بچے آپ کے دن بدن شریر ہوتے جارہے ہیں آپ انہیں سمجھاتے کیوں نہیں؟ میں نے یہ جملہ اپنے ایک دوست کے بچوں کی ناقابلِ برداشت شرارت کو دیکھ کر کہا تو ان کا جواب تھا:جمیل بھائی یہ شریف باپ کی اولادیں ہیں اسی لیے کچھ زیادہ ہی شوخ معلوم ہوتے ہیں یہ کہتے ہوئے وہ میرے چہرے پہ اُبھرنے والی حساسیت کی عبارت پڑھے بغیر ہی میری باتوں کو آسانی سے ہنسی میں ٹال گئے، اس لیے میں نے مزید اپنے اندر کے غصے کے اظہار کی جرائت یہ سوچ کر نہیں کی کہ خواہ مخواہ ایک سنجیدہ ماحول خفگی کی نذر ہوکر رہ جائے گا ۔
دوسرے دن اچانک ان کے بچوں پہ نظر پڑی تو میں نے دیکھا اس کی ناک بُری طرح زخمی ہے، سر کے کچھ حصے پہ خراش کے نشان ہیں اور ایک ہی دن میں اس کے چہرے پہ شرارت آمیز شوخی کا رنگ اُڑ چکا ہے، پہلی نظر میں دل کو دھچکا لگا، اسی بیچ اچانک اس کے شریف باپ نمودار ہوئے، ان پہ میری نظر پڑی، میں پوچھ بیٹھا ارے۔۔۔۔۔یہ آپ کے لاڈلے نے اپنا حُلیہ کیوں بگاڑ رکھا ہے؟ یہ کس شوخی کی مہر اس کے چہرے پہ دکھائی دے رہی ہے؟ کہنے لگا:ارے کیا بتاؤں یہ کمبخت فلاں جگہ پہ کود پھاند کر رہا تھا، منہ کے بل اینٹ پہ گِرا اور زخمی ہوگیا، میں تو اس کی حرکت سے عاجز ہوں،آئے دن کچھ نہ کچھ اپنے حماقت بھرے ہنر کا تماشا دکھاتا رہتا ہے، لگتا ہے پاگل کرکے ہی چھوڑے گا۔
یہ چند جملے اپنی رو میں بولتے ہوئے فکر کی شدت سے میں اپنے دوست کی پیشانی پہ تیرنے والے پسینے کے قطرے صاف طور پر دیکھ سکتا تھا، اُن کی آنکھیں سرخ تھیں یوں لگتا تھا جیسے آنسو پلکوں کی دہلیز پہ دستک دینے کو بیچین ہورہے ہوں، انہوں نے اپنا سر جھکالیا اور پیروں کی انگلیوں سے ننگی زمین کی مٹی کُریدنے لگے،چند منٹوں تک ہم دونوں کے بیچ خاموشی طاری رہی،کچھ دیر بعد میں نے ان کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا اور پیار سے عرض کیا:دیکھیے موجودہ دور کے پڑھے لکھے گارجین ہوں یا جاہل سبھوں کی نفسیاتی حالت لگ بھگ وہی ہے جو بروقت میں آپ کی دیکھ پا رہا ہوں، المیہ یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کے تعلق سے جذباتی اُس وقت ہوتے ہیں، جب پانی سر سے اوپر جاچکا ہوتا ہے، غفلت سے اُس وقت جاگتے ہیں جب بچے کسی بڑے حادثے کو انجام دے چکے ہوتے ہیں، اُنہیں فکر اس وقت ستاتی ہے جب لائحہء عمل سے زیادہ عملی اقدام کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ گارجین حضرات کی جانب سے اس طرح کا رویہ دراصل ان کی غیر فطری سوچ کا پیش خیمہ ہوتا ہے، یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر درخت کی جڑ میں کیڑے لگ جائیں تو سمجھدار لوگ مفت میں اُس کی شاخوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے،دراصل ابتداء سے ہی بچوں کی حرکات وسکنات سے غافل رہنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ آگے چل کر وہ بچے ایسی ایسی حرکتیں انجام دینے لگتے ہیں، ایسی راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں جن سے نجات دلانے میں بڑے بڑے ذہین ترین ماں باپ کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، اسی لیے ہمیں شروع سے ہی بچوں کے ایک ایک عمل کو کھُلی آنکھوں سے دیکھ کر ان کی تنبیہ کرنی چاہیے، وہ اگر اچھا عمل انجام دیں تو ان کی بھرپور حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اگر بُرا عمل انجام دیں تو پہلے انہیں پیار سے شفقت کے ساتھ سمجھانا چاہیے اگر نہ مانیں سختی کی ضرورت محسوس ہو تو اس سے بھی نہیں چُوکنا چاہیے، ممکن ہے پل بھر کے لیے آپ کی سختیاں انہیں ناگوار گزریں لیکن جیسے جیسے ان کا شعور پختہ ہوگا، وہ زندگی کی حقیقتوں کو سنجیدگی سمجھنے کا ہنر جب جان جائیں گے تو ان کی نظروں میں آپ کا قد بلند ہوتا چلا جائے گا کیونکہ مجھے جہاں تک یاد آتا ہے بچپن میں جن لوگوں کی شفقت آمیز سختیاں مجھے بہت ناگوار گزرتی تھیں آج وہی لوگ میری نظروں میں بہت محبوب ہیں، ہزاروں کی بھیڑ میں بھی رہوں انہیں دیکھ کر میری نگاہیں تکریم کے جذبے سے جھُک جاتی ہیں ۔
رابطہ:9973234929