مینڈھر+راجوری//پونچھ مینڈھر کے بھٹہ دھوریاں نار خاص جنگلات میں جاری ملی ٹینٹوں کے خلاف جاری آپریشن طول پکڑتا جا رہا ہے کیونکہ آپریشن جمعہ کو لگاتار 15 دن میں داخل ہو گیا۔پچھلے تین دنوں سے یہاں کوئی گولی نہیں چلی جبکہ بھمبر گلی اور جاراں والی گلی کے درمیان قومی شاہراہ 15ویں دن بدستور بند رہی۔یاد رہے کہ سیکورٹی فورسز نے مقامی دیہات کے 10افراد کو حراست میں لیا ہے۔یہ تصادم 14 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا ہے جب سیکورٹی فورسز کو بھٹہ دھوریاں کے نار خاص جنگلات میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تلاشی کے دوران فوج کی ایک ٹیم اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید گولی باری ہوئی جس میں چار فوجی اہلکار مارے گئے۔ .علاقے میں آپریشن 14 اکتوبر سے جاری ہے اور نار خاص، بھٹہ دھوریاں اور سنجیوٹ کے پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا ہے جس میں فوج اور پولیس دونوں کی بھاری تعیناتی ہے جنہوں نے علاقے میں کثیر سطحی محاصرہ کر رکھا ہے۔تاہم آپریشن طول پکڑتا جا رہا ہے، ابھی تک فورسز کی طرف سے کچھ نتیجہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے جنہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، وہ ابھی تک عسکریت پسند گروپ کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔علاقے میں گزشتہ تین دنوں سے کوئی تازہ فائرنگ نہیں ہوئی ہے اور مکمل طور پر خاموشی کی صورتحال ہے۔ دفاعی ترجمان جموں، لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند نے کہا کہ فوج اور پولیس کی ٹیمیں کام پر ہیں اور علاقے میں تلاشی کارروائی جاری ہے۔ دریں اثنا، پونچھ ضلع کو راجوری اور جموں سے جوڑنے والی قومی شاہراہ 144A جڑواں والی گلی سے بھمبر گلی کے درمیان بند ہے اور 20 کلومیٹر کے اس حصے پر ہر قسم کی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔