یوں تو ہر کوئی ذی شعور مسلمان کربلا کے بارے میں جانتا ہے کہ کربلا میں ہمیں کیا سبق ملا کہ کیسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لایا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو ایک سبق دیا کہ ہمیشہ صبر و صلوٰۃ کا سہارا لینا چاہیے۔
کربلا کا واقعہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ جب کوفہ والوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو دعوت دی کہ آپ یہاں تشریف لائیں، کہ ہم آپ کے دست مبارک پر دست رکھ کر مسلمان ہونا چاہتے ہیںتو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا۔جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو اس نے دیکھا کہ لوگ بہت تشنہ لب ہیں کہ ہم ایمان لائیں گےتو مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ ایک دن میں ہی (40)چالیس ہزار لوگوں نے ایمان لایا ،تو انہوں نے قاصد سے ایک خط حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اس میں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ "یہاں کوفے والے آپ رضی اللہ عنہ کا بہت زیادہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب آپ رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔جب خط حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پہنچا تو اس نے سوچا کہ اب ہم کو جانا ہی پڑے گا۔جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ سے سفر شروع کیا تو وہاں اسی وقت گورنر کو تبدیل کرکے ابن ذیاد کو گورنر مقرر کیا اور انہوں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔وہ لوگ جو کل مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مسلمان ہوئے تھے،آج ابن ذیاد کی ظلم کی وجہ سے بیعت واپس لی۔
جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ وہاں کوفہ پہنچے توکیا دیکھا کہ کل تک جو میرے ساتھ تھے، اب مجھ کو شہید کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ابن زیاد نے یزید کا حکم مانتے ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہاکہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرو،تو آپ رضی اللہ عنہ کی جان بچ جائے گی ،لیکن اس بد بخت کو معلوم نہیں تھا کہ یہ نواسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام ہیں اور یہ معرکہ جو ہے اصل میں حق اور باطل کے درمیان کا ہےنہ کہ اقتدار کا۔اہل بیت پر پانی بند کرنے کے بعد آخر کار حق کی جیت ہوئی، جب امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء سمیت شہادت نوش فرمائیں تو اس وقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نماز کی حالت میں تھے۔
شان اہل بیت :
اللہ پاک نے اہل بیت کی شان میں ایک آیت جس کا ترجمہ یوں ہے "کہ اللہ پاک تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے(کنزالایمان)
حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والسلام نے فرمایا کہ اپنی اولادوں کو تین باتیں سکھاو ،پہلا:اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و السلام کی محبت۔دوسرا،اہل بیت کی محبت ۔تیسرا ،تلاوت قرآن پاک۔ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ’’میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ان میں سے پہلی تو اللہ پاک کی کتاب یعنی قرآن کریم کی ہے جس میں ہدایت اور نور ہے،تم قرآن کریم پر عمل کرو، اسے مضبوطی سے تھام لو ۔دوسرا، میرے اہل بیت ہیں اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا:کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ پاک کی یاد دلاتا ہوں‘‘۔
اہل بیت سے محبت:
حضور صلی اللہ علیہ و السلام نے فرمایا کہ اللہ پاک سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمت سے روزی دیتا ہے اور اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے کے لئے مجھ سے محبت کرو،اور میری محبت حاصل کرنے کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی ج۔۵۔ص۔۴۳۴۔حدیث نمبر ۳۸۱۴)
محب ِ اہل ِبیت شفاعت پائے گا:
فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و السلام ہے’’ ہمارے اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے تو اللہ پاک اسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے،کسی بندے کو اس کا عمل اسی صورت میں فائدہ دے گا جب کہ وہ ہمارا(یعنی میرا اور میرے اہل بیت کا) حق پہچانے۔(معجم اوسط ج۔ 1 ،ص۔606 ،حدیث 2230)
پیارے آقا صلی اللہ علیہ و السلام نے آخری حج میں عرفے کے دن اپنی اونٹنی 'قصواؔ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :’’اے لوگو!میں نے تم میں وہ چیز چھوڑ دی ہے کہ جب تک تم ان کو تھامے رہو گے، گمراہ نہ ہو گے،اللہ پاک کی کتاب یعنی (قرآن پاک) اور میری عترت یعنی (اہل بیت)‘‘۔
صحابہ و اہل بیت سے محبت کا بدلہ:
حضرت بشر حافی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و السلام نے ایک بار خواب میں تشریف لاکر مجھ سے ارشاد فرمایا:اے بشر! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پاک نے تمہیں اپنے زمانے کے اولیاء سے بلند مرتبہ کیوں عطا فرمایا؟ میں نے عرض کی:یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و السلام میں نہیں جانتا، تو آپ صلی اللہ علیہ و السلام نے ارشاد فرمایا "تم میری سنت پر عمل کرتے ہوئے اور نیک لوگوں کی خدمت کرتے ہواور اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی (یعنی انہیں نصیحت کرتے ہو) اور میرے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہو،یہی سبب ہے کہ جس نے تمہیں نیک لوگوں کی منزل تک پہنچا دیا ہے ‘‘۔
ان احادیث شریف کی روشنی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اہل بیت سے محبت کریں۔لیکن آج کل ہم اپنے معاملات میں بہت مگن ہوئے ہیں، ہم اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزار رہے ہیں۔ کاش ! ہم اپنی زندگی قرآن و حدیث کے مطابق گزارتے تو جو حالات اس وقت ہمارے ہیں، نہیں ہوتی۔ہمیں آج کل نماز اور صبر کا کچھ خیال ہی نہیں۔
جیسا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں شہید ہوکے یہ سبق دیا کہ کیسے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت نماز پڑھنے اور صبرکرنے والوں والوں کے ساتھ ہیں۔
ای میل۔[email protected]