سرینگر //بمنہ بائی پاس سرینگر میں تعمیر ہو رہے 500بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ ہسپتال کی تعمیر کو 9برس گذر چکے ہیں اور اب محکمہ تعمیرات عامہ کہہ رہا ہے کہ ابھی اس کو عوام کے نام وقف کرنے میں مزید 3ماہ لگ سکتے ہیںحالانکہ ہسپتال کو مکمل کرنے کی کئی ڈیڈ لائنیں بھی ختم ہو چکی ہیں۔ سابق ریاستی سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال کا کام سال2018کے آخر پر مکمل کیا جائے گا ،تاہم ہسپتال کی حالت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دلی ابھی بہت دور ہے کیونکہ ہسپتال پر کام کچھوے کی چال کی مانند جاری ہے۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جس طرح سے کام چل رہا ہے اْس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منصوبہ 2022میں بھی مکمل نہیں ہو گا۔معلوم رہے کہ کئی سال قبل اس ہسپتال کی تعمیر کا کام محکمہ آر اینڈ بی نے ہاتھ میں لیا تھا تاکہ لل دید ہسپتال پر بوجھ کم کیا جاسکے لیکن ہسپتال کی تعمیر مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سال2012-13 اور2015-16کے دوران مرکزی معاونت والی سکیم کے114.81کروڑ میں سے اس کی تعمیر کیلئے50کروڑ اور25کروڑروپے دیئے گئے اور اس کیلئے رقومات ،مرکزی وزارت صحت نے واگزار کیں۔اس سے قبل سال2017 میںاس کو مکمل کرنے کیلئے ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ سال2013میں جب عمر عبداللہ کی سرکار تھی، تو انہوں نے 200بستروں پر مشتمل اس ہسپتال کو منظوری دے کر اس پر کام شروع کرایا تھا۔17اکتوبر2015کو سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے بستروں کی تعداد بڑھا کر 500کر کے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور سال2017 اور 2018 میںاس کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن رکھی لیکن یہ کام اس کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکا۔محکمہ آر اینڈ بی حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پروجیکٹ پر کام پہلے 2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے رک گیا اور قریب ایک برس بعد شروع ہوا اور 2016میں اس پر اْس وقت تعمیر کا کام روک دیا گیا جب وادی میں امن وقانون کی صورتحال پیدا ہوئی اور پروجیکٹ پر کام کرنے والے مزدور کام چھوڑ کر بیرون ریاستوں میں بھاگ گئے۔ اس طرح-17 2016کے دوران اس پروجیکٹ کیلئے جو رقومات واگزار کی گئی تھیں، ان کا استعمال نہ ہوسکا،جس کی وجہ سے سال2017-18میں محکمہ خزانہ کی جانب
سے ان کا ایک بار پھر احاطہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی وجہ سے مرکزی حکومت سے رقومات کا ایک چھوٹا حصہ ہی واگزار ہوا۔تاہم مرکزی حکومت کی طرف سے 2017-18کے دوران امراض زنانہ و اطفال اسپتال کے پروجیکٹ کیلئے مکمل فنڈس کو وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام کے تحت منظورکر کے اْس کے ساتھ جوڑ دیا اور پیسہ واگزار کیا گیا۔محکمہ آر اینڈ بی کے چیف انجینئرشوکت گیلانی پنڈت نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے آخر تک ہسپتال کا کام مکمل کیا جائے گا اور کام شدو مد سے جار ی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ہسپتال کی عمارت کی تعمیر ہی نہیں ہوتی بلکہ اس میں میکنیکل کام بھی ہوتا ہے۔ شوکت جیلانی نے کہا کہ ہسپتال کی تعمیر میں کچھ ایک رکاوٹیں آئیں تھیں اور کورونا کی وجہ سے بھی کچھ وقت تک کام بند رہا ،لیکن اب رکا پڑا کام دوبارہ شروع کیا گیا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ ہسپتال کا کام اگلے تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سرکار نے اس کیلئے مزید 6کروڑ روپے واگذار کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کی کل لاگت 114.81کروڑ ہے جس میں الیکٹرکل ، میکنکل، ہسپتال کیلئے درکار مشینری اور عمارات کی تعمیر ہے ۔ ۔حال ہی میں انتظامی کونسل کی ایک میٹنگ کے دوران ایل جی منوج سنہا نے ہسپتال کے کام کاج کا جائزہ لیا جس دوران یہ کہا گیا تھا کہ یہ ہسپتال کشمیر ڈویژن میں امراض اطفال میں سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر کام کرے گا اور کوویڈ 19 وبائی امراض کی ممکنہ تیسری لہر کو کم کرنے میں مرکزی علاقے کی مدد کرے گا۔