بانہال// محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی کہ وجہ سے ضلع رام بن کے کمیت دھندلا علاقے میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے سبب لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی سال سے عوام کی داد فریاد کا محکمہ جل شکتی رام بن کے افسروں اور ملازمین پر کوئی اثر نہیں کر رہا ہے۔دھندلا پنچائت کمیت کے لوگوں نے بتایا کہ کئی بار کے احتجاجی مظاہرے اور حکام سے وفود کی صورت میں ملاقاتیں بے سود اور وقت کا زیاں ثابت ہوئی ہیں اور اب تک دھندلا کی ابادی کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں محکمہ جل شکتی ناکام ہوا ہے ۔ مقامی لوگوں نے علاقے کا دورہ کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ رام بن سے دس بارہ کلومیٹر کی دوری پر واقع دھندلا کمیت کے لوگوں کو پینے کے پانی کا مسئلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے اور اب تک بھی اس علاقے کی کوئی خبر نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کے سیاستدانوں نے ان سے ہر بار دھوکہ ہی کیا اور ووٹ لینے کے بعد پینے کے پانی کا سب سے اہم مطالبہ جوں کا توں ہی رہا ہے۔ پیار سنگھ نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ گاؤں کے لوگ لینے کے پانی کے مطالبے کو لیکر کئی بار جل شکتی کے پاس گئے لیکن یقین دھانیوں کے باوجود علاقے کی خواتین کو ابھی دور ندی نالوں اور چشموں سے پینے کا پانی لانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور افتادہ علاقے میں مال مویشیوں کو بھی پلانے کیلئے پانی نہیں ہے اور انہیں بھی دور نالوں میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کی بھاری برفباری اور بعد میں جاری شدید گرمیوں کی وجہ سے چشمے اور دیگر ذرائع سوکھ گئے ہیں اور لوگوں کو مزید پریشانیوں نے آ گھیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راج گڑھ تحصیل کے دیہات میں قائم کی گئی واٹر سپلائی سکیموں کی تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ یہاں کئے گئے کاموں میں بھاری خرد برد ہوا ہے ۔ انہوں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور محکمہ جل شکتی کے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ رام بن میں ہورہی اس ناانصافی اور عام دیہاتیوں کی فریاد کی ان سنی کرنے کا سخت نوٹس لیں اور محکمہ کے گھر گھر جل کے مشن کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے اپنے کام سے عدم دلچسپی دکھانے والے محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی سرزنش کرنا ناگزیر ہے۔