سرینگر/بلال فرقانی/ انسداد رشوت ستانی ادارے’اینٹی کورپشن بیورو‘ نے سابق چیف میڈیکل افسر بڈگام کے خلاف خرد برد کے ایک معاملے میں سرینگر کی ایک خصوصی عدالت میں چارج شیٹ پیش کیا۔ اینٹی کورپشن بیورو میں اس کیس کا اندراج سال2009-10میں چیف میڈیکل آفس بڈگام میں17لاکھ روپے کے خرد برد کے الزام پر تحقیقات کے بعد درج کیا گیا تھا۔ اے سی بی کے مطابق، کیس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گاڑیوں کی خریداری اور مرمت سے متعلق فرضی بل تیار کرکے خزانہ عامر کو 11لاکھ78ہزار240روپے کانقصان پہنچایا گیا۔ چیف میڈیکل افسر بڈگام نے دیگر ملزمان کے ساتھ ساز باز کرکے8لاکھ ایک ہزا990روپے نکالے اور نجی فرم کو دئیے گئے۔اے سی بی کے مطابق3 گاڑیوں کی مرمت سرے سے ہی نہیں کی گئی،اور نہ ہی ان کو اس کیلئے رقم دی گئی۔ دو ’ ایل ای ڈی ہورڈنگس‘کی تنصیب اور شارٹ فلموں کی تیاری کا سپلائی آرڈر میسرز آسکر سنے میڈیا گروپ سرینگر کے حق میں بغیر نرخوں کی معقولیت کا پتہ لگائے اور ضرورت سے زیادہ مسابقت پیدا کیے بغیر دیا گیا، جس کے نتیجے میں88ہزار250روپے اضافی رقم سپلائی کرنے والی فرم کو دی گئی۔اے سی بی کا کنا ہے ملزمان، ماسوائے ایک فوت شدہ ملزم کو اینٹی کورپشن کی خصوصی عدالت سرینگر میں پیش کیا گیا۔اس کیس کی آئندہ شنوائی28جنوری2022کو مقرر کی گئی ہے۔