سرینگر+کپوارہ+بارہمولہ// وادی میں پیر کے روز 'جنم اشٹمی' کے تہوار کے موقعہ پر سرینگر میں ہندوارہ میں کشمیری پنڈتوں نے جھانکیا ں نکالیں،جس میں اکثریتی فرقے نے انکا بھر پور ساتھ دیا۔کرشنا جنم اشٹمی ہندوؤں کا ایک سالانہ تہوار جو آٹھویں اوتار کرشن بھگوان کے جنم دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ سرینگر کے مندروں میں پیر کی صبح سے ہی عقیدت مند آتے رہے۔ پنڈت برادری سے وابستہ عقیدت مندوں نے گنپت یار حبہ کدل مندر سے2برس بعد امسال 'شوبھا یاترا' نکالی۔یہ یاترا زیندار محلے سے برآمد ہو کر حبہ کدل، بسنت باغ، بربر شاہ، ریگل چوک، گھنٹہ گھر اور جہانگیر چوک سے ہوتے ہوئے واپس زیندار محلے میں اختتام پذیر ہوئی۔حکام نے یاترا کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے ۔اس موقع پر کشمیری پنڈت لیڈر ایم کے یوگی نے نامہ نگاروں کو بتایا’’میں اپنی اکثریتی کیمونٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کے تعاون کے بغیر اس جھانکی کو نکالنا ناممکن تھا‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’ہم پورے ملک کو یہاں کا بھائی چارہ دیکھ کر پیغام بھیجنا چاہتے ہیں کہ ایسے پروگرام ہوتے رہیں گے ‘‘۔ادھرہندوارہ علاقہ میں جنم اشٹمی کے موقع پر کشمیری پنڈتو ں نے ہندوارہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا ،جسمیں مسلم بر داری نے ان کا ساتھ دیا ۔3دہائیو ں کے بعد ہندوارہ کپوارہ میں اس وقت1989کی یادیں تازہ ہوئی جب کشمیری پنڈتو ں کی ایک بڑی تعداد نے جنم اشٹمی کے موقع پر کرشن بھگوان کی جھانکی نکالی۔پیر کی صبح کو کشمیری پنڈت ہندوارہ کے شیو مندر پہنچ گئے جہا ں انہو ں نے پوجا پاٹھ کی۔اس کے بعد کشمیر پنڈتو ں نے شیو مندر سے گنشین مندر تک جھانکی نکالی جس میں مسلم برادری نے بھائی چارے کی مثال قائم کر کے کشمیری پنڈتو ں کا بھر پور ساتھ دیا ۔جھانکی کیلئے ایک ٹریکٹر کا استعمال کیا گیا۔کشمیر پنڈتو ں کا کہنا تھا کہ ہندوارہ میں پر امن حالات کو دیکھ کر ایک مثال کو زندہ کرتے ہوئے 31سال کے بعد جم اشٹمی کے موقع پر بھگوان کرشن کی جھانکی نکالی گئی۔ٹریکٹر کو پھول کی مالاوئں سے سجایا گیا تھا ۔کشمیر پنڈتو ں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر کشمیری مسلم خواتین نے ان پر مٹھائیا ں نچھاور کیں اور گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔بارہمولہ ٹائون میں کشمیری پنڈتوں نے ویر ون کالونی مندر سے جھانکی نکالی اور راستے میں ہندئوں عقیدت مندوں نے بجھن کیرتن کیساتھ ساتھ کرشن بھگوان کے نعرے لگائے۔ جھانکی کا کاروان تاریخی تاشقند چوک سے ہوتے ہوئے رگھو ناتھ مندر مین چوک بارہمولہ میں اختتام پذیر ہوئی۔اس موقعہ پر راکیش پنڈتا اور اشونی کمار نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے مقدس تہوار پر کشمیری مسلم برادری نے جو والہانہ استقبال کیا وہ ان فرقہ پرست قوتوں کیلئے طمانچہ ہے جو مذہبی ففرقہ پرستی کے بیج بو کر یہاں کے صدیوں پرانے بھائی چارہ کو زک پہنچا رہے ہیں۔