سرینگر// حکومت نے سرکاری محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے ٹینڈر دستاویزات میں’ خطرات‘‘ سے متعلق معلومات کی شق کو شامل کریں تاکہ تعمیرات میں خطرات کو کم کیا جاسکے ۔آفات سماویٰ انتظام ریلیف، بحالی اور تعمیر نو محکمے کی طرف جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ ہدایات کو کئی ماہ گزر چکے ہیں جب حکومت ہند نے تعمیر سے متعلق تمام سرگرمیوں میں’’ خطرات‘‘ کے خطرے سے متعلق معلومات کو شامل کرے۔سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اپنی منفرد خد و خال اور منفرد جغرافیائی موسمی حالات کے ساتھ جموں و کشمیر کو روایتی طور پر قدرتی آفات کا سامنا ہے۔دستاویز میں کہا گیا’’آج بھی قدرتی خطرات جیسے سیلاب ، آندھی اور زلزلے کوئی معمولی یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے جبکہ ہر خطے کے لحاظ سے خطرہ مختلف ہوتا ہے ، جموں کشمیرکا ایک بڑا حصہ ایسے قدرتی آفات میں آتا ہے جو اکثر آفات کا باعث بنتے ہیں طبقوں کی سماجی و اقتصادی زندگی میں نمایاں خلل ڈالتا ہے جس سے جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔‘‘سرکیولر میں کہا گیا’’اس لیے، آفات سماویٰ انتظام قانون مجریہ 2005 کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال میں تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اس سرکیولرسے منسلک ٹینڈر دستاویزات میں شق کو شامل کریں جو بلڈنگ میٹریلز، ٹریننگ اینڈ پروموشن کونسل میں شامل ہے۔شق میں کہا گیا ہے’’ اٹلس آف انڈیا ایک جامع دستاویز ہے جو موجودہ خطرے کا منظر نامہ فراہم کرتی ہے اور ضلعی وار شناخت کے لیے زلزلے ، آندھیوں اور سیلابوں کے حوالے سے ریاست،مرکز کے زیر انتظام خطے کے نقشے میں ڈیجیٹل تفصیلات پیش کرتی ہے۔ شق میں مزید کہا ،’’بولی دہندگان کے لیے لازمی ہے کہ وہ بھارت کے خطرے سے متعلق خطرے کی تشخیص کے لیے خطرے کی اٹلس کا حوالہ دیں اور اس میں پروجیکٹ مقام کی منصوبہ بندی اور پروجیکٹ کو ڈیزائن کرنے کے لیے متعلقہ خطرے کو شامل کرے۔