سرینگر // وادی میں ملاوٹی خوراک، ذہنی دبائو اورکورونا وائرس کے علاج کیلئے طاقت بخش ادویات کے استعمال سے شوگر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وادی میں ذیباطیس معالجین کا کہنا ہے کہ ملک کی طرح کشمیر میں 10فیصد لوگ زیباطیس کے شکار ہیں۔ شوگر بیماری کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت نے ’’ ذیبا طیس کے علاج تک رسائی‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے لیکن پوری دنیا کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی عالمی وباء کی وجہ سے تمام لوگوں کو شوگر کی بیماری کا علاج میسر نہیں ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے 8ماہ او پی ڈی بند رہنے کی وجہ سے لوگوں نے سرکاری اسپتالوں میں علاج و معالجہ کرانا بند کردیا ہے۔ سکمز صورہ میں شعبہ اینڈوکرائنولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر شارق مسعودی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’کشمیر میںکورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے او پی ڈی سہولیات بند رہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019کے مقا بلے میں او پی ڈی میں 30فیصد کمی آئی ہے۔ ڈاکٹر شارق مسعودی نے بتایا ’’ وادی میں پھر وباء پھیلنے سے او پی ڈی کا رش اب 50فیصد کم ہوگیا ہے۔حالیہ سروے رپورٹ پر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نے بتایا ’’ وادی میں عام لوگوں میںذیبا طیس کے حوالے سے ابھی کوئی تازہ سروے نہیں ہوئی ہے لیکن گجر بکروال طبقے میں بلڈ شوگر کی سروے کی گئی ہے‘‘۔ڈاکٹر اشرف نے بتایا ’ متعلقہ طبقے میں 4فیصد لوگوں کو بلڈ شوگر ہے جن میں 1.9فیصد خواتین جبکہ 2.1فیصد مرد شامل ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ کشمیر میں شوگر بیماری پھیلنے کی بڑی وجہ محنت اور ورزش کا کم ہونا ہے اور اسی وجہ سے یہاں نوجوانوں میں شوگر کی بیماری کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ڈاکٹر اشرف نے بتایا ’’ موجودہ دورمیں شوگر بیماری پھیلنے کی بڑی وجہ ملاوٹی غذا، ذہنی دبائو اور حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی عالمی وباء ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوئے اور لوگوں کا وزن بڑھ گیا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ وزن بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کے خون میں شوگر کی مقدار بھی زیادہ ہوگئی ہے‘‘۔ ڈاکٹر اشرف نے بتایا ’’ کورونا وائرس کے علاج میں steriods کا استعمال کیا گیا ہے اور اسکی وجہ سے بلڈ شوگر کے نئے مریض بھی آئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے علاج کے دوران شوگر بیماری کے شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد پر سروے ابھی جاری ہے‘‘۔سکمز صورہ میں شعبہ اینڈوکرائنولوجی کے سربراہ ڈاکٹر بشیر احمد لاوے نے بتایا کہ کویڈ کے دوران ٹیلی میڈیسن کا اہتمام کیا گیا کیونکہ لوگ اسپتال آنے سے گریز کررہے تھے‘‘۔