بماکو//مغربی افریقی ملک مالی میں ایک سال کے دوران غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 3گنا بڑھ کر 12لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ملک میں سرگرم 22 انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ اس کی وجوہات سلامتی کی مخدوش صورتحال، موسم کی وجہ سے فصلوں کی تباہی اور کورونا وائرس کی وبا ہے۔ تقریباً 4لاکھ افراد پہلے ہی مالی سے فرار ہو چکے ہیں۔ مسلسل خشک سالی نے 2لاکھ 25ہزار ایکٹر سے زیادہ کھیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ مقامی ملیشیاوں اور گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے امدادی تنظیمیں اب ضرورت مندوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔اس سے قبل امریکا میں موجود ایک تھنک ٹینک نے موسم سرما میں 10 لاکھ افغان بچوں کے بھوک سے مرنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان پر پابندیوں میں نرمی کرے تاکہ "ریاستی ناکامی اور بڑے پیمانے پر فاقہ کشی" سے بچا جاسکے۔ واشنگٹن میں قائم بین الاقوامی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "افغانستان میں ریاست کی ناکامی اور بڑے پیمانے پر بھوک سے بچنے کے لیے بین الاقوامی طاقتوں کو پابندیوں میں نرمی کرنی چاہیے۔