یہ ایک حقیقت ہے کہ ادب سماج کا آئینہ ہے۔ جو بات انسان براہ راست نہیں کہہ پاتا ہے، ادب اس کا معقول ذریعہ ہے۔ جب سے اس دنیا میں انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے، تب سے لے کر آج تک انسان نے اپنے ماحول اور اپنے آپ کو لکھنے کی کوشش کی ہے۔ ادب کسی بھی زبان کا ہو، ادب بنیادی طور پر یکساں ہوتا ہے۔انسان نے خواہشات کو، ظلم و جبر کو، تنازعات کو، سماجی برائیوں کو، آنے والے کل کو، گزرے ہوئے زمانے کے حالات، وغیرہ کو الفاظ کے سانچے میں ڈالا۔ ادب ہر زمانے میں ایک اثر دار شعر کی صورت میں نکھر کر آیا ہے۔ اس نے سماج کو بدلنے میں بہت زیادہ رول ادا کیا ہے۔ اگر ہم آج کے زمانے کی بات کرے، تو ادب کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سماجی سطح پر، سیاسی سطح پر، اقتصادی سطح پر، اخلاقی سطح پر، نیز اس کا ہونا پہلے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔
سماجی سطح پر ایسی برائیاں ہمارے سماج میں داخل ہوچکی ہیں، جس کا تصور ایک ذی حس انسان کو یا تو کھلم کھلا بولنے پر مجبور کرتا ہے یا پھر اس کو ادب کی پناہ میں جگہ لینے کے لئے مجبور کررہا ہے۔ خودکشی، جہیز، جسم فروشی، قتل، چوری، جھوٹ، منشیات، وغیرہ اتنے عام ہوچکے ہیں کہ انسان اونچی آواز میں بولنے سے کانپتا ہے، مگر ادب کے ذریعہ اپنی بات رکھ پاتا ہے۔ دنیا کے بڑے ادباء نے اپنے فن سے سماج کی ان دکھتی ہوئی رگوں کو چھیڑا، جن کو براہ راست کہنا بہت زیادہ مشکل تھا، مگر ادب کے ملائم خنجر نے ساری مسائل کا خوبصورت انداز میں احاطہ کرلیا۔ اس سے ہم ادب کی گہرائیوں کا ادراک کرسکتے ہیں۔ اس سے وہ مسائل ابھر کر سامنے آئے جو مٹی کے نیچے دفن تھے۔ وہ خصائل جن کو احسن کا نام دیا گیا تھا، ان کو حقیقی روپ میں پیش کرنے میں جو چیز سب سے پہلے رہی، وہ ادب ہے۔ سیاسی سطح پر ادب نے عیارومکار سیاست کاروں کو ننگا کردیا۔ اپنے ملک کے چھوٹ جانے کا غم، اپنوں سے دور جانے کا غم، اپنوں کا گندی سیاست کا شکار بننا، وغیرہ یہ سب مسائل ادب کی گرفت میں آگئے۔ ایک ملک کا بٹوارہ ہونا، ایک سیاسی گروہ کا دوسرے گروہ کو غلط ثابت کرنا اور انسانیت کو کچھ مخصوص سیاسی اصول پر توڑ دینا، وغیرہ سب ادب کی نوک سے نہیں بچ سکے۔ اردو سے لے کے انگریزی میں، دونوں زبانوں میں سیاست کے مضر اثرات کی بات کی گئی ہیں۔ معصوموں کا قتل عام اور عورتوں کی بے حرمتی بھی سیاسی ادب کا حصہ ضرور بنیں۔ اقتصادی سطح پر غربت اور روزگار چلے جانے کا غم بھی ادب کا ایک حصہ بنا۔ غربت کے نقصانات اور امیری کی اچھائیاں خوب سے خوب ترین اندازا میں پیش کی گئی۔ روز گار چھوٹنے کا غم بھی، ادباء کے اقلام سے دور نہیں رہا۔ جب گورنمنٹ کی نااہلی سے یا پھر دوسرے وجوہات سے عام لوگوں کا روزگار چھن گیا، تو ادب اُس وقت امید کی لہر بن کر سامنے آیا۔ جس بات کے کہنے پر جیل جانا نصیب تھا، وہ بات بہت ہی دھیمے مگر اثر دار انداز میں ادب کے ذریعہ بولی گئی۔
اخلاقی لحاظ سے بھی ادب کہیںبھی پیچھے نہیں رہا۔ سماج جب بھی اخلاقی راہ سے دور ہوتا گیا، تب ادب نے اس کو کسی کا بھی دل دُکھائے بغیر ایسا وار کیا کہ جرائم کے بہت ساری بنیادیں لرز گئیں۔ کسی بھی بے اخلاق انسان کو راہ راست پر لانے کے لئے ادب نے اس کو رسوا کئے بغیر اس کو اپنے پاس بٹھا کر اس کو اچھا انسان بنانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ سماج میں مذہبی جنون کا راز فاش کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ لوگوں کو اس بات پر تیار کروایا کہ مذہب کا بنیادی مقصد کیا ہے۔ اس سے جوڑ کر رہنا کیوں فائدہ کا باعث ہے اور اس سے دور بھاگنا کس طرح کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
مگر یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ ادب کو ادب کے دائرے میں رہنا ضروری ہے۔ آج کے زمانے میں ادب کو حقیر مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ سیاسی اور خودغرضی کی وجہ سے اب ادب ایک بے اثر چیز رہ گئی ہے۔ لوگ اب ادب کو ایک بکی ہوئی چیز تصور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ادب اب زندگی کو حقیقی معنوں میں احاطہ نہیں کرپاتا ہے۔ قلم بک چکے ہیں۔ اصلی ادباء نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے قلم کو توڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ادباء کو وہ مقام میں نہیں ملتا ہے، جس کے وہ مستحق ہیں۔ ان کو ان لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو زیادہ سوچنے کی وجہ سے اب نااہل بن گئے ہیں۔ ادباء کے کالموں کو بھی لوگ اسلئے بھی نہیں پڑتے ہیں کیونکہ تعلیم کا معیار بھی حدتک گر چکا ہے۔ ادب اور تعلیم کا بہت نزدیک کا رشتہ ہے۔ ان کو الگ الگ سوچنا حماقت سے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ ادب وہ مقام واپس دلایا جائے، جس کاوہ مستحق ہے۔ اب بھی سماج میں بہت سارے ایسے مسائل ہیں، جو ادباء کے قلم کے منتظر ہیں۔ اس ضمن میں ہم سب کو آگے آنا ہوگا۔ تو آیئے باشعور اقوام کی طرح ادب کو زندگی کا ایک لازمی حصہ بنائیں۔ اپنے بچوں کو ذہین دماغوں کو پڑھنے کی عادت ڈالے۔ چین نے ایک معقول بات کہی ہے کہ سو سالوں کے لئے اگر پلان کرنا چاہتے ہو، تو ادب اور تعلیم کو لازم و ملزوم بنا لو۔
مدرس حسینی پبلک اسکول ایچ، ایم ،ٹی، زینہ کوٹ، سرینگر
7889346763