سرینگر//2021کایوم قومی تعلیم منانے کے سلسلے میں زرعی یونیورسٹی کے واڈورہ کمپس میں ایک خصوصی پروگرام کاانعقاد کیاگیا۔قومی یوم تعلیم مولاناابولکلام آزاد کی تعلیم اور علم کی تشنگی کویاد کرنے کے طور منایاجاتا ہے۔یہ دن 2008 سے ہرسال آزاد کے اعزازمیں ملک میں تعلیم کو فروغ دینے کیلئے خاص ہے۔پروگرام کاانعقاد خواتین کی تعلیم ،لازمی بنیادی تعلیم ،14برس کی عمر تک تمام بچوں کو مفت اور منصفانہ تعلیم دینے ،پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت اورتیکنیکی تعلیم کو قابل رسائی بنانے کواُجاگر کرنے کی غرض سے کیاگیاتھا۔اس کااہتمام آل انڈیا کونسل فارٹیکنیکل ایجوکیشن اورعالمی بینک کی مالی اعانت سے نیشنل ہائرایگری کلچرایجوکیشن پروجیکٹ نے کیاتھا۔ اپنے استقبالیہ خطبے میں پروفیسرریحانہ حبیب کنٹھ نے طلاب کی تحریری اور بول چال کی صلاحیتوں فروغ دینے پرزوردیا۔ڈین فیکلٹی آف ایگری کلچر نے تعلیم کے قومی دن کی اہمیت اُجاگرکی اورمولاناابوالکلام آزادکو ان کی سالگرہ پرخراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ واقعی استاد قوم کے معمار ہوتے ہیں اورآج کا دن سماج کو انہیں شکریہ اداکرنے اور ان کے دین کااعتراف کرنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے ۔ڈاکٹر پرویزاحمد صوفی نے قومی تعلیمی پالیسی2020پر گفتگوکی جبکہ ڈاکٹر امتیازاحمد لون نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے نظام کی مضبوط بنیادڈالنے میں مولاناابوالکلام آزاد کے رول کوفراموش نہیں کیاجاسکتا۔اس دوران پوسٹ گریجویٹ طلاب اکشے کمار،سیدحجتہ البالغہ اورانشاء جان نے قومی تعلیمی پالیسی 2020پر اپنی رائے کااظہار کیا۔