ڈوڈہ //جموں و کشمیر ٹیچرس فورم نے کووڈ 19 کی مہلک وباء کے دوران تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایل جی انتظامیہ سے بی پی ایل زمرے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو انڈرائڈ فون دستیاب کرنے، اے ٹی ڈی کے تحت ماسٹر گریڈ و ٹیچروں کے لئے ٹرانسفر پالیسی لاگو کرنے ،نئے تعلیم زونوں کا قیام عمل میں لانے و دفاتر میں خالی پڑی کلریکل آسامیوں کو پر کرنے کا مطالبہ کیا ہے. ڈوڈہ گندوہ میں ٹیچر فورم کے ضلع چیئرمین الحاج غلام نبی وانی کی صدارت میں منعقد اجلاس میں چیف کوارڈی نیٹر جماعت علی آگاہ، صوبائی نائب صدر اسحاق رشید ملک سمیت مختلف زون سے آئے اساتذہ نے شرکت کی۔اس دوران جہاں اساتذہ کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا وہیں کوؤڈ 19 سے متواتر تعلیمی ادارے بند رہنے سے بچوں پر پڑے اثرات پر بھی غور خوض کیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکام نے اگر چہ تعلیمی نظام کو بحال رکھنے کے لئے کمیونٹی کلاسز کا اہتمام کیا تاہم بڑی تعداد میں ایسے بچے آن لائن پڑھنے سے قاصر رہے جن کے پاس انڈرائڈ فون و دیگر سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے کمشنر سیکرٹری و ناظم تعلیمات سے بی پی ایل زمرے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو انڈرائڈ فون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ بھی آن لائن کلاسز میں شامل ہو سکیں۔ انہوں نے ٹیچر سے ماسٹر، ماسٹر سے ہیڈ ماسٹر، غیر تدریسی عملہ، لائبریری و لیبارٹری اسسٹنٹ و درجہ چہارم کے تحت کام کر رہے ملازمین، سی پی ڈبلیو ورکرز کی ڈی پی سی عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے یہ فائلیں زیر التواء میں پڑی ہوئی ہیں۔ٹیچر فورم نے رہبر تعلیم ٹیچروں کو مستقل کرنے و این پی ایس کے تحت کام کر رہے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کی بھی مانگ کی۔اس دوران فورم کے چیف کوآڈینیٹر جماعت علی آگاہ نے یوم اساتذہ کے موقع پر ضلع و ہر زون میں حکومتی سطح پر تقریبات منانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے طلباء و اساتذہ کو اخلاقی فروغ و تعلیم کو پروان چڑھانے کے لئے ایک نئی تحریک مل سکے۔