ڈوڈہ //سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سنیئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ دفعہ 370 و 35اے کو ختم کر کے بھاجپا نے ہندوستان کی سب سے بڑی و پرانی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے جموں و کشمیر کی 175 سالہ تاریخ کو مسخ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایسا ہے کہ گویا کالج سے بچے کو نکال کر پرائمری اسکول میں داخل کیا جائے جو کہ بی جے پی نے کیا۔ آزاد، ٹھاٹھری ڈوڈہ میں ایک بھاری عوامی جلسہ سے خطاب کررہے تھے ان کے ہمراہ سابق وزرا جگل کشور شرما ،غلام محمد سروڑی، وقار رسول وانی،سابق ایم ایل سی نریش کمار گپتا ،ضلع صدر شیخ مجیب علی بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے غلط طریقے سے جموں و کشمیر کی تاریخ کو پیش کیا اور یہ بتایا گیاکہ تعلیم یہاں مفت نہیں ہے اور مخصوص طبقوں کو ریزرویشن سے محروم رکھا جاتا ہے ،جبکہ 2011 میں یو پی اے دوم کی حکومت میں پورے ملک میں چھٹی جماعت سے گریجویشن تک مفت تعلیمی پالیسی کو لاگو کیا لیکن جموں و کشمیر واحد ایسی ریاست تھی جہاں پچاس کی دہائی سے ہی پوسٹ گریجویشن تک مفت تعلیم دی جاتی ہے۔آزاد نے کہا کہ بی جے پی نے بڑے بڑے صنعتی ادارے کھولنے کے لئے 370 کو رکاوٹ قرار دیا لیکن سانبہ، کٹھوعہ میں برلہ کی سب سے بڑی انڈسٹری 1962 سے چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر باہر کے لوگ یہاں زمین نہیں خرید سکتے تھے تو پھر برلہ کی انڈسٹری کیسے وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ 370 و 35اے کی منسوخی کو اڑھائی سال ہو گئے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے کونسی بڑی انڈسٹری کا قیام عمل میں لایااور اس کے بجائے تیرہ ہزار انڈسٹریوں میں سے سات ہزار صنعتی ادارے بند ہوئے ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی نے سابق حکومتوں کے خلاف ایسا ماحول قائم کیا کہ انہوں نے رشوت خوری کے سوا کچھ کیا ہی نہیں ہے اور یہ دعوی کرتے تھے کہ ہمارے دور میں گھر گھر روزگار فراہم کیا جائے گا، ترقی و خوشحالی آئے گی لیکن بی جے پی سرکار بھی بنی جس کی کارکردگی سے عوام اب پوری طرح واقف ہو گئی ہے۔آزاد نے کہا کہ کوئی بھی مذہب نفرت کا درس نہیں دیتا ہے بلکہ ہر مذہب انسانیت، بھائی چارے و پیار محبت کا پیغام دیتا ہے لیکن یہ لوگ فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دے کر اللہ و بھگوان کی توہین کرتے ہیں جس نے پوری کائنات کو وجود بخشا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں اور ہندو و مسلمان کو لڑایا جاتا ہے۔مذہب، اونچ نیچ، ذات پات و رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے ہندوستان کا خواب مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا آزاد و سردار پٹیل نے نہیں دیکھا تھا۔آزاد نے کہا کہ میں نے کبھی بھی ہندو مسلم کی سیاست نہیں کی ہے بلکہ مجھ سے جتنا لگائو مسلمان رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمدردی ہندو برداری کے لوگ کرتے ہیں۔اراضی پر مالکانہ حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یو پی اے اول کے دور حکومت میں اس کو پارلیمنٹ میں بنایا تھا جو کہ ملک کی کئی ریاستوں میں لاگو ہے لیکن جموں و کشمیر میں اس کو لاگو نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سرکار انسان سے زیادہ جنگل کو ترجیح دے رہی ہے جو کہ افسوسناک ہے ۔عوامی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری و مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔آنگن واڑی، آشا ورکرز رہبر کھیل، ڈاکٹر ،انجینئرنگ کی ڈگری و ڈاکٹریٹ کی ڈگری لئے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان مانگوں کو لے کر آئے روز سڑکوں پر اُتر رہے ہیں۔پانی کی کمی سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو روزگار نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حالت 5 سال پہلے تھی اس سے بیس سال پیچھے آج چلا گیا۔آزاد نے کہا کہ ریاست کی بحالی تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جس کے لئے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی شامل ہوں گے۔