بارہمولہ// رفیع آبادبارہمولہ کے حمام مرکوٹ جنگلات میں13ستمبر کوبادل پھٹنے کے نتیجے میں 12واٹر سپلائی سکیموں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے64دیہات میں پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہوچکی ہے ۔ سینکڑوں جانوروں کی لاشیں ندی نالوں کے ساتھ ساتھ زمین پر بکھری پڑی ہیں ۔ جانوروں کی لاشوں کی موجودگی کے بعد محکمہ صحت نے ڈنگی وچھہ رفیع آباد میں اس سلسلے میں ایک مہم شروع کی ہے جس میں لوگوں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ پانی 20منٹ اُبالنے کے بعد ہی پئیں تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ بلاک میڈیکل آفیسرڈنگی وچھہ ڈاکٹر عرفان کاکہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی گاڑیوں کے ذریعے اعلان کرتے ہیں کہ پینے کا پانی براہ راست استعمال نہ کریںاور اگر ایسا کیاگیا تو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوںنے لوگوں سے کہا کہ وہ پانی کو20منٹ تک ابال کر پی لیں۔ادھر جل شکتی محکمہ64سے زائد ایسے دیہات میںواٹر سپلائی سکیموں کی بحالی میں مصروف ہے جن میں پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور متعلقہ محکمہ اس علاقے میں سکیموں کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔پانی کی فراہمی کیلئے کچھ اسکیمیں رفیع آباد کے بالائی علاقوں میں واقع ہیں جہاں زیادہ تر جنگلاتی علاقے میں جل شکتی محکمہ کے ملازم دور دراز علاقوں تک پہنچنے کیلئے گھوڑوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ پانی کی اسکیموںکو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے ۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر جل شکتی رفیع آباد ڈویژن فیاض احمد نے کہا’’ ہم علاقائی واٹر سپلائی سکیم کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو رفیع آباد کے جنگلاتی علاقے میں واقع ہے۔ بحال شدہ اسکیم اہم ہے کیونکہ یہ 15 سے زائد دیہات کو پانی فراہم کرتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تمام متاثرہ واٹر سپلائی سکیموں کو بحال کرنے کیلئے دن رات کام کر رہا ہے اور اب تک 9چھوٹی بڑی واٹر سپلائی سکیمیں بحال ہو چکی ہیں۔ رفیع آباد کے ڈنگی وچھہ کے ایک مقامی شہری سجاد احمد نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں 300کے قریب جانوروں کی لاشیں بشمول کتے ، گھوڑے اور بھیڑیں پورے علاقے میں بکھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وبا پھیلنے سے بچنے کیلئے حکام کو لاشوں کو اٹھانے کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ جانوروں کی لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں۔کچھ لاشیں ندیوں میں پڑی ہیں جن کا پانی پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یاد رہے کہ 13ستمبر کو رفیع آباد کے حمام مرکوٹ جنگلاتی علاقے میں بادل پھٹنے سے قیامت صغریٰ پیا ہوئی تھی اورپانی کے ریلے میں راجوری کا ایک خانہ بدوش کنبہ ہی بہہ گیا تھا اور 5افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔