زندگی میں کامیاب ہونا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ زندگی میں ناکامی سے سیکھ کر آگے بڑھنا ضروری ہے۔ایک بار کی ناکامی کو زندگی کے گلے کا پھندا نہ بنائیں۔ چاہے وہ تعلیم میں ہو، بزنس میں یا کیرئیر میں۔ آج کل لوگ ناکام ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ قدرت نے انسان کو کامیاب ہونے کی صلاحتیں دی ہیں لیکن کامیابی کا یہ پل کھائیوں، گہرائیوں اور رکاوٹوں کے اوپر بنا ہوا ہے۔ یہاں بہت کچھ سہنا پڑتاہے، بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے۔کبھی کبھی رات دن کی سخت محنت رائیگاں جاتی ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ وہ صرف ایک معاملے میں رائیگاں گئی،اس کا پھل کہیں اور سے مل جائے گا۔ اگر ہم پوری دنیا کے کامیاب لوگوں کا گراف چیک کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تعلیمی اداروں میں معمولی کارکردگی دکھانے والے اپنی فیلڈ میں بے مثال رہے۔ جن میں سے ایک زندہ مثال ہمارے سامنے بل گیٹس کی ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کا دماغ جس طرف چلتا تھا، وہ چیز اسکولوں میں نہیں پڑھائی جا رہی تھی۔لیکن اگر انہی لوگوں کے والدین انہیں معمولی تعلیمی کارکردگی پر کوسنے لگتے پھرزندگی میں ناکامیاں پکی ہیں۔
زندگی میں جھٹکے پکے ہیں، زندگی میںگڈھے ضروری ہیں۔آپ کے پاس پلان بھی ہو یا نہ ہو، آپ کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ناکامی ہمیشہ کی ناکامی نہیں ہوتی۔ہمارے بڑے خود موبائل میں مصروف ہوچکے ہیں، ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ چھوٹوں کو ناکامی کا سامنا کرنا سکھائیں۔ ویسے بھی یہ قانون قدرت ہے کہ جو چیز پرفیکٹ ہونے لگتی ہے اس میں کوئی بگاڑ پیدا کر دیا جاتا ہے،اسے کہیں سے توڑنا شروع کر دیا جاتا ہےکیونکہ پرفیکشن خاتمہ ہوتی ہے تو قدرت خاتمہ نہیں چاہتی۔ وہ چیزوں کو بے ترتیب کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ اس مثال کے لیے یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دنیا کی سب سے زیادہ خودکشیاں، سب سے پرفکیٹ ترین ملکوں میں ہوئیں۔اس لیے پھر قدرت ایسی جگہوں پر سسٹم ڈسٹرب کر دیتی ہے تاکہ سب اس سسٹم کو درست کرنے میں مصروف ہو جائیں اور مرنے کا سوچیں ہی نا۔
ایسے ہی زندگی میں آنے والی ناکامی بہت سے سبق لے کر آتی ہے،انسان کو تجربہ دیتی ہے،خود کو ناکامی کے لیے ذہنی طور پر تیار رکھیں گے تو ڈپریشن میں نہیں جائیں گے۔
آپ کا فیل ہونا، پیچھے رہ جانا، جاب کا نہ ملنا، بزنس کا نہ چلناوغیرہ یہ سب چیزیں زندگی کا حصہ ہیں، پوری زندگی نہیں۔اپنے بچپن کو یاد کریں ، آپ ایک قدم چلتے تھے اور پھر گر جاتے تھے، اگر ایک بار گرنے سے چلنا چھوڑ دیا ہوتا تو آج کیا ہوتا؟
پھر میں نقصان صر ف اسے مانتا ہوں جس کی تلافی نہ ہو سکے اور دنیا میں جان کے علاوہ ہر نقصان کی تلافی ہو جاتی ہے۔ مال کا نقصان کوئی نقصان ہی نہیں ہے اور یہ کہنا چھوڑ دیں کہ میرا پورا تعلیمی سال ضائع ہو گیا۔ زندگی کو سالوں یا مہینوں میں قید کریں گے تو پھر جیل کے قیدی جیسے بن جائیں گے۔ زندگی کو آسمان کی وسعت کی طرح دیکھا کریں۔ یہ بہت کشادہ اور وسیع ہے۔ ایک نقصان، ایک یا کئی ناکامیوں کو جان کا روگ نہ بنائیں۔ اٹھیں اور اپنا کام پھر سے شروع کردیں کہ آسمان کی وسعت گواہ کہ زندگی بلندی ہے اور ہم اس کے شاہین۔