گاندربل//گوٹلی باغ میں 2015میں تعمیر شدہ ہیڈر میدان فلٹریشن پلانٹ 6برسوں سے غیر فعال ہونے کے سبب ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیںجس پر مقامی آبادی سراپا احتجاج ہے۔ گوٹلی باغ کے بیچوں بیچ گاندربل پاور ہاس کے لئے پانی کی کنال گزرتی ہے جس پر بیشتر علاقوں کو پانی فراہمی کیلئے متعدد فلٹریشن پلانٹ تعمیر کے گئے ہیں۔ ہیڈر میدان کے مقام پر 2015میں فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا گیا تھا جس کا پانی وائل وڈر ،سیہ پورہ، ہیڈر میدان،چپر گنڈ سمیت دیگر علاقوں کو فراہم کیا جاتا تاہم زرِکثیر خرچ کرکے فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا گیا لیکن اب تک محکمہ جل شکتی نے نہ ہی اسے چلانے کے لئے آپریٹر تعینات کیا گیا اور نہ ہی کسی ملازم کو ہی تعینات کیا گیا جس کے نتیجے میںبرسوں گزرنے کے بعد فلٹریشن پلانٹ میں موجود واٹر پمپ اور مشینری زنگ آلودہ ہوچکی ہے۔6سال گزرنے کے بعد پورا فلٹریشن پلانٹ غیر فعال بن چکا ہے۔ ہیڈر میدان میں موجود فلٹریشن پلانٹ بے کار ہونے کی وجہ سے متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں کی آبادی کو پینے کے پانی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہیڈر میدان کے مقامی شہری معراج الدین خان نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی نے فلٹریشن پلانٹ بنانے اور اس میں جدید مشینری لگانے کے لئے سرکاری خزانہ عامرہ کے لاکھوں روپے خرچ کئے تاکہ متعدد علاقوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوجائے تاہم 6 گزرنے کے بعد بھی کچھ پائپوں کی تنصیب نہ ہونے کی وجہ سے اور فلٹریشن پلانٹ کو چلانے کے لئے ملازم کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے سبب فلٹریشن پلانٹ ناقابل استعمال بن گیا ہے۔مذکورہ شہری نے کہاکہ اس وقت آبادی کو پینے کے پانی کے لئے دور دراز علاقوں میں جاکر استعمال کے لئے پانی لانا پڑ رہا ہے اور جو پانی استعمال کیا جارہا ہے وہ بھی بغیر فلٹریشن کے ہوتا ہے۔اس بارے میں محکمہ جل شکتی کے اعلی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم محکمہ جل شکتی کو پچھلے 6 ماہ سے ایگزیکٹو انجینئر کی کرسی خالی ہونے سے پورا محکمہ غیر فعال بن چکا ہے۔