راجوری+مینڈھر // راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ دھماکہ میں فوج کا ایک لیفٹیننٹ اور ایک سپاہی ہلاک جبکہ ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسرزخمی ہو۔ادھربھٹہ دھوریاں مینڈھر آپریشن کے 20روز مکمل ہوگئے ہیں۔ نوشہرہ سیکٹر میں تعینات دونوں فوجی 17سکھ لائی یونٹ سے وابستہ تھے اور اگلی چوکی میں انکی تعیناتی تھی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج کی ایک ٹیم کلال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر آگے کے مقام پر معمول کی ڈیوٹی پر تھی ،کہ اس دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے علاقہ لرز اٹھا اور کئی کلومیٹر دور تک دھماکے کی آواز سنی گئی۔اس دھماکے میںتین فوجی جوان جن میں لیفٹیننٹ کے عہدے کا ایک فوجی افسر، ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسراور ایک سپاہی شامل ہے، کو زخمی حالت میں نزدیکی اسپتال لیجایا گیا۔"سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ تینوں کو فوج کے طبی مرکز میں منتقل کیا گیا جہاں دو اہلکاروں نے دم توڑ دیا۔ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں لیفٹیننٹ ریشی کمار اور سپاہی منجیت سنگھ شامل ہیں جبکہ جونیئر کمیشنڈ افسر زیر علاج ہے۔سرکاری ذرائع نے تاہم بتایا کہ دھماکے کی نوعیت واضح نہیں ہے لیکن یہ زور دار نوعیت کا تھا۔بنیادی طور پر یہ ایک بارودی سرنگ کی وجہ سے دھماکہ لگتا ہے لیکن ابھی تک چیزیں پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ادھر16ویں روز بھی بھٹہ دھوریاں مینڈھرجنگل میں آپریشن جاری رہا۔ابھی تک پونچھ راجوری جموں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ہفتہ کو مسلسل 16ویں دن،بھٹہ دھوریاں گائوں کے نار خاص جنگلاتی علاقے میں عسکریت پسندی کے خلاف آپریشن سیکورٹی فورسز کے ساتھ جاری رہا تاحال اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا شبہ ہے۔یہ آپریشن 14 اکتوبر کو نار خاص کے جنگلاتی علاقے میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت چار فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انکائونٹر کے مقام پر خاموشی چوتھے دن میں داخل ہوئی جبکہ انکائونٹرکے بعد تلاشی آپریشن 16ویںدن میں داخل ہوا۔۔سنگیوٹے، نار خاص اور بھٹہ دھوریاں کا پورا علاقہ بدستور محاصرے میںہے۔دوسری جانب بھمبر گلی اور جڑاں والی گلی کے درمیان شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کی بحالی میں کوئی بڑی پیش رفت نظر نہیں آئی ۔