نوجوان نسل کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ صحت مند تن اور دماغ والے نوجوانوں سے ہی قوم ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہے۔اگر کسی قوم کے نوجوانوں کی صحت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا جائے تو سوچو اس قوم کا مستقبل کیا ہوگا ؟ خیر یہ موٹی بات آپ کو سمجھ میں اس وقت آئے گی، جب آپ کا کوئی اپنا عزیز ڈرگ اڈکشن کا شکار ہو۔ملک کے تقریباً ہر حصے میں بیشتر علاقےایسے ہیں،جو ڈرگ مافیا کیلئے باضابطہ طور پر ڈرگ مارکیٹ بن چکے ہیں۔ملک کی کئی ریاستو ں کے بڑے بڑے شہروں میں یہ مارکیٹ چل رہے ہیںاور جن کے طاقت ور منتظین نے اس کاروبار کو کافی حد تک وسیع کردیا ہے اور اس کاروبار کو شہروں کے اندونی علاقوں سے لے کر دیہات کے گیل کوچوں تک پھیلا دیا ہے۔چنانچہ جن شہری اور دیہاتی علاقوں میں مسلمانوں کی زیادہ تعدا د آباد ہے، ان علاقوں میں زیادہ تر مسلم نوجوان اور کم عمر بچے بھی ماڈرن ڈرگس کی لت کا شکار ہیں۔ان ڈرگز میں الپرا زولم جسے کتا گولی بھی کہا جاتا ہے،بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کھانسی کی ٹانک جس میں کوڈنگ نارکوٹک ہوتا ہے۔دیگر ڈرگس میں ایم ڈی پاؤچ، چرس ،گانجہ ،افیم اور سولیشن بھی قابل ذکر ہیںکہ جن سے نشہ کیا جارہا ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولس انتظامیہ کا اس پر کنٹرول کیوں نہیں ؟ دوسرا سوال ڈرگ ڈیلرز کون لوگ ہیں؟ اور تیسرا سوال اس کا کاروبار کس طرح کیا جارہا ہے؟ ان سب سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ اس پورے ڈرگ ریکٹ میں کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ، پولیٹکل لابی اور ڈرگ مافیا شامل ہیں۔جو لوگ گلی محلوں میں ڈرگ ڈائریکٹ سپلائی کر رہے ہیں،اُن کا کنکشن بھی پولیس اور پولیٹکل لابی سے رہتا ہے۔ایسے لوگوں کو نہ صرف سیاسی جماعتیں پناہ دیتی ہیںبلکہ سپورٹ بھی کرتی ہیں۔اس کاروبار میں زیادہ تر لوگ لیڈران کے بہت قریبی ساتھی یا پھر رشتہ دار ہوتے ہیں۔پورے کاروبار کو پھلنے پھولنے کیلئے سب سے اہم رول کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ کا ہوتا ہےکیونکہ منافع کا کچھ حصہ ایڈوانس میں انہُیں کیش ،مٹھائیاور دیگر کئی شکلوں میں ملتا ہے۔ایسے آفیسران جو ملائی کھاتے ہیں وہ ڈرگ مافیا پر کوئی ایکشن کیسےلے سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ نشہ مخالفت میں سب سے پہلے ایسے سیاسی لیڈران نشہ مکت سیل ،نشہ مخالف مہم ،نشہ مکت تحریک اور دھرنے وآندولن تک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جن کا ساتھ وہی کرپٹ پولس افسران بھی دیتے ہیں اور ان سب کی ڈرامہ بازی کو پولٹیکل میڈیا سیل کے ذریعے اخبارات ،یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے۔جس کا مقصد نشہ مکت ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ڈرگ مارکیٹ کو بچانا ہوتا ہے۔
شہر کے معزز علماء،اساتذہ کرام ،ڈاکٹر حضرات اور سوشل اکیویسٹ افراد سے اپیل ہے کہ نوجوان نسل کو ملت و قوم کا مستقبل سمجھ کر اپنا فرض نبھائیںاور اس نوجوان نسل کو ڈرگ اڈکشن سے بچائیں۔علماء مساجد سے اس موضوع پر بیانات کریں۔اساتذہ کرام طلبہ کو ڈرگ اڈکشن کے نقصانات بتائیں۔ڈاکٹر حضرات ایسے مریضوں کی نفسیاتی کونسلنگ کریں۔سوشل اکیویسٹ افراد سے اپیل ہے ڈرگ اڈکشن مخالف کمیٹی یا فیڈریشن تشکیل دیں، جس میں پولٹیکل لابی ،کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ اور ڈرگ مافیا سے منسلک افراد کو ہرگز شامل نہ کریں۔امید ہے قوم و ملت کا عظیم سرمایہ نوجوان نسل کو بچانے کیلئے مخیران قوم اس پر کوئی عملی لائحہ عمل طےکریں۔
�������