سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ رواں برس حاملہ خواتین کیلئے فلو ویکسین زیادہ ضروری ہے کیوں کہ کووڈ – 19کی وباء کے دور میں اس کی زیادہ ضرورت ہے اور جتنی جلدی ممکن ہوسکے حاملہ خواتین کو فلو ویکسین لینا چاہئے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ سیزن کا فلو ویکسین اگرچہ سب کیلئے ضروری ہے ،تاہم حاملہ خواتین کیلئے رواں برس اس کی زیادہ اہمیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے فلو سیزن میں حاملہ خواتین کو دوہرے وائرس کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیوں کہ اگر حاملہ خاتون دونوں وائرسوں سے ایک ساتھ متاثر ہوگی تو یہ زیادہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے یہاںتک کی یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے جس سے دو جانیں ایک ساتھ تلف ہوسکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ حاملہ ہونے پر خواتین کا قوت مدافت تبدیل ہوتا ہے اور ان کے دل اور پھیپھڑے جلدی کسی وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔ فلو سے بے وقت زچگی کا بھی اندیشہ ہوتا ہے جس سے موت کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اگر حاملہ خاتون کو فلو ہوتا ہے تو اس بات کے زیادہ امکانات رہتے ہیںکہ اس کے بطن میں پل رہا بچہ بھی اس سے متاثر ہوگا۔ اسلئے احتیاطی تدابیر ہی ایک راستہ ہے اور اس کیلئے ویکسنیشن ہی ایک موثر تدبیر ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن حاملہ خواتین نے ویکسین لیا ہوگا، ان میں 40فیصد خواتین کو دوران حمل ہسپتال میں داخل ہونے کا کم اندیشہ رہتا ہے جبکہ ان خواتین ، جنہوں نے ویکسین نہیں لیا ہوگا ان کے اسپتال میں دوران حمل داخل رہنے کازیادہ امکان ہوتا ہے۔ انہوںنے ایک اور تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین لینی والی خواتین کے بطن میں پل رہے بچوں کی اموات بھی فلو ویکسین سے کم ہوئی ہیں ۔ ڈاک کے ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ فلو ویکسین حاملہ خواتین اور ان کے بطن میں پل رہے بچوں دونوں کیلئے بالکل محفوظ ہے اور حمل کے دوران یہ کسی بھی وقت لیا جاسکتا ہے ۔