خلوت سے جلوت کا سفر :
حضرت امام غزالی اسی طرح خلوت نشین ہو کر ریاضت و مجاہدات بجا لاتے ہوئے روحانی لذت سے لبریز اور سکون و اطمینان کی زندگی گزارنا چاہتے تھے لیکن اللہ سبحان تعالی کو کچھ اور منظور تھا اور اپنے اس محبوب بندے سے اشاعت دین کا عظیم الشان کام لیناتھا اس لیے یہ امر ضروری تھا کہ وہ خلوت سے جلوت کی طرف سفر کریں اور درس تدریس ، تالیف و تصنیف اور معاشرے میں لوگوں کے ساتھ رہیں تاکہ خلق خدا کو فائدہ پہنچے۔ حضرت امام غزالی کو بیابان نوردی کی طرف جس چیز نے راضی کیا تھا وہ تحقیق حق اور تسکین قلب کی خواہش تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ سلوک کے سفر میں کثرتِ ریاضت و مجاہدات نے قلب اس طرح صاف کیا کہ تمام حجاب اُٹھ گئے اور وہ تمام شکوک و شبہات جو ذہن پر سوار رہتے تھے ایک ایک کرکے ختم ہوئے۔ تسکین قلب اور انکشاف حق کے بعد آپ نے دیکھا کہ لوگ مذہب سے متزلزل ہو رہے ہیں۔خلوت سے جلوت میں آنے کا سبب تحریر کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا فلسفے کے اثرات سے بہت سے مدعیان تصوف گمراہ اور بے عمل علماء اور متکلمین کی غلط اور کمزور نمائندگی کی وجہ سے لوگوں کا ایمان متزلزل ہو چکا ہے۔ اللہ تعالی نے سلطان وقت کے دل میں خود ہی تحریک پیدا کر دی ۔اُس نے مجھے اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تاکیدی حکم نامہ جاری کیا۔ اس حکم نامے میں اس قدر سختی تھی کہ انکار کی کوئی صورت باقی نہیں بچتی تھی ۔اور یوں امام غزالی ماہ ذوالقعدہ 499 ھ کو 11 سالہ عزلت پوری کرکے نیشاپور میں مدرسہ نظامیہ میں درس و تدریس میں مشغول ہوئے۔ حضر ت امام غزالی عزلت ترک کرکے مدرسہ نظامیہ نیشاپور کے سفر کے حوالے سے المنقذ من الضلال اور مکاتب غزالی میں لکھتے ہیں کہ بادشاہ اور وزیر کے اصرار کے علاوہ مجھےعالم خواب اور حالت بیداری میں ہدایت ہوئی تھی کہ اہلیان نیشاپور کی ہدایت کے لیے رختِ سفر باندھ لے۔
تیسرا دور طوس میں مستقل قیام، خانقاہ اور مسجد کی تعمیر، حاکم بغداد کا خط اور اُس کا جواب۔
ابھی امام غزالی کو مدرسہ نظامیہ نیشاپور آئے ہوئے کچھ ہی عرصے گزرا تھا کہ ایک باطنیہ کے ہاتھوں فخر الملک شہید ہو گئے۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد آپ نے مدرسہ نظامیہ نیشاپور سے کنارہ کشی اختیار کی۔ دیدارِ وطن کے شوق اور اہل خانہ کی یاد کے جذبے میں واپس آبائی وطن طوس آنے پر مجبور ہوئے۔ یہاں طوس میں گھر کے قریب صوفیاء کے لیے ایک خانقاہ اور طلبہ کے لیے ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی ۔ طوس میں قیام کے دوران جہاں آپ کی قدر و منزلت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا وہیں حاسدین کا ایک گروہ مخالفت میں کمربستہ ہوگیا ، حاسدین کےاس گروہ نے فرمانروا سلطان سنجر کو شکایت کی تو اُنھوں نے امام غزالی کو طلب کیا۔آپ نے مقام خلیل پر عہد کیا تھا کہ کسی بادشاہ کے دربار میں نہیں جائیں گےلیکن فرمان شاہی کا لحاظ رکھتے ہوئے مشہدتک گئے وہاں سے سلطان کو خط لکھا۔ پھر سلطان کے دربار کی بجائے لشکر گاہ پر ملاقات ہوئی۔
مدرسہ نظامیہ بغداد میں دو بارہ تعنیاتی کے لیے کوششیں، بادشاہ کا خط اور اس کا جواب :
امام غزالی کی طوس میں قیام پذیری کے دوران اُن کے ایک اہم درسی ساتھی ابوالحسن کیائی مدرسہ نظامیہ بغداد کے مدرس اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ 504ھ کے اوائل میں ابوالحسن کیائی کا انتقال ہوا تو پھر امام غزالی کو نظامیہ بغداد لانے کی کوششیں تیز ہوئیں۔ خلیفہ عباسی المستظہر باللہ اور بادشاہ عراق سلطان محمد اور اُس کے بھائی سنجر بن ملک شاہ جو اُس وقت فرمان روائے خراسان تھے سب نے بالاتفاق اس منصب کے لیے امام غزالی کو موزوں قرار دیا۔ اس سلسلے میں آپ کو کئی خطوط لکھے گئے۔ سلجوقی بادشاہ سلطان محمد نے ایک خط صدرِ خراسان صدر الدین محمد کو تحریر کیا جس میں درخواست کی کہ کسی بھی صورت امام غزالی پر زور دیں اور صدرالدین محمد خود بھی امام غزالی کے نام الگ سے تاکیدی خط لکھیں اُس خط کا متن کچھ اس طرح سے ہے کہ غزالی سے اُن کا حال معلوم کیاجائے تاکہ بغیر توقف وہ اس کام کو انجام دے سکیں ۔ اُنہیں کسی طرح آمادہ کیا جائے۔ مدرسہ نظامیہ میں کرسیِ تدریس خالی ہونے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ امام غزالی ہی پُر کر سکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت امام غزالی نے بادشاہ سلطان محمد سے معذرت کی اور اُن کے خطوط اور فرامین کے جواب میں ایک تفصیلی خط لکھا جس میں بغداد نہ آنے کی مجبوریاں لکھیں۔ جب امام غزالی کی طرف سے مایوسی ہوئی تو بادشاہ نے امام ابوبکر شاشی کو مدرس اعظم کی ذمہ داری سونپ دی۔ امام غزالی کے بادشاہ کے نام لکھے گئے خط کے جواب میں سے کچھ اہم نکتے یوں تھے کہ یہاں طوس میں اس وقت 150 طلبہ میرے پاس زیر تعلیم ہیں یہ لوگ بغداد جانے کی سکت نہیں رکھتے، بغداد میں پہلے میں اکیلا تھا اب میرے اہل وعیال اور بچے ہیں یہ لوگ ترک وطن کی زحمت نہیں اٹھا سکتے۔ میں نے مقام ابراہیم پر عہد کیا تھا کہ کبھی مناظرہ و مباحثہ نہیں کروں گا بغداد میں مناظرہ اور مباحثہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس کے علاوہ دربار خلافت میں سلام کرنے کےلیے حاضر ہونا لازم ہے اور میں اس کو گوارہ نہیں کرتا۔ میں وظیفہ اور عطیہ بھی قبول نہیں کر سکتا بغداد میں میری کوئی جائیداد نہیں ہے۔ وفات مدرسہ نظامیہ بغداد کے حوالے سے معذرت نامہ ضیاء الملک کے نام جب لکھا تھا اُس وقت آپ کی عمر 54 سال کو پہنچی تھی۔ بالاآخر505ھ کو آبائی وطن طوس کے مقام طاہران میں وفات پا گئے اور وہیں مدفون ہوئے۔
آخری آرام گاہ طوس میں ہونے کی دلیل تاریخ اور صوفیا کے آراء کی روشنی میں :
1۔امام غزالی کی خو د نوشت کتاب المنقذ من الضلال ،جو آپ نے آخری عمر میں تصنیف کی ،کے مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ نیشاپور مدرسہ نظامیہ سے طوس تشریف لانے کے بعد آپ دوبارہ بغداد نہیں گئے۔ بغداد نہ جانے کی وجوہات آپ کے مکاتیب کے مطالعہ سے سمجھ میں آتی ہیں۔
2۔ امام ابن جوزی متوفی 597ھ نے الثبات عند الممات میں امام غزالی کے چھوٹے بھائی شیخ احمد غزالی سے نقل کیا ہے کہ میرے بھائی ابو حامد نے دوشبنہ کے دن صبح کے وقت وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔ پھر کفن مانگا اور کفن کو بوسہ کیا اور ارشاد فرمایا بسرو چشم۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے اورجان جان آفرین کو سپرد کردی۔
3۔سلسلہ ہمدانیہ نوربخشیہ کے سرخیل میر سید محمد نوربخش قہستانی متوفی 869ھ سلسلۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں کہ آپ(یعنی امام غزالیؒ) اکابر اولیاء ، اعیان مرشدین ، اعظم علماء اور کبار مجتہدین میں سے ہیں۔ شریعت ، طریقت، حقیقت اور حکمت کے تمام علوم و فنون میں کامل مہارت والے زبردست عالم تھے۔ جامعیت کے حوالے سے یکتائے روزگار ولی اور نابغہ زمانہ عالم تھے۔ امت مسلمہ میں آپ کی کوئی مثال نہیں۔ 505ھ بمقام طاہران طوس میں وفات ہوئی۔
4۔ طبقات الشافعیہ کے مولف تاج الدین سبکی کےزمانے یعنی ساتویں صدی ہجری تک طاہران طوس میں امام غزالی کا شاندار مقبرہ زیارت گاہ عام بنا ہوا تھا۔
5۔ابوسعد سمعانی متوفی 562ھ لکھتے ہیں کہ میں نے قصبہ طاہران طوس میں امام غزالی کی قبر کی زیارت کی ۔
6۔امام غزالی کی سوانح پر سب سے مستند اور شاندار کتاب غزالی نامہ میں جلال الدین ہمائی نے بھی آپ کا جائے مدفن طاہران طوس لکھا ہے۔
7۔ علامہ شبلی نعمانی نے الغزلی میں اور سید ممتاز علی نے اپنے مقدمے میں امام غزالی کامزار طوس ایران میں لکھا ہے۔ان دونوں جلیل القدر محقیقین کی تصدیق سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب امام غزالی میں کی ہے۔
8۔ نصیحت نامہ امام غزالی کے مقدمے میں پروفیسربھگو دیال ورما نے بھی امام غزالی کے جائے مدفن طاہران طوس لکھا ہے۔
9۔مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے ملفوظات میں صاحبِ لطائف اشرفی حضرت امام غزالی کے مناقب میں لکھتے ہیں کہ آپ نے شہر طوس دوشنبہ 14جماالآخر 505میں وفات پائی۔
امام غزالی اور ابوالقاسم طوسی فردوسی :
امام غزالی اورابوالقاسم فردوسی طوسی ہم وطن تھےاور دونوں اپنے آبائی وطن طوس میں اسودہ خاک ہوئے۔ دونوں کے مراقد کے درمیان فقط ایک یا دو کلومیٹرکا فاصلہ ہے سڑک کے دائیں جانب ایک وسیع و عریض پارک میں جہاں انواع و اقسام کے پھول، فوارے اور پارک کے عین وسط میں خوبصورت قیمتی پتھروں سے مزئین عمارت، خطاطی کے خوبصورت فن پاروں اور سنہری مچھلیوں کے مچھلی گھر سے سجائے ابواالقاسم فردوسی کا مزار مرجع خلائق ہے ، مزار پرہروقت لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ یہاں داخلے کی فیس ہے بلکہ راقم نےدیکھا غیر ملکیوں کے لیے ٹکٹ علیحدہ ہے جو قیمت میں مقامی لوگوں سے ڈبل ہے۔ سڑک کے اُس پار تن تنہا بے آب و گیاہ صحرا میں چاروں طرف خار دار آہنی تاروں کے درمیان چند ستونوں پر رکھے ہوئے ایلومنیم کی چھت تلے وقت کے عظیم امام شیخ الاسلام ابو حامد غزالی آسودہ خاک ہیں۔مزار کی خستہ حالی اور دروازے پر زنگ قفل بتا رہی ہے کہ دہائیوں سے ایرانی سرکار اور محکمہ آثار قدیمہ کے کسی افسر نے اس طرف توجہ کرنے کی زحمت نہیں کی ہے البتہ محکمہ آثار قدیمہ کا سائن بورڈ جس پر امام غزالی کے مختصر کوائف درج ہیں، دور سے دکھائی دیتے ہیں۔ستم ظریفی تویہ ہے کہ ایک طرف ابوالقاسم فردوسی کا شایان شان مقبرہ جس کی دیکھ بھال ایران سرکار خودکرتی ہو دوسری جانب اُسی مردم خیز سرزمین کا سرتاج جہنوں نے تاریخ اسلامی میں ایک نئے عہد کو جنم دیا ۔ زمانہ اُس عظیم ہستی کو امام غزالی طوسی کے نام سے جانتا ہے۔ اُن کے بوسیدہ مرقد کی حالت زار بتارہی ہے کہ اہل طوس نے اُن کے ساتھ وفا نہیں کی۔ راقم نے دیکھا اُس عظیم ہستی کے مزار پر نہ کوئی چوکیدار ہے اور نہ زائرین کے لیے مرقد کے قریب زیارت کاکوئی ذریعہ ۔ چاروں اطراف خاردار آہنی دیواریں پکار رہی تھیں کہ کوئی ہے جو تعمیر نو کی سبیل کے لیے آواز بلند کرے۔راقم کی خوش بختی ہے کہ ایک چرواہے کا وہاں سے گزر ہوا اُس نے اپنی کلہاڑی سے راستہ بنا کر راقم کو مرقد انوار تک جانے کاموقع فراہم کیا۔ایرانی سرکار دنیا بھر کے اُن شعراء حضرات ، جنہوں نے فارسی ادب پر کام کئے ہیں، کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ اُن کے نام پر سیمینار اور مختلف یونیورسٹیوں میں پروگراموں پر سالانہ کروڑوں خرچ کرتی ہے ۔راقم ایک بار تاجکستان میں حضرت شاہ ہمدان کے روضہ پر پہنچا تو معلوم ہوا اُن کے مزار کی تعمیر نو میں ایرانی حکومت نے بہت مدد کی ہے۔ ایرانی حکومت کو چاہئے کہ اگر سیاسی و نظریاتی اختلافات درمیان میں حائل ہیں تو اُن تمام باتوں کو بالائے طاق رکھ کر حضرت امام غزالی کے مرقد کی تعمیر نو پر بھی توجہ دے۔ یہ مرقد آپ کے اپنے ملک میں ہے۔اہل فارس پر امام غزالی کا بھی بہت احسان ہے۔ سرزمین ایران کو جہاں ابوالقاسم فردوسی طوسی نے شعرو سخن اور اُن کی شہرہ آفاق کتاب شاہنامہ فردوسی سے ایک پہچان ملی ہے وہیں فکرِ غزالی اور اُن کے لازوال علمی خدمات سے دنیا ئے عالم میں ایران کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام غزالی کا بھی اس آب و خاک پر اُتناہی حق ہے جتنا ابوالقاسم فردوسی طوسی کا ہے ۔امام غزالی کے عقیدت مندوں اور پرستاروں کو بھی اس حوالے سے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔ساتھ ساتھ اربابِ اختیار بھی امام غزالی جیسی عظیم شخصیت کے مزار کی تعمیر نو کےسلسلے میں اپناسفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں۔
اسٹاک ہوم سویڈین