کشتواڑ//26اگست کو احتجاج کررہے کانگریس کے کارکنان پر پولیس نے بس اسٹینڈ میں لاٹھی چارج کیا جب وہ مرکزی سرکار کی جانب سے سرکاری محکموں کو پرائیوٹ کمپنیوں کو فروخت کرنے پر احتجاج کررہے تھے ۔اس دوران کئی لیڈران کو حراست میں لیا گیا جن میں پارٹی کے ریاستی ترجمان، ضلع یوتھ نایب صدر تارق زرگرسمیت دیگر کو شدید چوٹیں آئیں جسکے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا وہیں آج کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے کشتواڑ میں پولیس کی جانب سے احتجاج کررہے کارکنان پر لاٹھی چارج کرنے پر کشتواڑ میں احتجاج کرنے کی غرض سے آئے تھے جس میں کانگرس کے صدر غلام احمد میر،جنرل سیکریٹری و سابق وزیر عبدالمجید وانی و دیگران کو پولیس نے ٹھاٹھری میںرو کااور انھیں کشتواڑ آنے کی اجازت نہ دی گئی ۔ بعد دوپہر دوبارہ کانگریس کے کارکنان نے ڈاک بنگلو چوک میں احتجاج کیا اور مرکزی سرکار کے خلاف جم کرنعرے بازی کی۔اس موقعہ پر پارٹی کے ترجمان نے کہاکہ وہ کل پر امن احتجاج کررہے تھے جس دوران پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور ہمیں رات بھر پولیس تھانے میں بند رکھا گیااور دیر رات ہسپتال لیجایاگیا ۔انھوں نے کہا کہ وہ پرامن طور احتجاج کررہے تھے لیکن پولیس نے بلاجواز ان پر لاٹھیا ں برسائیں۔اس دوران جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے جمعہ کے روز اپنے پارٹی صدر اور جنرل سکریٹری کو کشتواڑ میں زخمی نوجوان کانگریس کارکنوں سے ملنے کی اجازت نہ دینے کے حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی۔ میر کو سمتھن ٹاپ کے قریب آلو فارم میں حراست میں لیا گیا جبکہ عبدالمجید وانی کو ٹھاٹھری میں حراست میں لیا گیا۔پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے سینئر لیڈروں اور سابق قانون سازوں نے جے کے پی سی سی کے صدر غلام احمد میر و جنرل سیکریٹری عبدل مجید وانی کو حراست میں لینے کے حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی ہے ۔بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کو زخمیوں سے ان کی صحت اور ان کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے کشتواڑ کا دورہ کرنا تھالیکن حکومت کا ایسا بے رحمانہ رویہ کانگریس پارٹی کو عوام دشمن اور مرکز کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں روک سکے گا ، بلکہ اس سے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پرامن طریقے سے لڑنے کے ان کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔جے کے پی سی سی نے ریاستی انتظامیہ کی کشتواڑ میں زخمی نوجوان کارکنوں سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کی ذہنیت ناقابل قبول ہے ۔
یوتھ کانگریس کارکنوں پر کشتواڑ میں لاٹھی چارج
مجید وانی نے کی مذمت، کشتواڑ جانے سے روکاگیا
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //سابق وزیر و کانگریس جنرل سیکرٹری عبد المجید وانی نے گذشتہ روز کشتواڑ میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں پر کئے گئے پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری عمل کے تحت عوامی مسائل کو لے کر پر امن احتجاج کررہے تھے جس دوران ان پر تشدد کیا گیا۔وانی یوتھ کانگریس کارکنوں کی حمائت میں جمعہ کے روز کشتواڑ کی طرف روانہ ہوئے تاہم پولیس نے انہیں ٹھاٹھری کے مقام پر روکا اور وہیں سے واپس کیا۔ڈاک بنگلہ ٹھاٹھری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وانی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ایم ایل اے اور وزیر رہ چکے ہیں اور میں کبھی قانون کے خلاف بات نہیں کر تا لیکن جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔کانگریس جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ان کو کشتواڑ جانے کا مقصد یوتھ کانگریس کارکنوں سے ہمدردی کا اظہار کرنا تھا لیکن انتظامیہ نے انہیں وہاں پہنچنے نہیں دیا۔ وانی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اور بے روزگاری و مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔