دوہفتے قبل اتر پردیش کے شہر لکھیم پور میں جو کچھ ہوا،کیا یہ ہمیں ورطہ ٔ حیرت میں نہیں ڈالتا؟۔ہوسکتا ہے آپ کو میری بات سے اتفاق نہ ہو ۔ہم وحشت و بربریت کے زیر سایہ زندگی گزارنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں ،میں نے اس دن ہی خود کو تیار کرلیا تھا، جب وزیر مملکت اجے شرما کی یہ آڈیو سوشل میڈیا میں گردش کرنے لگی تھی کہ مجھے صرف ’’ایک لیڈر یا وزیر نہ سمجھا جائے ، وزیر بننے کے قبل کی میری شبیہ بھی یاد رکھیں‘‘ ۔یہ شبیہ 6 کسانوں کے وجود کو روندتی ہوئی موٹرکار تھی، جس نے 'دو منٹ میںاُن ’’ اَن داتائوں‘‘ کی زندگیاںختم کردیں،جس کا افسوس منتری مہودے کو کیا اُن کی حواریوں کو بھی شاید نہ ہوں کیوں کہ مجھے یاد آتا ہے اس پارٹی کے طاقت ور راہنما کا ایک بیان"کتاجب کار کے نیچے آجائے تو کچلا ہی جائے گا"۔ان کے نزدیک جو فرقہ ، جماعت یا فرد ان کی نظریات سے اتفاق نہیں رکھتا ، وہ ان کا سب سے بڑا دشمن ہوتاہے ۔ان کی نظر میں ، اُس فردیا جماعت کی حیثیت ان کے نزدیک محض کتے کےبرابر ہی ہوجاتی ہے ۔جس مہذب سماج کے ذمے دار انسان کی فکر اس قدر سطحی ہو،اس سماج میں اخوت اور بھائی چارہ نہیںبلکہ انتشار ، تشدد، غارت گری، کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا ۔ جس کا نظارہ ہم آئے دن دیکھ رہے ہیں کبھی ماب لنچگ کی شکل میں ،کبھی لو جہاد کی شکل میں، کبھی تبدیلی مذہب کے نام پر دیگر مذاہب کے راہنماؤں کی گرفتاری یا قتل کی شکل میں ۔جس پارٹی کے عظیم راہنما کی فکر انتہائی ایسی انسانیت سوز اور دہشت آمیز ہو،اُن کے باقی راہنماؤں کی فکر کیا ہوگی؟ سوچنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ اس لئےیہ نظارےہم شب وروزدیکھ رہے ہیںاور محسوس کررہے ہیںکہ یہ پارٹی اوراس پارٹی کے راہنماؤں کے نزدیک’’ خوف ودہشت پھیلاؤ اور حکومت کرو‘‘کا جو فارمولہ ہے ،وہ اُسی نظریے پرقائم ہیں۔آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیںجو لوگ مہاتما گاندھی پر گوڈسے کو ترجیح دیتے ہوں۔وہی اُن کا مین آئیڈیل ہے۔
آزاد ہندستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی رہنما کے بیٹے نےنہتے کسان( جو دس ماہ سے اپنے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں) پر گاڑی چڑھا دی۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی بھی شرمسار نظر آتی ہے اس واقعہ سے ۔ انتہائی مذموم عمل ،شیطان کو بھی شرمندہ کرنے والی حرکت کا ارتکاب، غاصب انگریز نے بھی نہیں کیا۔ان کے ظلم و تشدد کا بھی ایک پیمانہ ہوا کرتا تھا ،وہ اُسی پیمانے کی حدود میں رہ کر ظلم روا رکھتے تھے اور اجے شرما اور اس کا بیٹا انگریز سےبھی کئی قدم آگے بڑھتے ہوئے دکھائی دئیے ۔
انگریزوں نے کاشت جلائی ، لوگوں کو حراست میں لیا ۔لیکن اس طرح کی سفاکی سے کسی کو لوگوں کوروندا نہیں تھا۔
یاد کریں! ' شاہین باغ 'میں احتجاج کرتی ہوئی خواتین تحریک کو ۔اُس وقت بھی اسی پارٹی کے راہنما کپل مشرا نے کیا کہاتھا؟"گولی مارو سالوں کو!" اور پھر کس طرح بیان کے چند روز بعد دہلی میں فسادات کی آگ بھڑکائی گئی۔اقلیتی فرقہ کےافراد ہلاک کیے گئے ،ان کی املاک لوٹی گئی اور پھر ظلم کی انتہا یہ کہ پولیس نے اُسی فرقے کو ملزم ٹھہرایا اوران پر اَن گنت دفعات لگا کر جیل میں بند کردیا ۔آج تک کئی افراد جیل کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں ،جہاںپولیس دانستہ طورچارج شیٹ داخل کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔
وہیںجس لیڈر کے کہنے پر آگ بھڑکی، اُ س پرباز پرس کے دور ان ہی انعامات کی بارش کی گئی پارٹی میں عمدہ عہدہ دے کر۔ اور پھر 26 جنوری کسان ٹریکٹر مارچ لال قلعہ کا واقعہ بھی ذہن نشیں ہے کہ کس طرح منظم طریقے پر پولیس کی وردی میں غنڈوں نے کسانوں کے منصوبوں پر پانی پھیرا،لال قلعہ کی دیوار پھلانگتے ہوئے کئی کسان نوجوان زخمی ہوئے اور پھر ہلاک بھی کئے گئے ۔حکومت نے اس بربریت کے خلاف کیا ایکشن لیا؟اور پھر’’ ہاتھرس‘‘ سانحہ یاد کیجئے۔ آبروریزی کی متاثرہ دلت لڑکی کو راتوں رات مذہبی رسوم کو درکنار کرتے ہوئے جلا دیا گیا،اس کے بعد پھر کیا ہوا ؟سب کچھ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ ہاتھرس کے بعد متعدد واقعات اخبار ات کی سرخیاں بنیںلیکن واہ رے اَنا ہزارے تواتر کے ساتھ کنبھ کرم کی نیند سو رہے ہیں ،اروند کیجروال بھی انہیں جگانہیں پائے۔
اپوزیشن کا رول نبھانے میںآج کیجر وال اس قدر تذبذب کا شکار کیوںہیں ؟ کیوں کہ آج حکمراں جماعت سابقہ جماعت کی مانند اپوزیشن کی بات سننا نہیں چاہتی ؟ یا پھر قوت ِبرداشت کی مانند قوت سماعت بھی گنواچکی ہے ۔ اس لیے کیجر وال "چپی ماسک"چڑھائے بیٹھے ہیں ۔حکمراں جماعت چیخ چیخ کر اعلان کررہی ہے،اپوزیشن کہاں ہے؟ اپوزیشن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔اپوزیشن ہے !بالکل ہے !!ذرا دیکھئے کہ کس قدر ملک کی متعدد ریاستوںکے چھوٹے بڑے مختلف شہروں میں مظاہرے کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ کوکلتہ سے لے کر تامل ناڈو تک، بہار سے کشمیر تک کسانوں کی ہلاکت کی مخالفت میں کہیں کینڈل مارچ کا اہتمام ہواتھا تو کہیں خاموش جلوس نکالا گیاہے۔
پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو بھی نکل پڑے،لیکن انہیں بیچ راستہ میں روک دیا گیا، ہاتھرس معاملے کی مانند ۔پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کے ساتھ پولیس زور آزمائی کرتی نظر آئی ، بالآخر انھیں لکھیم پور جانے نہیں دیا گیا۔ کیوںجبراً انھیں روکا گیا ؟
اسے کہتے ہیں طاقت۔نظر بند اس بندے کو کرنا چاہئے تھا جس نے موٹرکار کسانوں پر چلا دی۔لیکن قریباً ایک ہفتہ تک وہ آزاد گھومتا رہا اور سوشل سائیٹ پر نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اپنی ویڈیوبھیج کر عوام کے سامنے یہ تاثر دیتا رہا کہ دیکھو حکومت میرے ساتھ ہے ، قانون میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔شید یہ احساس بھی دلا رہا تھا کہ قانون حکومت مخالف نظریہ کے لیے ہے، حکومت حمایتی نظریہ کے لیے نہیں ۔۔۔۔! ہوسکتا ہے کہ اب سب کو موجودہ حکومت اور سابقہ حکومت میںواضح فرق بھی نظر آرہا ہو ۔سابقہ حکومت نے اپوزیشن کو آزادی دے رکھی تھی کہ وہ اپنا کردار نبھائیں ، لیکن یہ حکومت اپوزیشن کی آزادی ہی نہیں سلب کررہی ہے بلکہ ان کا وقار بھی مجروح کررہی ہے ۔
اگر تمام اپوزیشن پارٹیوں متحد ہوکر یک زبان کوئی بات کرتیںتو شاید بات بنتی اور حکومت اور خوشامدیوںنیند حرام کرسکتی مگر۔۔۔۔سب کا شہر ِ عداوت میں ہی بسیرا ہے؟