کوٹرنکہ //سب ڈویژ ن کوٹرنکہ کے گورنمنٹ مڈل سکول پہلواڑ کی اضافی عمارت گزشتہ 11برسوں سے مکمل ہی نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم بچے اور سٹاف ممبران بھی پریشان ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ حکام کی جانب سے 2009میں سرکاری سکول کا درجہ بڑھا کر پرائمری سے مڈل کیا تھا تاہم بچوں ی تعداد کو دیکھتے ہوئے اضافی عمارت کی تعمیر کیلئے 4لاکھ 40ہزار روپے وگزار کئے گئے تھے لیکن عمارت کی تعمیر کو مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں لی جارہی ہے جس کی وجہ سے زیر تعمیر عمارت ان کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ تعمیر اتی ایجنسی کی جانب سے سکول کی تعمیر کومکمل کرنے کی جانب دھیان نہیں دیا جارہاہے جس کی وجہ سے بچوں کیساتھ ساتھ سٹاف ممبران کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔محمد اقبال نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر کی گئی لیکن اب زیر تعمیر دیواریں منہدم ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔موصوف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سکول کے سابقہ انچارج نے کئی ہزار روپے ہڑپ لئے ہیں ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ سرکاری سکول میں 90بچے زیر تعلیم ہیں لیکن ان کے بیٹھنے کی کوئی جگہ دستیاب ہی نہیں ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ خراب موسم کے دوران بچے ہمیشہ گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ۔مقامی معززین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سکول کی زیر تعمیر عمارت کو جلدازجلد مکمل کروانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ تعمیر میں ہوئی تاخیر کے سلسلہ میں تحقیقات کروائی جائے ۔