سرینگر // قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے ہفتہ کو کہا ہے کہ اس نے 7 جنگجوئوں کومنشیات سے متعلق ایک کیس میں فرد جرم عائدکیا ۔ بیان میں ، این آئی اے نے کہا کہ 27 اگست کو 7گرفتار ملزمان کے خلاف این آئی اے کی خصوصی عدالت جموں میں انسداد منشیات اور تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت ضمنی چارج شیٹ دائرکیا گیا ، جن میں شوکت سلام پرے ولد عبدالاسلام پرے ساکن پرے محلہ سمبل ، آصف گل ولد غلام محمد ساکن کانسپورہ بارہمولہ ، الطاف احمد شاہ ولد محمد افضل شاہ ساکن ڈانگر پورہ گاندربل ، رمیش کمار ولد تھورو رام ساکن وجے پور سانبہ ، مدثر احمد ڈار ولد غلام محمد ڈار ساکن ونڈونا شوپیاں ، امین الٰہی عرف ہلال میر ولد حاجی غلام محی الدین ساکن سنگم ، اور عبدالرشید ولد محمد عبداللہ ساکن امروہی ٹنگڈارکپواڑہ شامل ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مقدمہ ابتدائی طور پر تھانہ ہندواڑہ میں ایک کیس زیر نمبر ایف آئی آر نمبر۔ 183/2020 محررہ11جون2020کے تحت درج کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کائروبرج ، ہندواڑہ میں گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران ملزم عبدالمومن پیر کو پولیس ناکہ پارٹی نے اس وقت روک لیا جب وہ بارہمولہ سے اپنی ہنڈائی کریٹا گاڑی میں ہندوارہ آرہا تھا۔ تلاشی کے دوران20لاکھ روپے نقد ی اور 2 کلو ہیروئن برآمد اور ضبط کی گئی۔ بیان کے مطابق عبدالمومن پیر سے مزید پوچھ گچھ کے نتیجے میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی 15 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ اس سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے سر نو 26 جون2020کو ایک کیس درج کیا اور تحقیقات کا چارج بھی سنبھالا۔ترجمان نے مزید کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 7 ملزمان کالعدم جنگجو تنظیموں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے کارکنوں کے ساتھ قریبی تعاون کرکے منشیات کی خرید و فروخت اور جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں سے فنڈ جمع کرنے کی ایک گہری سازش کا حصہ تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جمع شدہ فنڈس کو زیر زمین کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے جموں و کشمیر میں جنگجویانہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ این آئی نے اس سے قبل5دسمبر2020کو6ملزمان کے خلاف فرد جرم پیش کیا تھا۔ بیان کے مطابق کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔