سرینگر// نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگرنے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ اس وقت گوناگوں مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں ، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں، بجلی اور پانی کی سپلائی بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے،بے روزگاری اور بے کاری عروج پر ہے جبکہ مہنگانی اور قصاد بازاری نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے ذرائع ابلاغ میں خبروں اور شترمرغ نما اشتہارات میں جو بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں وہ سب فرضی ہیں ۔ساگر نے ان باتوں کا اظہار پارٹی ہیڈکوارٹر پرجنوبی اور شمالی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ عوامی وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے وسطی زون صدر علی محمد، ایڈوکیٹ شوکت احمد گنائی، صبیہ قادری، احسان پردیسی، ڈاکٹر سجاد شفیع اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔جنرل سکریٹری نے کہاکہ لوگوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، لوگوں کو معلوم نہیں وہ اپنے مسائل اور مشکلات لیکر کس کے پاس جائیں۔ سرما نے ابھی دستک بھی نہیں دی ہے کہ بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن جاری ہے اور حکومت سمارٹ میٹر نصب کرنے میں لگی ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح میں صارفین کو معقول اور مناسب بجلی سپلائی فراہم کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بجلی کی سپلائی پوزیشن بہتر بنائی جانی چاہئے اور سمارٹ میٹر نصب کرنے کا کام بعد میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ علی محمد ساگر نے کہاکہ انتظامیہ کی نااہلی اور حکمرانوں کی غفلت شعاری سے جموں وکشمیر میں ہر ایک شعبہ متاثر ہورہا ہے۔ یہاں کا تعلیمی نظام درہم برہم ہے، سیاحتی شعبہ تباہ و برباد ہوکر رہ گیا ہے، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں، کاروباری اور تجارتی ادارے زوال پذیر ہورہے ہیں، روزگار کے مواقع معدوم ہوکر رہ گئے ہیں، امن و قانون کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عارضی ملازمین کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ آئے روز سڑکوں پر احتجاج کے باوجود بھی انہیں ماہانہ مشاہرہ نہیں دیا جارہاہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ انتظامیہ صرف اور صرف ذرائع ابلاغ میں موجود ہے جبکہ زمینی سطح پر انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں۔ افسر شاہی لوگوں کیلئے وبال جان بن گئی ہے ۔