سرگرمیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے جو گپکار گینگ گزشتہ70برسوں سے پروپگنڈہ کررہی ہے، عوام سکول، سڑکیں اور ہسپتال کے علاوہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع چاہتے ہیں، وہ بندوق اور گولیاں نہیں چاہتے۔ انہوںنے کہا کہ’’ اتنے برسوں کے دوران گپکار گینگ پاکستان اور چینی طاقتوں کی ایماء پر جموں وکشمیر کے لوگوں کو گمراہ کررہی ہے، اب وقت بدل چکا ہے اور خطے میں تازہ ہوا چلی ہے‘‘۔ ریاستی بی جے پی صدر رویندر رینہ، ریاستی تنظیمی سیکریٹری اشوک کول، شریک مبصر آشش سود، ریاستی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر دیوندر منیال، یدویر سیٹھی اور پون کمار بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رام بن میں کوویڈ پروٹو کول کیلئے مہم جاری
رام بن // کوویڈ پروٹوکول کے نفاذ کیلئے مہم کو جاری رکھے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے سنیچر کو رام بن کے مختلف علاقوں میں بغیر ماسک اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی پاداش میںلوگوں سے 22,400 روپے جرمانہ وصول کیا ہے ۔ انفورسمنٹ ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیارات میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چہرے پر ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ وہ اپنے قریبی سی وی سی میں کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔
؎؎