سرینگر// جموں کشمیر حکومت نے مالی سال2021-22 کی بقیہ مدت کے دوران سرکاری محکموں میں اخراجات کو ہموار و منظم کرنے کیلئے سرکیولر جاری کیا ہے جس میں تمام انتظامی سیکریٹریوں، محکموں کے سربراہوں، ڈی ڈی اوز اورٹریجری افسران کو ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بدھ کو جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال 2021-22 کی بقیہ مدت کے دوران سرکاری محکموں کو رقومات کی اصل طلبی کی ضرورت کے مطابق واگزار کی جائے،جبکہ فنڈز کے ضائع ہونے سے بچنے کے لیے ’’سیول ڈیپازٹ ‘ فنڈز جمع کرنے کی تجاویز پر غور نہیں کیا جائے گا تاکہ یہ لیپس نہ ہو۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ ا س مرحلے پر نئی اسکیم وپروجیکٹ پر مشتمل اضافی تجاویز سے گریز کیا جائے گا کیونکہ بجٹ مرتب کرنے کی مشق پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری( مالیاتی کمشنر خزانہ) اتل ڈھلوکی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے’’ اخراجات کو اس طریقے سے منظم کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طریقہ کار کی تعمیل ہو اور کوئی بے قاعدگی، بے نتیجہ یا فضول خرچی نہیں ہو‘‘۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ مالی سال 2021-22 کے دوران اخراجات کی یکساں رفتار کو یقینی بنایا جائے جبکہ مالی سال 2021-22 کی آخری سہ ماہی کے دوران 30 فیصداخراجات کی مجموعی حد برقرار رکھی جائے گی۔آرڈر کے مطابق رواں مالی سال 2021-22 کے آخری مہینے کے دوران اخراجات کو بجٹ مختص کے 15فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔سرکیولر کے مطابق ٹریجری افسراں جی ایف آر2017کے تمام مطلوبہ دفعات اور محکمہ خزانہ کی طرف سے وقتا فوقتا جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی سطح پر اخراجات کی سختی سے نگرانی اور ان کو منظم کریں گے۔،جبکہ ’’اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی کے نتیجے میں متعلقہ افسران یا ملازمین کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے گی۔‘‘سرکیولر میں تمام انتظامی سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موثر طریقے سے اس کی نگرانی کریں اور معیاری اقدامات کے نفاذ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر فائنانس و فائناشل ایڈویزروںاور چیف اکونٹس افسراں ،انتظامی سیکریٹریوںکومتعلقہ اقدامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کیلئے تعاون دینگے جبکہ اس بات سے متنبہ بھی کیا گیا ہے ،کسی خلاف ورزی کی صورت میں محکمہ خزانہ کو باقاعدہ رپورٹ بھی پیش کریں گے۔