میں جس دفتر میں کام کرتا ہوں، وہاں کے ملازم اگرچہ کچھ نہیں کرتے لیکن ذوق اچھا ضرور رکھتے ہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ محفل میں بیٹھے ایک فرد نے باتوں باتوں میں مشورہ پیش کر دیااور فرمایا ، ’’دفتر میں کام کاج نہ ہونے کے برابرتو ہےمگر پھر بھی گرمی نے پریشانِ حال کر دیا ہے۔ کیوں نہ کہیں سیر سپاٹے پر جائیںاور مجھے لگتا ہے کہ پیر پنچال کا علاقہ اِس وقت موزون رہے گا۔ وہیں سے شاردھا شریف بھی جائیں گے۔ڈوڈہ کشتواڑ کا بھی دورہ کریں گے۔ بابا غلام شاہ یونیورسٹی کی سیر بھی کریں گے‘‘۔ جناب ابھی اپنی بات مکمل کرنے ہی والے تھے کہ ایک دوسرے صاحب نے بیچ میں اُس کی بات کو روندتے ہوئے موصوف کے مشورے کو رَد کر دیا کہ’’ مجھے نہیں جانا،میں اُس کفرستان کو نہیں جانا چاہتا ہوں، آگ لگے اُس علاقے کو‘‘۔ آنجناب کو بہت سمجھا یاگیا کہ ہمیں کیوں نہیںجانا چاہیے، لیکن آپ مانے ہی نہیں۔ اُسے اُس کے پیشے کی بھی عار دلوادی گئی، پھر بھی بات نہ بن پائی۔ چنانچہ محفل میں شریک سارے اشخاص عمر، علم اور تجربے کے میدان میں کافی آگے ہیں، اس لیے میں اِس رُودَاد کو خاموش تماشائی کی طرح دیکھتا رہا۔ لیکن بات جب حد سے زیادہ بڑھ گئی تو مجھے شاعر کا وہ شعر یاد آگیا کہ ؎
خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی
اِس دور میں جینا ہے تو کہرام مچا دو
یوں میں نے جبراً سب کو خاموش کر دیا اور کچھ یوں بول پڑا۔
’’میں معذرت خواہ ہوں کہ اس طرح آپ کو روک کرکچھ بولنے کی جسارت کی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کہنا سخت حماقت ہو گی کہ ’’میں اُس کفرستان کو نہیں جانا چاہتا، آگ لگے اُس علاقے کو، میں کہیں نہیں جانا چاہتاہوں، یہ سیرسپاٹے فضول ہیں‘‘۔ اس ضمن میں چندباتیں عرض کرتا ہوں ۔
آپ نے اپنے ذہن میں جس چیز کو بٹھارکھا ہےاور جس پر آپ ساری عمر بیٹھے رہے، اُس خول سے نکلنا آپ کے لیے نہایت ہی مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔
لیکن بات اب جب کہ اُٹھ گئی تو دو اصولی باتیں ضرور عرض کرنا چاہوں گا۔
(۱) جس علاقے کو آپ نے کفرستان کہہ کر آگ لگا دی، وہاں کروڑوں میں مسلمان آباد ہیں۔ وہاں کی زمین دعوتِ دین کے لیے نہایت ہی سازگار ہے۔ وہ علاقہ اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے ۔ آنے والے وقت میں کیا پتہ اُسی علاقہ سے اسلام کی بھلائی اور فروغ کے لئے علم اُٹھ جائے۔ وہاں جتنے بھی لوگ رہتے ہیں، بلاامتیاز مسلک و ملت، دین و مذہب، رنگ و نسل انسانیت کا اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ انہیں بھی توجینے کا حق ہے۔ علامہ اقبال نے اسی علاقے کے بارے میں کہا ہے کہ ؎
چین و عرب ہمارا ہندستان ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
(۲) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ’’ قُل سِیرو فِی الارض‘‘، یعنی کہ اے نبیؐ اِن سے کہہ دیجیے میری اِس زمین کی سیر کرو۔ اب یہ سیر کرنااللہ تعالیٰ کس تناظر میں فرما رہے ہیں ۔ سیر اس لیے کرنی ہے کہ دیکھا جائے کہ جن لوگوں نے اللہ اور اُس کے رسولؐ کی تکذیب کی ہے، وہ کس خسارے میںمبتلا ہوئے۔ سیر اس لیے کرنی ہے کہ دیکھا جائے اللہ کی قدرت کتنی وسیع و عریض ہے۔ سیر اس لیے کرنی ہےکہ انسان فطرت کے قریب پہنچ جائے۔ سیر اس لیے کرنی ہے کہ انسان اپنی صحت کو بنائے رکھے۔ سیر دعوت کے لیے کی جائے۔ لوگوں کو اللہ کی بات سنانے کے لیے کی جائے۔ اسلام اُکتا کرنے والا دین نہیںہے۔ جتنی زیادہ آپ دنیا کی سیر کرو گے، اتنا ہی آپ اللہ اور حقیقت حال سے زیادہ واقف ہوں گے۔ خدا جتنا زیادہ یاد آپ کو جنگلات میں، کوہساروں میں، دریائوں میں، ندی نالو ں میں، ٹیکنالوجی میں، جدید آلات میں یاد آسکتا ہے اتنا آپ گھر بیٹھے قرب ِالی اللہ حاصل نہیں کر سکتے۔
������