سرینگر// سرکار جموں کشمیر میں ممکنہ طور پر ریاستی غذائی کمیشن(سٹیٹ فوڈ کمیشن) کا قیام عمل میں لانے جارہی ہے اور کسی نیم خود مختار کمیشن کو فوڈ کمیشن کے اختیارات سونپنے کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔ حکومت کی جانب سے قومی غذائی سلامتی ضوابط2021کا مسودہ محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے مشاورت کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے،اور اس کو حتمی شکل دینے سے قبل عوامی رائے اور آرا کے علاوہ تجاویز جاننے کیلئے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ قومی غذائی سلامتی قانون(نفسا) کے دفعہ40 کے مطابق’’ ریاستی حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے اور سابق اشاعت کی شرط سے مشروط اور اس ایکٹ سے مطابقت رکھنے کے علاوہ مرکزی حکومت کے بنائے گئے قوانین کی دفعات پر عمل کرنے کے لیے قواعد بناسکتی ہے‘‘۔اس مسودے میں جموں کشمیر میں غذائی کمیشن کے قیام کو ممکنہ طور پر عمل میں لانے کی طرف بھی اشارہ دیا گیا ہے۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس کمیشن کیلئے چیئر پرسن اور ممبران کیلئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تلاش کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی۔جبکہ سرچ کمیٹی میں انتظامی سیکریٹری محکمہ شہری رسدات و امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے علاوہ محکمہ قانون انصاف و پارلیمانی امور کے انتظامی سیکریٹری بھی ممبر ہونگے۔ مسودے کے مطابق تلاش کمیٹی سرکار کو اس سلسلے میں معقول ناموں کی سفارش کرے گی۔ مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئر پرسن اور ممبران کی تقرری3برسوں کیلئے ہوگی،جبکہ سرکار اس ممکنہ کمیشن کیلئے درکار معقول عملے کو فراہم کرے گی۔ مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیشن کو ضلع شکایتی ازالہ افسر کے احکامات کے خلاف عرضی کی شنوائی کا اختیار ہوگا،جبکہ سرکار کی جانب سے اس قانون سے متعلق پالیسی فیصلوں کی عدم تعمیلی کے وجوہات کا معائنہ بھی کرسکتی ہے۔ سرکار کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے اس مسودے کے مطابق یہ کمیشن سرکار کے تعاون سے اس قانون کے تحت فوائد سے متعلق جانکاری کیمپوں کا انعقاد کرنے کے علاوہ شکایتوں کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات کو بھی وضع کرے گی۔