ہمارے ملک ہندوستان کوآزاد ہوئے 75 سال توہو گئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر ہندوستانی کو اس کا حق مل گیا ، ملک کا ہر شخص اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا، وزارت، ملازمت، سیاست میں سب کو حصہ مل گیااور گاندھی جی کا خواب پورا ہو گیا؟ اگر ہوا ہوتا تو نظر آتا اور نہیں ہوا تو آخر کیوں؟ یوں تو ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں کہتی ہیں کہ ہمیں گاندھی جی کے خوابوں کا ہندوستان بنانا ہے مگر کوئی پارٹی یہ نہیں بتاتی کہ گاندھی جی کا خواب کیا تھا۔ شائد اس لئے کہ کہیں عوام باخبر نہ ہوجائے ۔ہم بتاتے ہیںکہ گاندھی جی کا خواب یہ تھا کہ ملک میں امن و چین رہے، آبادی کے تناسب سے سماج کے ہر فرقےکو ہر شعبے میں نمائندگی ملے تاکہ ملک میں کبھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا نہ ہوسکے اوربرسراقتدار و حزب مخالف دونوں کا نظریہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیرو اصلاح ہو ، دونوں ملک کے مفاد میں ایک دوسرے سے مشورہ کریں ، حزب مخالف پارٹیاں ایوان میں بیدار پہریدار کا رول ادا کریں اور دونوں کا مقصد ملک و ملت کا مفاد ہو ،لیکن افسوس کہ سبھی سیاسی پارٹیاں اصل راستے سے بھٹک گئیں اور عوامی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفاد کی سیاست کرنے لگیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر گاؤںاور ہر علاقے میں آج بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، جن کے پاس رہنے کو رہنے کےلئےمکان نہیں اور وہ شاہراہوں،سڑکوں اور ریل پٹریوں کے کنارے ڈیرہ ڈال کر سردی، گرمی، برسات ہر موسم کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کا گذر بسر کرتے ہیں۔ ان کا کوئی آدمی ایوان تک نہیں پہنچتا ،کیا انہیں سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں اور اُ نکے حمایتوں کی طرح جینے کا حق نہیں ہے ؟اگر ہے تو انہیںاوپر اٹھانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا، ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہاں تک احساس ہو چکا ہے کہ انہیںمرتے دم تک اسی طرح رہنا ہے اور یہی اُن کی پہچان ہے۔ یہ بھی ایک افسوس ناک کڑوا سچ ہی ہے کہ آزادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے کانگریس نےملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے جو ریزرویشن کی سہولت کا نظام بنایا تھا، اگر وہ نظام برقرار رہاہوتا تو سیاسی میدان میں مسلمانوں کا بیک ورڈ طبقہ اور مسلمانوں میں سب سے دبا کچلا طبقہ نٹ، بھانٹ، بنجارہ، حلال خور، دھوبی وغیرہ کے حالات بھی تبدیل ہوئے ہوتےاور وہ بھی غیر مسلم برادری میں پاسی، دھوبی، سونکر، دلت وغیرہ کی طرح ریزرو سیٹوں پر الیکشن لڑتے ، اسمبلی و پارلیمنٹ تک پہنچتے، مگر کانگریس نے اگست 1950 میں دفعہ 341 کے پیرا 3 پر صدر جمہوریہ کے ذریعے آرڈینس جاری کراکر صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر مسلمانوں کی متذکرہ برادری کو ریزرویشن سے محروم کردیا۔ 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھے جانے کا معاملہ پیش آیا تو اسے حل کرنے کے بجائے اُلجھائے رکھا اور 1992 میں کانگریس نے ہی اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو منہدم بھی کرایا۔ اس طرح آزادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے ہندو مسلم کی سیاست کانگریس نے کی، جس کے نتیجے میں بعداذاںسبھی سیاسی پارٹیاںمسلمانوں کی ہمدرد بننے لگیں لیکن آج تک اُ ن سبھی سیاسی پارٹیوں ساری ہمدردی محض سبز باغ دکھانے تک ہی محدود رہیں۔ سبھی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ر ہیں مگر وقت آنے پر منافقانہ کردار ادا کرتی رہیں۔ طلاق ثلاثہ بل، شہریت ترمیمی بل جیسے معاملوں میں سیاسی پارٹیوں کا کردار ایسا رہا کہ برسر اقتدارپارٹی کو ایسا موقع ملا کہ ساری سیاسی پارٹیوں کے چہروں سے نام نہاد سیکولرازم کا لگا لیبل نوچ کر پھینک دیا اوراس طرح سب کے چہرے بے نقاب ہوگئے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کے سوا کچھ نہ سمجھا ۔ جبکہ سچائی یہ بھی ہے کہ انہی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں اور بی جے پی کے درمیان نہ صرف دوری بھی کرائی بلکہ نفرت پیدا کرانے میںبھی اہم رول ادا کیااور اب آج بھی سبھی سیاسی پارٹیوں کی نظر میں مسلمان کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی بنا کے رکھا ہے اوراُس تیج پتہ کی طرح بنا رکھا ہے،جسے عرق اُتانے کے بعد پھینک دیا جاتاہے۔ اب مسلمانوں کو صاف طور پر کہنا چاہیے کہ ہم نے کسی کو ہرانے ،جتانے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے ،چاہے کوئی ہارے یا جیتے ہمارے سر ناکامی کا ٹھیکرا نہ پھوڑا جائے۔ ہمارے کچھ علماء و کچھ تنظیمیں 60 سال تک کانگریس کی حمایت کرتی رہیں اور کانگریس نے ان علماء اور ان کی تنظیموں کو پارٹی کا ایک سیل بناکر چھوڑا ہے، ان تنظیموں کےمنتظمین اور حمایتی اندھے،گونگے اوربہرےبن کراُن سیاسی پارٹیوںکی حمایت کرتے رہے،جس کے بدلے میں انہیں ذاتی طور پر سرکاری سہولیات تو ملیں مگرمسلمانوں کو کچھ بھی نہ ملا، وہ پارٹی میں یہ باور کراتے رہے کہ ہم مسلمانوں کے رہنما ہیں، اسی لئے اب جبکہ مسلمانوں نے بھی اُن سے سوال کرنا شروع کردیا کہ آپ جب مسلمانوں کے ووٹ کے ٹھیکیدار ہیں تو آپ نے مسلمانوں کو کیا دلوایا؟ خود تو مہنگی مہنگی کاروں میں چلتے رہے اور ہم دردر کی ٹھوکر کھاتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی ان کی اپیلوں کو ٹھکرا دیا اور انہیں رہنماؤں کی دین ہے کہ سبھی پارٹیوں نے مسلمانوں کو کھلونا بناکر رکھ دیا ،ورنہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے، پارٹی بنانے کا، ووٹ دینے کا، ووٹ مانگنے کا آئین کے تحت حق حاصل ہے، پھر بھی مسلمان حاشئیے پر ہیں۔ جو سیاسی پارٹیاں مسلم قیادت کی شکل میں ہیں،وہ صرف جذباتی نعرہ اور جذباتی تقریروں کے علاوہ کچھ بھی نہیںکرتیں اور باتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں کہ جن سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس قوم کو حکمراں قوم کہا گیا ہے، اس قوم کی ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کوئی سیاسی پہچان نہیں کیونکہ مسلم سیاسی پارٹی خود مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے، کیا اُسے نظر نہیں آتا کہ موجودہ برسراقتدار پارٹی نے سماج کی بنیاد پر موریہ، کشواہا، برہمن، راج بھر، پاسی، سونکر وغیرہ کو نمایندگی و حصہ داری دی ہے تو پھر مسلم قیادت اپنی پارٹی میں سماجی و طبقاتی بنیادوں پر نمایندگی کیوں نہیں دیتی۔ مسلمانوں کی کچھ بڑی بڑی تنظیمیں ہیں جس میں آج تک مخصوص طبقے کے لوگ ہی صدر بنتے آرہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب آپ خود اپنے گھر میں اپنے بھائی کو حق نہیں دیتے تو دوسروں سے کس منہ سے حق مانگتے ہو، اسی وجہ سے آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کسی کو ووٹ دیتے بھی ہیں تو وہ پارٹی یہی تأثر دیتی ہے کہ ہمیں ووٹ دینا تو تمہاری مجبوری ہے ،ہمیں نہیں دیتے تو کس کو دیتے؟ اس لئے اب صحیح راستہ اختیار کرو، پہلے مسلمان خود مسلمانوں کی برادری کو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے سیاسی، سماجی، فلاحی، دینی اور تعلیمی اداروں، پارٹیوں، تنظیموں اور کمیٹیوں میں حصّہ دے کر انصاف کریں، تبھی کامیابی حاصل ہونے کا راستہ ہموار ہوگا-