قدرت نے انسان کو احساس و جذبات کی دولت سے مالامال پیدا فرمایا ہے اور شعور کی دولت سے نوازا ہے، تاکہ اپنے اچھے برے کو خوب اچھی طرح پہچان سکے کہ اس کے لیے کیا مفید ونفع بخش ہے اور کس چیز میں خسارہ و نقصان ہے، اور اس طرح اپنی زندگی خوش گوار گزارے۔ قرآن مجید نے اس بات پر خوب زور دیا ہے کہ انسان کو بیکار پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے: ترجمہ۔’’کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا ‘‘(القرآن۔٣٦۔ قیامہ)
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بالکل آزاد نہ جانے بلکہ ذمہ دار سمجھے۔ یعنی جن چیزوں کو کرنے کا حکم ہے، اُن کو کرے اور جن سے منع کیا گیا ہے، اُن کے قریب بھی نہ جائے ۔ سورہ فاتحہ کے بغور مطالعے سے بھی یہ بات خوب صاف ہوجاتی ہے کہ انسان جانوروں کی طرح آزاد نہیں بنا بلکہ ذمہ دار بنا ہے۔ اس آیت، مَـٰلِكِ یَومِ ٱ ِالدّین پرغور فرمائیں۔ یعنی اللہ پاک روز جزا کا مالک ہے ۔یہ آیت کریمہ نماز کی ہر رکعت میں قرأت کی جاتی ہے کہ انسان جو بھی کام کرتا ہے اچھا ہو یابُرا قیامت کے دن اس کا حساب ہوگا ۔ اب جس کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہوگیا تو مانو اب وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہو گیا ۔ جس وقت بھی کوئی کام کرے گا تو اس کے دل میں یہ خیال ضرور آئے گا کہ اس کا مجھ سے حساب ہونا ہے۔ اسی کا نام اپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن پاک کی پہلی صورت ہی ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ نماز انسان کو ذمہ دار بناتی ہے : ۔ہر مسلمان پر پانچ وقت کی نماز اُن کے وقتوں میں ادا کرنا فرض ہے کیونکہ اللہ پاک نے اس کو فرض کیا ہے، نماز بھی ہمیں روزانہ ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے کہ یہ وہ اہم فریضہ ہے ،جس کا ادا کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسے بہت سے لوگ گلیوں چوراہوں پر لہو و لعب میں خوب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جنہیں نہ کوئی پریشانی اور نہ ہی کوئی دکھ ہے مگر پھر بھی نماز نہیں پڑھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو احساس ذمہ داری نہیں ہے۔ انہیں اس چیز کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ نماز کا چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے اور ربّ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
اسی طرح نماز کے علاوہ زکواۃ و حج وغیرہ کے بارے میں لوگ کتنی لاپرواہی کرتے ہیں۔ حالانکہ سارے مسلمان بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اللہ پاک کا مالدار مسلمانوں پر فرض ہے۔ لاکھوں مالدار مسلمان ہمارے اپنے ہی وطن عزیز میں موجود ہیں مگر زکوٰۃو حج کا فریضہ صرف وہی خوش بخت مسلمان ادا کرتے ہیں، جن کو احساس ذمہ داری ہے کہ اللہ پاک کے دینے سے ہم مال والے ہیں اور اُس مال سے زکوٰۃ کا چالیسواں حصہ نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اور زندگی میں ایک بار حج کرنا ہم پر فرض ہے۔
والدین کی ذمہ داری :۔کہا جاتا ہے کہ والدین برتن بنانے والے کمہار کی مانند ہیں، جس طرح سے وہ برتن بناتا ہے ایسے ہی ماں باپ بھی اپنے بچوں کو اچھا انسان بناتے ہیں اور ان کی ایسی تربیت کرتے ہیں کہ بچہ آنے والی زندگی میں اپنے مذہب و ملک کی خوب خدمت کرے اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہو۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب کہ والدین اچھی طرح اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر نبھائیں۔ ورنہ بغیر تعلیم و تربیت کے بچے تو پل جاتے ہیں ،جس طرح جانوروں کے بچے پل جاتے ہیں۔ مگر ہوتے وہ جانورہی ہیں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے حدیث شریف میں ماں باپ کو ان کی ذمہ داری کا خوب احساس دلایا گیا ہے۔
کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ والد کا اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ ( ترمذی، کتاب البر و الصلۃ) سبحان الله! کتنی اچھی تعلیم ہے کہ ماں باپ اولاد کو وراثت میں مال و زر چھوڑیں یا نہ چھوڑیں مگر ان کو تعلیم و تربیت کے زیور سے ضرور آراستہ کریں۔ تاکہ وہ اچھی زندگی گزاریں اور خلق خدا کو ان سے خوب فائدہ ہو۔ بچوں کی تعلیم کے تعلق سے مسلمان کتنے حساس ہیں، اس کو کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ بات اب جگ ظاہر ہے۔ حالاںکہ یہ وہی قوم ہے جس کی ابتدا ہی إقرأ، سے ہوئی تھی ۔ مگر افسوس! سب سے زیادہ بےروزگاری اور تعلیم سے دوری اسی قوم میں نظر آتی ہے۔ بلکہ اب تو یہ حال ہے کہ دلتوں سے بھی نیچے جا چکے ہیں۔
صاحب ثروت کی احساس ذمہ داری : ۔اگر مال کو حلال طریقے سے کمایا جائے اور جائز مصرف میں خرچ کیا جائے تو یہی مال جنت کمانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے غریبوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور دین و مذہب کو خوب فروغ اور اس کا اچھے سے دفاع کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں ہم حضرت صلاح الدین ایوبی کا واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ اس واقعہ کو ترکی کےعالم دین فتح اللہ گولن نے اپنی کتاب ,دعوت و تبلیغ کا نبوی اسلوب، میں لکھا ہے۔
جب تک بیت المقدس صلیبیوں کے قبضہ میں رہا، صلاح الدین ایوبی سالہا سال روتے رہے ۔ان کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ یا ہنسی کے آثار نہیں دیکھے گئے۔ یہاں تک کہ ایک دن خطیب نے جمعہ کے خطبے میں مسکراہٹ اور ہنسی کی ضرورت پر تقریر کی تو صلاح الدین ایوبی نے وہ بات کہی جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ ’’شاید تمہارا اشارہ میری طرف تھا لیکن خدا کی قسم مجھے بتاؤ تو کہ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کیسے آئے جبکہ وہ مسجد، جس سے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے، اللہ کے دشمنوں کے قبضے میں ہے‘‘؟ ( دعوت و تبلیغ کا منہج )
دیکھا آپ نے بادشاہ کو کتنا اپنی ذمہ داری کا احساس تھا کہ سالوں سال نہ مسکرائے ۔ اس واقعے میں پوری قوم کے لئے نصیحت و عبرت ہےکہ اگر دین پر کوئی حرف آئے تو ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ اس کا دفاع کیا جائے، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا نہ جائے۔ اور حدیث میں ہے کہ تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔
استاد کی ذمہ داری : ۔کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں ایک استاد کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کو معمار قوم کہتے ہیں ۔ اگر اس کے اندر احساس ذمہ داری نہ ہو تو پھر الامان والحفیظ۔ لہٰذا اساتذہ کے اندر احساس ذمہ داری کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے بخاری شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے’’تفقہوا قبل ان تسودوا‘‘ یعنی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ کیونکہ بے علم آدمی اچھے طریقہ سے اپنی ذمہ داری کو ادا ہی نہیں کر پائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور اس کو اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور یہ صرف احساس ذمہ داری سے ہی ہوگا۔
(البرکات علی گڑھ۔[email protected])