سال 2011ء کی مردم شماری کے مطابق جموں کشمیر (بشمول لداخ) میں خواجہ سرائوں کی مجموعی تعداد4,137ہے۔ اگرچہ صوبائی سطحوں پر اس طبقے سے جڑے لوگوںسے متعلق مصدقہ اعداد و شمار میسر نہیں ہیں، لیکن واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ ان خواجہ سرائوں کی غالب اکثریت کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔
اطمینان کی بات یہ ہے کہ کشمیری معاشرے میں خواجہ سرائوں کو اُس طرح کے ناسازگار اور تکلیف دہ حالات درپیش نہیںہیں، جس طرح کے حالات کا سامنا اس طبقے سے جڑے لوگوں کو برصغیر کے دیگر خطوں میں کرنا پڑتا ہے۔بھارت اور پاکستان کے بعض علاقوں میں خواجہ سرائوں کوعام معاشرے سے اس حد تک الگ تھلگ کردیا گیا ہے، کہ لوگ اُن سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس کشمیری معاشرے میں خواجہ سرائوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا انسانی کردار نبھانے کے مواقعے فراہم ہیں۔ غالباً اس کا سبب یہاں موجود اسلامی تشخص کے ساتھ ساتھ مخصوص تمدنی اور تہذیبی روایات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر شادی بیاہ جیسے معاملات کے حوالے سے کشمیر ی خواجہ سرائوں کو عام لوگوں کے گھروں میں عزت و احترام کے ساتھ داخلہ ملنا ایک معمول کی بات ہے۔
لیکن اس کے باوجود واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے اوائل میں کووڈ وبا پھوٹنے کے ساتھ ہی سماج کے دیگر طبقات کی طرح خواجہ سرائوں کے معمولات زندگی بھی درہم برہم ہوکر رہ گے۔ خاص طور سے خواجہ سرائوں کے روزگار کے وسائل بُری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔
اس ضمن میں کشمیر یونیورسٹی کے سکالر اعجاز احمد بندھ ، جو سالہال سے کشمیری خواجہ سرائوں کی بہبود کے لئے کام کررہے ہیں ، نے اس نمائندے کو بتایا کہ کووڈ وبا کے دوران خواجہ سراوں کے روز گار کے روایتی وسائل چھین لئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’ کشمیر کا میریج مارکیٹ خواجہ سرائوں کی آمدن کا بہت بڑا روایتی ذریعہ رہا ہے۔ عام طور سے یہ لوگ رشتے طے کرانے میں درمیانہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ جبکہ بعض شادیوں کی تقریبات پر ناچ نغموں کی محفلوں میں اپنا روزگار کماتے ہیں اور ان میں کچھ بطور میک اپ آرٹسٹ بھی اپنا روزگار کماتے رہے ہیں۔ ‘‘ اُن کا کہنا ہے، ’’ شادیوں کے حوالے سے خواجہ سرائوں کو لوگوں کے گھروں تک بے جھجک رسائی حاصل رہتی ہے اور یہ اُن کی آمدن کا ایک اہم ذریعہ بھی رہا ہے۔ لیکن گزشتہ دو سال سے کووڈ کی وجہ سے شادیوں کی تقریبات بہت ہی محدود پیمانے پر ہورہی ہیں، اس لئے خواجہ سرائوں کا روزگار بھی متاثر ہوگیا۔ ‘‘
لالی جان نامی ایک خواجہ سرا نے اس نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے غربت نے ہمارے گھروں نے فاقہ کشی کی نوبت پیدا کردی ہے۔ ہمارے پہلے روز گار ہم سے چھن گئے ہیں اورنئے روزگار کے مواقعہ میسر نہیں ہیں۔ ہماری حالت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا، ’’ بدقسمتی سے ہمارے طبقے سے وابستہ اکثر لوگ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی روز گار کے مواقعے ہمارے لئے محدود ہیں۔ اگست 2019ء کے بعد پیدا شدہ حالات بالخصوص کووڈ لاک ڈاو ن کی وجہ سے ہماری حالت بہت ابتر ہوگئی ہے۔ ہم میں سے بعض لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسرنہیں ہے۔ دوسری جانب عام لوگوں کے مقابلے میں ہمیں ہمہ وقت مستقبل کی فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر گھروں سے نکالے گئے لوگ ہیں۔ جو اپنوں کے دھتکارے ہوئے ہوں، وہ بھلا غیروں سے کیا اُمید رکھ سکتے ہیں۔‘‘
اعجاز احمدبندھ ، کشمیرمیں خواجہ سرائوں کی بہبود کیلئے ’’سونزل ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ بھی چلارہے ہیں۔ اُنہوںنے خواجہ سرائوں کے حقوق کی بحالی کیلئے جموں کشمیر ہائی کورٹ میں دو عرضداشتیں بھی پیش کی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’ ہمارے نے عدالت عالیہ سے گزارش کی ہے کہ آئین کی رو سے خواجہ سراوں کو حاصل تمام حقوق کو نافذ کرانے کے احکامات دیئے جائیں ، کیونکہ یہاں اُنہیں وہ حقوق میسر نہیں ہیں، جو اُنہیں قانونی اور آئینی لحاظ سے حاصل ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا، ’’ کووڈ کے دوران پیدا شدہ مسائل کے حوالے سے بھی ہم نے عدالت عالیہ میں ایک درخواست پیش کی ہے، جس میں التجا کی گئی ہے کہ خواجہ سرائوں کے روزگار اور دیگر مسائل، جو کوووڈ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، کا فوری ازالہ کرانے کیلئے حکومت کو احکامت دیئے جائیں۔‘‘ تاہم اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ یہاں انصاف کے حصول میں تاخیر ہورہی ہے اور اس دوران خواجہ سرائوں کا طبقہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ متاثر ہورہا ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ مجھے یقین ہے کہ عدالت خواجہ سرائوں کو حقوق اور امداد فراہم کرانے کے حق میں فیصلہ دے گی لیکن اس کارروائی میں ہورہی تاخیر تکلیف دہ ہے۔ ‘‘
سرینگر شہر سے تعلق رکھنے والے ایک خواجہ سرا ریشما نے اس نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے اُنہیں اور اُن کے ہم جنس لوگوں کو درپیش مسائل کی تفصیلات بتادیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’ کووڈ کی وبا پھوٹنے کے ساتھ ہی ہمارا گھروں سے نکلنا محال ہوگیا۔ پہلے ہم جس کے گھر میں جانا چاہتے ، بلا روک ٹوک جاسکتے تھے۔ لیکن کووڈ پھیلنے کے ساتھ ہی لوگوں نے ہمیں دُھتکارنا شروع کردیا۔ مجھے خود کئی گھروں کے دروازوں سے واپس لوٹنا پڑا۔ پہلے جو لوگ اپنے بچوں کے لئے رشتے تلاش کرانے کے مقصد سے ہنسی خوشی ہمیں اپنے گھروں میں بلاتے تھے، اب وہی ہمیں قریب بھی آنے نہیں دیتے۔ اُنہیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری وجہ سے وہ کووڈ کا شکار نہ ہوں۔ ‘‘اُنہوں نے مزید کہا ، ’’ ہمارے طبقے سے جڑے بہت سارے لوگ بطور میک اپ آرٹسٹ کام کرتے تھے۔ اُن کا کام بھی وبا کی وجہ سے ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔‘‘
اعجاز کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اپنی تنظیم کی وساطت سے بارہا انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ خواجہ سرائوں کو روزگار کے مختلف وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کے لائق بنانے کے لئے اُنہیں تربیتی پروگرامز میں شامل کرائیں۔ لیکن ان کی گزارشات پر تاحال کوئی دھیان نہیں دیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’چونکہ ہمارے یہاں خواجہ سرائوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، اس لئے اگر حکومت چاہیے تو اُنہیں مختلف سرکاری اور نجی شعبوں میں ایڈجسٹ کراسکتی ہے۔ بس اس کے لئے اُن کی سکل ڈیولپمنٹ ٹرینگ کرانے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ اُنہوں نے مزید کہا، ’’ چونکہ گیت سنگیت کے حوالے سے ہمارا کلچر مالا مال ہے، اس لئے اس شعبے میں مناسب تربیت کے ذریعے سیکڑوں لوگوں کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا روز گار بہتر طریقے سے حاصل کرسکیں اور اُنہیں کسی کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا۔‘‘
خواجہ سرائوں کو درپیش مشکلات سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار اُنہیں بعض لوگوں کی جانب ذلت آمیز رویہ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سائیکلوجسٹ اور مینٹل ہیلتھ کونسلر لیلا قریشی نے اس نمائندے کو بتایا، ’’ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران میرے پاس اس طبقے سے وابستہ کئی لوگ ( خواجہ سرا) آگئے ہیں ۔ ان میں بعض نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ اُنہیں بعض اوقات لوگوں کے بدترین رویوں سے جوجھنا پڑتا ہے۔ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ان لوگوں کو بسا اوقات سڑکوں پر چھیڑ چھاڑ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کے ہنسی مذاق کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔‘‘ قریشی کا مزیدکہنا ہے کہ ’’حد یہ ہے کہ بعض خواجہ سرائوں کو خود اُن کے اپنے گھروں میں بھی دھتکار سہنی پڑتی ہے۔ حالانکہ ان کی جسمانی ساخت یا حیاتیاتی زندگی اُن کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہے۔ پتہ نہیں بعض لوگ یہ بات کیوںنہیں سمجھتے کہ خواجہ سرا بھی پروردگار کی تخلیق ہیں اور اُنہیں بھی اس معاشرے میں عزت اور احترام کی زندگی جینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے، جتنا کسی اور کو ہے۔‘‘ اُن کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس ضمن میں ایک اصلاحی فکر عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے سما ج میں موجود خواجہ سراوں کو بلا وجہ تکلیف دہ زندگی نہ گزانی پڑے۔
صاف ظاہر ہے کہ وادی میں خواجہ سراوں کو درپیش مشکلات ایک سماجی مسئلہ ہے ، جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سماجی سطح پر کئی اقدامات کئے جاسکتے ہیں، لیکن اگر حکومت چاہیے تو اپنے لامحدود وسائل کو بروکار لاتے ہوئے اس چھوٹے طبقے کو ان تمام مشکلات سے یکسر چھٹکارا دلاسکتی ہے۔ اس ضمن میں سماج کے موثر طبقات کی جانب سے خواجہ سرائوں کے حقوق کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
(قلمکار لاڈلی میڈیا فیلو 2021ہیں۔آراء اُن کی خالصتاً ذاتی ہیں اور لاڈلی و یو این ایف پی اے کا ان سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے)