پلوامہ //تحصیل پانپور کے کھر یو قصبہ میں سنیچر کی صبح خونریز جھڑپ میں 2مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ ایک رہائشی مکان تباہ اور 5کو جزوی نقصان پہنچا ۔پولیس نے بتایا کہ مذکورہ دو جنگجو حزب المجاہدین کے ’ ہٹ سکارڈ‘ سے وابستہ تھے جو کئی شہری ہلاکتوں میں ملوث رہے۔مالک مکان اور اسکے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ قصبہ میں دن بھر پتھرائو اور شلنگ کے واقعات پیش آئے جس کے دوران کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔مہلوک جنگجوئوں میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور سرکاری ملازم بھی تھا۔
تصادم کیسے ہوا؟
پولیس نے بتایا کہ انہیں دانک محلہ کھریو میں کم از کم دو جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد جمعہ کی شب50آر آر،185بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا اور روشنیوں کا انتظام کر کے شبانہ تلاشی کارروائی شروع کی۔ اس دوران سیکورٹی فورسز جب ایک مکان کے نزدیک پہنچ گئے تو یہاں موجود جنگجوئوں نے ان پر فائر کھول دیا۔ جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی جس میں 2مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رات کے اڈھائی بجے فائرنگ شروع ہوئی جو صبح 9بجے تک جاری رہی۔اس دوران دھماکوں سے غلام نبی نجار کامکان زمین بوس کیا گیا اورفاروق احمد نجار،عبدالرشید نجار، محمد یوسف بٹ، علی محمد تیلی اور غلام نبی تیلی کے مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔جھڑپ ختم ہونے کے بعد غلام احمد نجار اور اسکے بیٹے نظام الدین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس نے مزید بتایا اس واقعے میں ابتدائی طور ایک جنگجوجاں بحق ہوا جبکہ دوسرے جنگجو نے غلام احمد کے مکان سے فرار ہونے کے بعد ان کے بھائی غلام نبی نجارکے مکان میں پناہ لی ۔جہاں سے بعد میں دونوں جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں خود سپرد گی کرنے کے لئے کہا گیا جس کو انہوں نے ٹھکرا یا ۔ مہلوک جنگجوئوں کی شناخت مصیب مشتاق بٹ ولد مشتاق احمدساکن کھریو اور مزمل احمد راتھر ولد مرحوم نذیر احمد راتھر ساکن چکورہ پلوامہ کے طور پر کی گئی ۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ دونوں جنگجو حزب کے ’ہٹ سکارڈ ‘سے وابستہ تھے اور وہ لرگام ترال میں ایک سکول چپراسی کی ہلاکت میں بھی ملوث تھے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ مصیب مشتاق نے14اکتوبر 2020 کو ہتھیار اٹھائے۔ وہ گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول لدھو پانپور میں لیب اسسٹنٹ تھا۔اس نے اسلامک سٹیڈیز اور پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کی تھی۔علاوہ ازیں NEETکا امتحان دیا تھا اور SETکا امتحان کوالیفائی کیا تھا۔اہل خانہ کے مطابق اس نے کے اے ایس پرملنری امتحان بھی کوالیفائی کیا ہوا تھا۔ مزمل راتھر کے بارے معلوم ہوا ہے کہ وہ 19 جولائی 2021کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا ۔ پولیس نے بتایا مارے گئے جنگجوئوں کے قبضے سے ایک رائفل، ایک پستول اور دیگر قابل اعتراض مواد برآمد کر لیا گیا ۔
پتھرائو و شلنگ
مقامی لوگوں کے مطابق سنیچر کی صبح مقام جھڑپ کے آس پاس مشتعل نوجوان جمع ہوئے اور انہوں نے پتھرائو کر کے آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔انہیں منتشر کرنے کیلئے فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور شلنگ کی ۔ یہ سلسلہ آپریشن کے اختتام تک جاری رہا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں کی ہلاکت ہونے کے نتیجے میں قصبے میں ہر طرح کی سرگرمیاں معطل رہیں، کاروباری و تجارتی سرگرمیاں اور ٹرانسپورٹ بند رہا۔نماز جمعہ سے قبل اور اسکے بعد بھی پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران پتھرائو کرنے والے کئی نوجوانوں کو دھر دبوچا گیا۔
سوپور ٹائون کی بیک وقت ناکہ بندی
شک آور بستیوں میں تلاشیاں
سوپور /غلام محمد/ سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی صبح شمالی کشمیر کے سوپور اور اس کے مضافات میں بڑے پیمانے پر محاصرہ اور تلاشی آپریشن (CASO)کیا ۔ فوج ، سی آر پی پی اور پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے پورے سوپور قصبے کو گھیرے میں لے لیا اور تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیا ۔ ٹرانسپورٹ اور پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت کو بھی فورسز نے شہر کے ہر کونے پر روک دیا ۔ ایس پی سوپور سدھانشو ورما نے کہا کہ شہر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع کی بنیاد پر سرچ آپریشن کیا۔قصبہ کی کئی بستیوں کی خصوصی طور پر ناکہ بندی کی گئی اور شک آور مقامات کی تلاشیاں لی گئیں۔کئی گھنٹے تک آپریشن کے بعد ناکہ بندیاں ختم کی گئیں۔