سرینگر// انتظامیہ نے جموں کشمیر میں تمام محکموں کے انتظامی افسران کو واجب الادا بجلی فیس کی فوری ادائیگی ہدایات دی ہیں۔سرکاری محکموں کے پاس بجلی فیس کے واجبات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ خزانہ اتل ڈھلو نے تمام محکموں کو فیس کی ادائیگی کی تاکید کی ہے۔ سرکاری محکموں کے پاس ایک اندازے کے مطابق قریب 1500کروڑ روپے بجلی فیس کے واجبات ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری فائنانس کی جانب سے پیر کو جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے’’ محکمہ خزانہ کے نوٹس میں آیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں کے پاس بجلی فیس واجب الادا ہے‘‘۔ سرکیولر میں سرکاری محکموں کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر فیس کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔سرکیولر میں کہا گیا’’ جموں و کشمیر کے ہر محکمہ کو چاہیے کہ وہ اپنے دفتروں کے بجلی کے بلوں کو ہر مہینے متعلقہ ٹریجریوں میں’ کنٹرا کریڈٹ بک ایڈجسٹمنٹ ‘کے ذریعے ادا کریں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری خزانہ نے کہا ہے کہ بجلی کے واجبات کی ادائیگی کو ہموار کرنے کے لیے ، تمام انتظامی سکریٹریوں کو زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے انتظامی کنٹرول کے تحت محکموں کے سربراہوں اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسروں کو ہدایت کریں کہ وہ بجلی کے واجبات کو فوری طور پر ادا کریں۔ سرکیولر کے مطابق ہر محکمہ کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر درست طریقے سے اندازہ لگائے گئے بلوں کو (کلیئر )کیا جائے، اور بجٹ میں مناسب جواز کے ساتھ مختص کی گئی رقم میں کمی کو نظر ثانی شدہ تخمینے 2021-22میں پیش کیا جائے۔کشمیر عظمیٰ نے جولائی میں اپنے رپورٹوں میں اس بات کا احاطہکیا تھا کہ مختلف سرکاری محکموں کے پاس قریب 1500کروڑ روپے سے زائد رقم بجلی فیس کی مد میں واجب الادا ہے،جبکہ نجی اسپتالوں،اور امن و قانون نا فذ کرنے والی ایجنسیوں کے پاس بھی قریب ایک ہزار کروڑ روپے کی فیس واجب الادا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امسال جون کے آخر تک محکمہ زرعی پیدوار کے پاس4کروڑ77 لاکھ، محکمہ انمل اینڈ شیپ ہسبنڈری کے پاس4کروڑ26لاکھ,محکمہ شہری رسدات امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے پاس61لاکھ، محکمہ ثقافت کے پاس18لاکھ، محکمہ تعلیم کے پاس13کروڑ ایک لاکھ،محکمہ الیکشن کے پاس54لاکھ اور محکمہ ایسٹیٹس کے پاس5کروڈ88لاکھ روپے واجب الادا ہے۔ محکمہ خزانہ کے پاس ایک کروڈ66لاکھ,محکمہ ماہی گیری کے پاس ایک کروڑ48لاکھ،محکمہ پھولبانی کے پاس2کروڈ30 لاکھ،محکمہ جنگلات کے پاس6کروڈ19لاکھ،محکمہ عمومی انتظامی کے پاس28لاکھ اور جیالوجی اینڈ مائننگ کے پاس17لاکھ کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ کے پاس17کروڑ روپے کی فیس بقایا ہے۔دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت و طبی تعلیم کے پاس75کروڑ42لاکھ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پاس5کروڑ27لاکھ،محکمہ باغبانی کے پاس89لاکھ,محکمہ تواضع کے پاس 5کرو57ڈلاکھ، محکمہ مکانات و شہری ترقی کے پاس106کرو36لاکھ روپے ،محکمہ صنعت و حرفت کے پاس11کروڈ53لاکھ،محکمہ اطلاعات کے پاس ایک کروڑ48لاکھ،محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے پاس سب سے زیادہ415کروڑ56لاکھ,جموں کشمیر سیمنٹس کے پاس18کروڈ28لاکھ،جموں کشمیر پروجیکٹس کنسٹریکشن کارپوریشن کے پاس2کروڈ 99لاکھ، محکمہ محنت و روزگار کے پاس39لاکھ،محکمہ قانون،انصاف و پارلیمانی امور کے پاس2کروڈ53لاکھ،محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے پاس ایک کروڈ25لاکھ،محکمہ پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف کے پاس3کروڑ11لاکھ کی رقم واجب الادا ہے۔ پائور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو جہاں3کروڑ16لاکھ روپے کا بجلی فیس بقایا ہے وہی پائور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاس58کروڈ13لاکھ روپے کا بجلی فیس بقایا ہے اورپرسار بھارتی کے پاس بھی ایک کروڑ59لاکھ روپے کی رقم واجب الادا ہے۔سیاسی جماعتوں،سابق قانون سازیہ ارکان،سیاست دانوں،بیروکریٹوں اور سرکاری افسراں و ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں و کوٹھیوں کے زیر استعمال بجلی کیلئے محکمہ ایسٹیس محکمہ بجلی کا قریب590کروڑ روپے کا مقروض ہے۔ محکمہ ایسٹیٹس راجباغ کو220کروڑ94لاکھ روپے کی بجلی فیس جہاں ادا کرنی باقی ہے وہی محکمہ ایسٹیٹس کے شیخ باغ دفتر کو130کروڑ86لاکھ روپے، کرانگر دفتر کو128کروڈ53لاکھ روپے اور حضوری باغ دفتر کو58کرور52لاکھ روپے کا فیس ادا کرنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جون کے آخر تک محکمہ ایسٹیٹس ڈلگیٹ دفتر کو24کروڑ72لاکھ روپے کھنموہ کو16کروڑ74لاکھ روپے،ایسٹیٹس واتل کدل دفتر کو ایک کروڑ62لاکھ اور چھانہ پورہ دفتر کو24لاکھ 72ہزار روپے بجلی فیس واجب الدا ہے۔ ایسٹیٹس محکمہ،کنگن دفتر کو ایک کروڑ23لاکھ روپے، محکمہ ایسیٹس کے پلوامہ دفتر کو ایک کروڑ16لاکھ روپے اور بانڈی پورہ دفتر کو2کروڑ75لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا باقی ہے۔ محکمہ ریلوئے بھی محکمہ بجلی کا5کروڈ83 لاکھ روپے کا مقرض ہے،جبکہ محکمہ مال و ریلیف کو9کروڑ29لاکھ روپے کی رقم واجب الدا ہے۔ محکمہ سیاحت کو34کروڑ35لاکھ,ٹرانسپورٹ کو3کروڑ79لاکھ، محکمہ سماجی بہبود کو2کروڑ12لاکھ،محکمہ فنی تعلیم و کھیل کود کو4کروڈ60لاکھ کے علاوہ درجنوں محکمے اس فہرست میں شامل ہے،جن کو لاکھوں روپے کا بجلی فیس واجب الدا ہے۔