اننت ناگ اوراوڑی میں قومی یومِ اساتذہ منایا گیا | ڈاکٹر پیوش سنگلاکا اساتذہ اور طلبہ کا رشتہ مستحکم کرنے پر زور
اننت ناگ+اوڑی (ظفر اقبال)//اننت ناگ میں قومی یوم اَساتذہ اِنتہائی جوش و خروش سے منایا گیا۔اِس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول رانی باغ میںمرکزی تقریب منعقد ہوئی ۔ اِس تقری پر ضلع ترقیاتی کمشنرڈاکٹر پیوش سنگلا مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ تقریب میں جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن سائوتھ، چیف ایجوکیشن آفیسر ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پلاننگ آفیسر ، پرنسپل ایچ ایس ایس رانی باغ ، کلچر کوآرڈی نیٹر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ دیگر اَفسران اور طلاب نے بھی شرکت کی۔ اِس موقعہ پر اَساتذہ نے طلباء اور معاشرے کو مجموعی طورپر تبدیل کرنے میں جو کردار اَدا کیا اِس پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ضلع کے مختلف سکولوں کے اَساتذہ کو ان کے قابل تحسین کام پر اعزازات سے نوازا گیا۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر اننت نے اَپنے اَساتذہ کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے کیئریر کی تشکیل میں ان کی شراکت کو یاد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جلد ہی ضلع میں سکول واپس جانے کا پروگرام شروع کیا جائے گاتاکہ سکول چھوڑنے والے بچوں کو کلاس روموں تک پہنچایا جاسکے۔ڈاکٹر سنگلا نے اَساتذہ پر زور دیا کہو ہ اَپنے طلباء کے لئے رول ماڈل ہوں اور ان طلبا پر توجہ دیں جو سیکھنے میں کمزور ہیں ۔ اُنہوں نے طلبا اور اساتذہ کے رشتے کو مستحکم کرنے پر زور دیا ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہ اکہ نئی تعلیمی پالیسی اور تدریسی طریقۂ کار میں نئے خیالات کو بہتر طریقے سے اَپنانا اور ان پر عمل درآمد تعلیمی شعبے کو تبدیل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ادھر اوڑی کنٹرول لائن پر واقع چرنڈہ نامی گائوں کے گورنمنٹ بائز مڈل سکول میں بھی اتوار کو یوم اساتذہ منایا گیا۔پروگرام میں سب جج اوڑی الطاف احمد خان بحیثیت مہمان خصوصی موجود تھے۔پروگرام میں سکولی بچوں نے رنگا رنگ کلچرل پروگرام پیش کئے اسکے علاوہ بچوں اور اساتذہ نے یوم اساتذہ منانے کے مقصد اور اساتذہ کا سماج میں رول پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر زونل ایجوکیشن افسر اوڑی شاہ محمد،زونل ایجوکیشن پلانگ افسر اوڑی ولی محمد ککرو،تحصیل صدر جموں کشمیر ٹیچرس فورم اوڑی/بونیار اعجاز احمد لون،صدر ٹیچرس فورم زون اوڑی نصیر احمد کے علاوہ مقامی طلبہ اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔واضح رہے کہ ہند وپاک افوج کے درمیان مکمل جنگ بندی معاہدہ کے بعد چرنڈہ میں اس طرح کا پروگرام پہلی بارمنعقد کیا گیا۔
ناگہ بل ترال سے نکلنے والی ندی غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل
ترال // ترال کے مشہور قدرتی چشمے ’’ناگہ بل ناگ‘‘سے نکلنے والی ندی غلاظت اور گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایااس چشمے کاپانی متعدد بستیوں تک پائپ لائن کے ذریعے سے پہنچتا ہے جبکہ چشمے سے بڑی مقدار میں پانی ندی کی صورت میں ناگہ بل کی ایک بستی کے ساتھ ساتھ پیر محلہ،چھان محلہ ناگہ بل،ماحچھامہ ،کہلیل وغیرہ تک پہنچ جاتا ہے جسے لوگ سینچائی کے ساتھ ساتھ پینے کے لئے بھی استعمال کرتے تھے تاہم گزشتہ کئی سال سے یہ ندی غلاظت اور گند گی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے یہ پانی ناقابل استعمال بن گیا ہے ۔ مقامی لوگوں نے بی ڈی اوترال اورضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس اہم ندی کی صفائی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بلاک ڈیو لپمنٹ افسر ترال نے بتایا کہ وہ آنے والی گرام سبھا میں اس ندی کی صفائی اور تجدیدو مرمت کیلئے منصوبے کو منظوری دیں گے ۔
سی این آئی چیف ایڈیٹر بلال بزاز کی چاچی فوت
سرینگر //مقامی خبر رساں ادارے سی این آئی کے چیف ایڈیٹر بلال بزاز کی چاچی ساکن حکیم محلہ باغوان پورہ لال بازار سرینگر سنیچر وار کو شام دیر گئے انتقال کرگئیں ۔اس سلسلے میں سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ انجمنوں ، شخصیات بالخصوص صحافتی برادری نے دکھ کااظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبہ بالخصوص بلال بزاز کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت کی ہے۔ ادھرنگوا سکمز کے صدر اور جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین اشتیاق بیگ نے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبہ بالخصوص بلال بزاز کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کااظہار کیا ہے ۔
نالہ بشلڑی سے لاش کا ڈھانچہ برآمد
محمد تسکین
بانہال//جموں سرینگر قومی شاہراہ پر رامسو کے ہنگنی علاقے میں انکی بشلڑی سے ایک عدم شناخت لاش کا ڈھانچہ ملا ہے ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ہمالین کیو آر ٹی رامسو اور پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ڈھانچے کو دریا سے نکال کر پرائمری ہیلتھ سینٹر رامسو منتقل کیا اور میڈیکل جانچ پڑتال کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا جارہا ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ چند مہینے پہلے اس علاقے میں سڑک کے ایک حادثے کے بعد دو افراد کی لاشیں نالہ بشلڑی سے برآمد نہیں کی جاسکی تھیں اور غالب امکان ہے کہ یہ لاش حادثے کے بعد لاپتہ ہوئے دو میں سے ایک شخص کی ہوسکتی ہے تاہم اس بارے میں ابھی وثوق کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
آپسی بھائی چار میں خلل ڈالنے پر5افراد کیخلاف مقدمہ درج
عاصف بٹ
کشتواڑ//گزشتہ ماہ کی 31تاریخ کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو میں جانور کی کھال دکھائے جانے پر پولیس نے کاروائی عمل میں لاتے ہوے پلماڑ علاقہ سے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس تھانہ کشتواڑ میں درج ایف آئی آر زیرنمبر 206/2021 کے تحت انکی گرفتاری عمل میں لائی گی۔چند روز قبل سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گائے کی چمڑی کو دکھایا گیا جسکے بعد ہندو سماج کے لوگوں نے احتجاج کیا اور ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کی تھی جسکے بعد پولیس نے اس کیس کی فوراً کاروائی عمل میں لائی۔معاملے کی حساست کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین بٹ نے خصوصی ٹیم تشکیل دی جسکی نگرانی ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ کررہے تھے۔ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر و انکی ٹیم نے پانچ افراد کو گرفتار کرکے حراست میں لیا جنھوں نے اس واقعہ کو انجام دیا تھا جبکہ اس معاملے کی تحقیقات ہنوز چل رہی ہے اور اگر مزید اور کوئی ملوث پایا گیاتو اسکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاے گی۔پولیس نے شرپسند عناصر کو متنبہ کیاکہ وہ ایسا کوئی بھی مواد نہ پھیلائیں جس سے علاقے کا امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو۔
ادھم پور میںمتعدد افراد پارٹی میں شامل
اودھم پور//اپنی پارٹی ضلع اکائی اودھم پور کے کارکنان کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ ضلع صدر ہنس راج ڈوگرہ اور سابقہ ایم ایل اے اور پارٹی ضلع انچارج فقیر ناتھ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اپنی پارٹی ٹریڈ یونین صدر اعجاز کاظمی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر متعدد افراد نے پارٹی قیادت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اپنی پارٹی میں شمولیت ا ختیارکی۔ ہنس راج ڈوگرہ نے اِ ن کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُمیدظاہر کی کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کے لئے تندہی سے کام کریں گے۔ دوران اجلاس متفقہ طور فیصلہ کیاگیاکہ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو12بجے پارٹی ضلع صدر دفتر پر میٹنگ منعقد ہوا کرے گی جس میں تنظیمی امور اور عوامی مسائل ومشکلات پر غوروخوض کیاجائے گا۔ یہ بھی اعلان کیاکہ جموں وکشمیر اپنی پارٹی ضلع دفتر ہر روز صبح 8بجے سے 5بجے تک کھلا رہے گا اور لوگ اپنے مسائل ومشکلات کو حل کرانے کے لئے آسکتے ہیں۔
دچھن میں مواصلاتی سہولیات شروع | کشتواڑ کے وفد نے لیفٹیننٹ گورنر کا شکریہ ادا کیا
سری نگر//کشتواڑ میں پی ڈی آئی کے نمائندوں ، پڈر اور دچھن کے لوگوں پر مشتمل سابق وزیر سنیل شرما کی قیادت میں ایک وفد نے یہاں راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی۔وَفد نے دچھن علاقے میں ٹیلی کام خدمات کی کامیا ب تنصیب اور شروعات کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کا شکریہ اَدا کیا ۔اُنہوں نے مطالبات کا ایک چارٹر پیش کیا جس میں ہونزردچھن کے سیلاب سے متاثرہ کنبوں کی بحالی ، ڈگری کالج دچھن کی طرف سڑک کی تعمیر میں تیزی لانے ، صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات اور انہیںاَپ گریڈ کرنا شامل ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے وَفد کے اَرکان کو بغور سنا اور متعلقہ محکموں کو اِن کے مسائل کے فوری حل کے لئے موقعہ پر ہی ہدایات جاری کیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے صوبائی کمشنر جموں کو سیلاب سے متاثرہ کنبوں کی بحالی کے لئے ایک جامع منصوبہ بنانے کے لئے ہدایت بھی دی ۔اُنہوں نے وفد کے اَرکان کو یقین دِلایا کہ حکومت سیلاب زدگان کی بحالی اور علاقے کی ترقی کے لئے ہرممکن مدد فراہم کرے گی۔
جموںوکشمیر چنئی کے سیاحوں کا منتظر | محکمہ سیاحت کا اعلیٰ سطحی وفد تامل ناڈومیںموجود، ٹورآپریٹروںسے تبادلہ خیال
چنئی//جے اینڈ کے ٹوراِزم کے اَفسران کی ایک ٹیم اِن دِن دِنوں تامل ناڈو کے ٹور اینڈ ٹریول اِنڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ متعددملاقاتیں کر رہی ہیں۔جے اینڈ کے ٹوراِزم کے اَفسران کی ٹیم نے ریاست کے ممتاز ٹور آپریٹروں اور مختلف سیاحتی تجارتی اِداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی جن میں ایس سکتھیوادیویل سیکرٹری ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا(ٹی اے اے آئی )سائوتھرن ریجن، ڈاکٹر پازانی موروگیسن منیجنگ کمیٹی کے رکن ، کلیمامانی وی کے ٹی بالن معروف ٹریول آپریٹر اور صدر ،تامل ناڈو ٹور ٹریڈ اینڈ ہاسپٹلٹی ایسوسی ایشن محمد حنیف خان 80 سال پرانی کمپنی صوبیدار اینڈ سنز ، ڈومیسٹک ٹور آپریٹرس آف اِنڈیا ۔ٹی این کے نمائندے اور دیگر ٹور آپریٹرس شامل ہیں۔اِن ملاقاتوں میں ٹور باڈیز کے سربراہوں نے وہ یادیں تازیں کیں جو انہیں جموںوکشمیر کے کھانوں اور ثقافت کے تجربات کی تھیں ۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جموں کشمیرکے ساتھ وسیع پیمانے پر کاروبار کریں گے۔اِس موقعہ پر متعدد مقررین نے جموںوکشمیر کے سفر اور تجربات کے حوالے سے اَپنے خیالات اور یادیں شیئر کیں۔ تامل ناڈوکے لیجنڈری ٹور آپریٹر کلیما مانی وی کے ٹی بالن نے جموں وکشمیر کو اَپنا دوسرا گھر قراردیا جس کے باعث انہیں جموںوکشمیر کی سیاحت کو سنبھالنے کا 50 سالہ سفر کا تجربہ حاصل ہے ۔ اُنہوں نے 1950 ء کی دہائی میں کشمیر میں تامل فلموں کی شوٹنگ کو بھی یاد کیا۔جے اینڈ کے سیاحتی محکمہ کے اَفسران کی ٹیم جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ان نریش کمار اور احسان الحق چشتی شامل ہیں ،نے آنے والے دِنوں کے لئے کئی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ یوٹی میں اُبھرتے ہوئے سیاحتی منظر نامے کا جائزہ پیش کیا۔ ٹور آپریٹروں کو مطلع کیا گیا کہ جے اینڈ کے میں ان کے ہم منصب تمام ہوٹل ، گیسٹ ہاؤسز ، ہاؤس بوٹس اور ریستوران مہمانوں کے استقبال کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ ان کی حفظان صحت کے پروٹوکول کو یقینی بنایا گیا ہے۔
محکمہ دیہی ترقی کے’ سی آئی سی‘ آپریٹر16برسوں سے مستقلی کے منتظر
12سال سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ کرنے کاشکوہ
سرینگر//محکمہ دیہی ترقی میں’’ سی آئی سی‘‘ ( کمیونٹی انفارمیشن سینٹر )آپریٹروں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔سی آئی سی کے 172 آپریٹرز 2004 سے کنٹریکچول بنیادوں10ہزار روپے ماہانہ مشاہرے پر کام کر رہے ہیں اور یہی انہیں پریشان کن زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سی آئی سی آپریٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ16برسوں سے کام کرنے کے باوجود بھی مستقل نہیں کیا جا رہا ہے،جبکہ سرکار کی بار بار یقین دہانیوں اور محکمہ عمومی انتظامی میں کئی برسوں سے انکی فائلوں کے پیچ و خم کے باوجود وہ پر اُمید ہے کہ انہیں مستقل کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے سال 2003-4 میںاخبارات میں مناسب اشتہار دینے اور اہل امیدواروں سے درخواستیں طلب کرنے کے بعد سی آئی سی آپریٹرز کی تقرریوں کو عمل میں لایا گیا تھا۔ان کی بھرتی اہلیت میرٹ کی بنیاد پر اسی برس متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں حکومت جموں و کشمیر کی تشکیل کردہ ضلعی سطح پر تقرری کمیٹی کے ذریعے مناسب بھرتی طریقہ کار کے ذریعے کی گئی تھی۔ سی آئی سی آپریٹرز تکنیکی اعتبار سے بہت موثر ہیں اور وہ محکمہ جاتی پورٹلز جیسے آن لائن کاموں کو سنبھال رہے ہیںجن میں ای گرام سوراج ، اسٹیٹ بینک ، پی ایم اے وائی ، پیپلز پلان مہم (سب کی یوجنا سب کا وکاس) ، جی پی ڈی پی ، مشن انتو دیا ،پی ایف ایم ایس اور ای گورننس سے متعلق دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ یہ آپریٹر تمام دفتری کاموں کے علاوہ بلاک ،ضلعی نظامت ، سیکرٹریٹ سطح پر انتخابات ، اسٹیبلشمنٹ ، اکاؤنٹس ، کام وغیرہ بھی انجام دیتے ہیں۔سی آئی سی آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم صدیق نے کہا کہ انہوں نے معمولی تنخواہ پر آر ڈی ڈی کی بہتری کے لئے 17 سال تک خدمات انجام دی ہیں اور ان مشکل ایام میں معمولی تنخواہ کے ساتھ ان کی بقاء ایک چیلنج بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹیک ، ایم ایس سی آئی ٹی ، بی ای اور بی ٹیک ڈگری کے باوجود انہیں معمولی ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا’’پچھلے 12 سالوں سے ہماری تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا اور ہماری آواز کو دبایا جارہا ہے‘‘۔ انہوں نے تنخواہوں میں10ہزار سے25ہزار روپے کے اضافے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اہل خانہ کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
بمنہ میں بارودی سرنگ سے سنسنی
بم ڈسپوزل سکارڈ نے ناکارہ بنانے کادعویٰ کیا
سرینگر//شہر سری نگر میں حفاظتی دستوں نے اتوار کو ایک دیسی ساخت کی دھماکہ خیز سرنگ (IED) کا بروقت پتہ لگاکر اُسے ناکارہ بنا دیا۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اتوار کی صبح سیکورٹی فورسز نے شہر کے علاقہ بمنہ کی ہمدانیہ کالونی میں سڑک کنارے ایک آئی ای ڈی کا پتہ لگایا۔پولیس نے بتایا کہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور آئی ای ڈی کوکامیابی کیساتھ ناکارہ بنا دیا گیا۔
کوروناگائیڈلائنزکی خلاف ورزیاں
355افراد پر جرمانہ عائد
سرینگر//پولیس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کی دوسری لہر کاتوڑ کرنے کیلئے کووِڈ گائیڈ لائنزکی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مہم کے دوران355افراد سے وادی میں27150روپے جرمانہ وصول کیا۔کورونا رہنماخطوط کی پاسداری نہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کی مہم وادی بھر میں جاری رہے گی اور پولیس نے ایک بیان میں عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ کووِڈ- 19رہنماخطوط کی عمل آوری کو یقینی بناکر ہاتھ باربار دھوئیں اور چہرے پر ماسک لگانے کے علاوہ سماجی دوریوں کابھی خاص خیال رکھیں۔
بھاجپارہنماآئین ہندکامطالعہ کریں:کمال
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹرمصطفی کمال نے بھاجپاکے وزراء اور رہنمائوں پرزوردیا ہے کہ وہ آئین ہندکامطالعہ کریں کہ کس بنیاد پربھارت کے ساتھ رشتہ جوڑاگیاہے۔ایک بیان کے مطابق انہوںنے کہا کہ دلی کے حکمران خصوصاً بھاجپا کے اعلیٰ وزراء بار بار یہ کہتے رہتے ہیں کہ دفعہ370اور 35Aکے خاتمے سے ریاست میںتعمیر و ترقی ہوئی اور یہ دفعات جموں کشمیرکی تعمیرو ترقی میں حائل تھے۔ ڈاکٹرکمال نے کہا کہ اُن کے یہ بیانات ریاستی لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور ہمارے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں اور آئین ہند کے بالکل منافی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہی دفعات آنجہانی ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ 3چیزوں پر دستاویزی طور الحاق میں شامل کئے تھے۔ انہوںنے کہاکہ اگر واقعی مودی سرکار ہندوستان کی سالمیت کی متمنی ہے تو ان کیلئے بہتر موقع ہے کہ وہ ریاست کے لوگوں کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق واپس کرے اور ریاست میں سیاسی خلفشار اور حالات کو پٹری پر لانے کیلئے انہیں فوری طور پر 5اگست2019سے پہلے کی پوزیشن یعنی ریاست کا خصوصی درجہ واپس کرنا چاہئے۔ڈاکٹر کمال نے کہاکہ ریاست کے لوگ5اگست2019سے ہر سطح پر نظرانداز کئے جارہے ہیں، تعمیر و ترقی کا فقدان ہے، بے روزگاری اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی سرکار کو ریاست میں باہر کے حکام کی تعیناتی فی الفور روکنی چاہئے جو آئین ہند اور جمہوری کے اصولوں کیلئے سم قاتل کے برابرہے۔
گیلانی کی میت اور پاکستانی پرچم کا معاملہ | کیس دائر کرنے پرمحبوبہ مفتی کی شدید تنقید
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے سیدعلی گیلانی کی موت کے بعد اُن کے جسدخاکی پر پاکستانی پرچم ڈالنے اور مبینہ طور ’’ملک مخالف‘‘نعرے لگانے پر مرکزی حکومت کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کی ہے۔ بڈگام پولیس نے ایک ویڈیوکلپ ،جس میں سیدعلی گیلانی کے جسدخاکی پر پاکستانی پرچم ڈالاہواتھا، کانوٹس لیتے ہوئے خلاف قانون سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون کی مختلف شقوں کے تحت نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔تاہم جب پولیس مرحوم علیحدگی پسند رہنما کے جسدخاکی کو اُٹھانے کیلئے پہنچ گئی تومرحوم کے رفقاء نے لاش پر سے جھنڈا ہٹایا۔ 91برس کے گیلانی بدھ رات کو اپنی رہائش گاہ پر طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ان کے جسدخاکی کو نزدیکی قبرستان میں سپردخاک کیاگیا۔محبوبہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا،’’کشمیرکوایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کے بعد،اب مردوں کوبھی بخشانہیں جاتا۔ایک کنبے کواپنے عزیزکاماتم کرنے اوران کی خواہشات کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔گیلانی کے اہلخانہ پر غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون کے تحت کیس دائر کرنے سے حکومت ہندگہری سخت گیری ظاہر ہوتی ہے۔یہ نئے بھارت کانیاکشمیر ہے‘‘۔
ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان کا زینہ پورہ کا دورہ | ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت
شوپیان// ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان سچن کمار واشیا نے زینہ پورہ شوپیان کے دُور دراز علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران پر زوردیا کہ وہ ٹیکہ کاری مہم کے عمل میں سرعت لائیں تاکہ مطلوبہ ہدف کو بروقت حاصل کیا جاسکے۔ دُور ے کے دوران سچن واشیا نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال زینہ پورہ کا اَچانک معائینہ کیا ۔اُنہوں نے حاضری چیک کی ۔ گائنتی وارڈ ، جنرل وارڈ ، جن اوشدھی اور دیگر وارڈوں کا چکر لگایا اور مریضوں سے بات چیت کی ۔اُنہوں نے ان سے علاج و معالجہ کی فراہم سہولیات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اُنہوں صحت اَفسران پر زور دیا کہ وہ جوش و جذبے ، لگن اور محنت سے کام کریں اور مریضوں کو صحت سہولیات فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں۔اُنہوں نے ہسپتال کے بہتر نکاسی آب نظام کی بھی ہدایت دی ،جو خراب ہوچکا ہے اور مرمت کا کام جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے ایس ڈی ایم زینہ پور کو ہدایت دی کہ وہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال زینہ پورہ کے ہیٹنگ سسٹم کو ایک ہفتے کے اَندر بحال کرے اور سرگرمیوں میں تیزی لائیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جاری تعمیراتی کاموں کو مقررہ وقت کے اَندر مکمل کرے تاکہ عوام الناس کی سہولیت میسر ہو جنہیں حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔سچن واشیا نے پرائمری ہیلتھ سینٹر اور گورنمنٹ ہائی سکول لوزڈے کے زیر تعمیر کام کا معائینہ کیا اور صحت عامہ کو جلد اَز جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ضلع ترقیاتی کمشنر کے ہمراہ چیف پلاننگ آفیسر شوپیان خورشید احمد کھٹنانہ ، ایس ڈی ایم زینہ پورہ ، تحصیلدار شوپیان بلال احمد ، تحصیلدار زینہ پورہ فد ا حسین ، اے اِی اِی اور دیگر متعلقہ حکام تھے۔
کرگل جنگ کے دوران کام کرنے والے فوجی پورٹروں کا احتجاج
یواین آئی
جموں// سنہ 1999 کی کرگل جنگ کے دوران بھارتی فوج کے ساتھ کام کرنے والے پورٹروں (مزدوروں) نے اتوار کو یہاں سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کے لئے ایک بار پھر احتجاج کیا۔احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر ’آل انڈیا پورٹر یونین کرگل وار1999‘ لکھا تھا اور وہ ’ہم کیا چاہتے اپنا حق‘، ’چھین کے لیں گے اپنا حق‘ اور ’ہماری مانگیں پوری کرو‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر نیشنل پینتھرس پارٹی کے سابق لیڈر بلونت سنگھ منکوٹیہ نے نامہ نگاروں کو بتایا،’’یہ احتجاج کرگل پورٹرس کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ 22 سال سے انصاف کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سنہ 1999 کی کرگل جنگ، جب یہ سبھی لوگ نوجوان تھے، اس وقت ان کو فوج کے مطالبے پر کرگل لے جایا گیا‘‘۔انہوں نے کہا،’’تربیت یافتہ فوجیوں کے لئے بھی پہاڑیوں پرسامان پہنچانا مشکل ہو رہا تھا۔ ان لوگوں نے سرحد پر سامان پہنچانے کی ذمہ داری لی۔ ان میں سے کچھ لوگ کرگل کی جنگ کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ کئی ایک معذور ہو گئے‘‘۔