اللہ تبارک وتعالی کی تخلیق کائنات میں ربّانی منصوبہ بندی جلوہ گر ہے۔ اس تخلیق کا ہر عنصر باہمی تعلق و تعامل کا اعلی شاہکار ہے۔ نباتات و جمادات، چرند و پرند، حشرات الارض، غرض مظاہر کائنات کا ہر جز بے نقص اور با مقصد ہے۔ تنظیم و ترتیب کی اس عظمت کے باوجود جو ہستی کائنات کی مقصدیت کے ساتھ ساتھ اس کی رونق کا سامان کرتی ہے، وہ بے شک انسان ہے۔
قرآن تخلیق کائنات کو مجموئی حیثیت سے ایک باوقعت واقعہ قرار دیتا ہے، جس کا عبس ہونا بالکل محال ہے۔ لیکن تخلیق آدم کو قرآن اللہ تعالی کی خلّاقیت کے اعلی ترین نمونے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انسان کا وجود کائنات کے اندر موجود ہر شٔے میں معنویت پیدا کرتا ہے اور فطرت کے تمام مظاہر کو ایک خاص عنوان عطا کرتا ہے۔
اس طرح اس بات کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ہر شۓ کو حق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور اللہ تعالی کی پیدا کردہ کوئی بھی چیز کھیل تماشے کی خاطر وجود میں نہیں لائی گئ ہے۔ تاہم انسان کی تخلیق کا ذکرقرآن میں جس انداز اور جس شان کے ساتھ کیا گیا ہے اس کی نظیر نہ تو باقی مذہبی کتابوں میں مل سکتی ہے اور نہ ہی باقی الہامی کتابیں اس کا احاطہ کر سکی ہیں۔
انسان کی اس نرالی اور انوکھی خلقت کو قرآن نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔ مشہور اور معروف طور پرخود انسان کو باور کرایا گیا ہے کہ آپ کو بہترین ساخت عطا کی گئ ہے (قرآن، التین:4)۔ اگرچہ کسی بھی چیز کو وجود بخشنے کے لئے اللہ تعالی کا قائدہ "کن فیکون" ہے لیکن انسان کی تخلیق کے سلسلے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ "ہم نے اسے دو دو ہاتھ سے پیدا کیا ہے" (قرآن، ص:75)۔
انسان کی اس تمام ترحسن ساخت کے باوجود جو چیز اس کو مقام عظمت عطا کرتی ہے، وہ اللہ تعالی کا عطا کردہ علم ہے۔ اسی علم کی بدولت انسان کو فرشتوں کے سامنے ایک باوقار وجود کے طور پر متعارف کرایا گیا (قرآن، البقرہ، 32، 33)۔ یہی وجہ ہے کہ علم کے حصول کے لئے اللہ تعالی نے انسان کو مختلف ذرائع عطا فرمائے،جن میں کان، آنکھ اور دل (قرآن، النحل: 78) کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن جو اہم ترین چیز یا ذریعہ جزوی علم کو ذخیرہ کرکے ماضی،حال اور مستفبل کو مربوط کرتا ہے وہ انسان کی عقل اور فہم ہے۔
اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تسویہ بھی کیا، اس کی تقدیر بھی بنائی اور اس کی ہدایت کا سامان بھی کیا (قرآن، الاعلی: 2، 3)۔ تاہم یہ عقل، فکر، فہم اور لب ہیں جو کائنات میں بکھری آیات (نشانیوں) کا تجزیہ کرکے اللہ تعالی کی عطا کردہ ہدایت پرانسان کو نہ صرف عمل کرنے پر ابھارتے ہیں بلکہ ہدایت کی نعمت عظمی کی حفاظت کا سامان بھی کرتے ہیں۔
اب منشیات کی تاریخ اور تعریف پر غور کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ نشہ سب سے پہلے انسان کی عقل اور فکر کو ماؤف کرکے اس کے شرف و امتیاز کو غارت کرکے اس کو اسفل سافلین میں گرادیتا ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقاصد شریعت میں تحفظ دین کے ساتھ ساتھ تحفظ عقل وفکر اور تحفظ عزت و آبرو کی مرکزی اہمیت ہے۔ اب منشیات ان بنیادوں کو ایک ایک کرکے منہدم کرتی ہیں اور معاشرے کے قصر کو ڈھیر کرتی ہیں۔
نئی تہذیب نے منشیات کے تصور کی کچھ اس طرح ملمع سازی کی ہے کہ یہ تفریحات کے دائرے میں شامل ہوگئیں۔ اس طرح جدید دنیا منشیات کو زندگی کے اس تصور کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوگئی جہاں دنیا کی ہر شۓسے امکانات کی آخری حد تک حظ و سرور حاصل کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہی زندگی کی شان اور حیات انسانی کا اصل مقصد ہے۔ دین مبین نے تاہم انسان کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر انسانیت کے اس رجحان کا سدباب یہ کہہ کر کیا تھا کہ "خمر (شراب) میں اگرچہ کچھ فائدہ ہے، لیکن اس کا گناہ اس کے نفع سے بڑا ہے" (قرآن، البقرہ: 218، 219)۔ اور "خمریات دراصل شیطانی گندے کاموں میں سے ایک کام ہے، جس کے ذریعے شیطان لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرتا ہے- اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے" (قرآن، المائدہ: 90-91)۔
اب جبکہ نشہ ایک شیطانی کام ہے تو شیطان کی روز اوّل سے یہ کوشش ہے کہ انسان کو بہکایا جائے کیونکہ وہ انسان کا کھلا اور ازلی دشمن ہے۔ دشمنی کا تقاضا ہے کہ انسان کو منصب خلافت سے اتروایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انسان کی عقل و فکر کو بے کار کرنا شیطان کا پہلا ہدف ہے، جس کے لئے نشہ آور اشیاء شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ منشیات کے استعمال میں چونکہ تبذیر کا پہلو بھی شامل ہے، اس لئے شیطان انسان کو منشیات کا عادی بناکر دراصل اپنے اخوان (قرآن، بنی اسرائیل: 27) کی کھیتی اگاتا ہے اور حزب الشیطان کو فروغ دیتا ہے۔
شیطان منشیات کے ذریعے ساتھ ساتھ انسان کی عزت و آبرو اور عفت و عصمت پر بھی شب خون مارتا ہے۔ کیونکہ ابتداء آفرینش سے ہی اس نے اس کے لئے تگ و دو شروع کررکھی تھی (قرآن، الاعراف: 27)۔ سرور، مدہوشی، بیہوشی، خمار اور قذف کے ساتھ ساتھ منشیات کا عادی انسان جنسی بیراہ روی کا شکار ہوجاتا ہے۔ چونکہ افراد کے اجتماع سے ہی معاشرہ وجود پذیر ہوتا ہے، اس لئے معاشرے کا بنیادی ادارہ یعنی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ لیکن بات صرف خاندان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورا معاشرہ جنسی انارکی کا اکھاڑہ بن جاتا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ نوجوان ہی دراصل کسی بھی معاشرے کا متاع بیش قیمت ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمّہ دار نوجوان ہی ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام میں ابراہیم علیہ السلام کی توحید کی علمبرداری سے بھی یہ بات واضح ہے اور اصحاب کہف کی ایمان کی رکھوالی بھی اسی اصول کو ظاہر کرتی ہے۔ نوجوان کے اندرجو کچھ نیا کرنے کا رجحان ہوتا ہے اس کو منشیات کا دیو اپنا نوالہ بنالیتا ہے۔ ذہنی طور پر شکست خوردہ اور جنسی تخریب کا شکار نوجوان آہستہ آہستہ جسمانی حیثیت سے بھی مفلوج ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب معاشرے کا معتدبہ طبقہ تقریبا" ناکارہ ہوجاتا ہے تو معاشرہ اقتصادی طور پر بھی دیوالیہ ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شراب (خمر) کو اسلام میں ام الخبائث یعنی خرابیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہر شخص کو گناہگار جتایا گیا ہے۔ یہاں پر اس بات کا ذکر نہایت ضروری ہے کہ منشیات کی نت نئی اقسام اسی زمرے میں شامل ہیں جن پر انہی احکام کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ یہ بھی انسان کی عقل، انسان کی عزت، انسان کی معیشت، انسان کی صحت، غرض انسان کے دین و دنیا کو برباد کردیتیں ہیں۔
منشیات علاوہ ازیں نہ صرف افراد بلکہ مسلم معاشروں کی اجتماعی یاداشت سے تصوّر امّت مٹادیتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس معاشرے کے افراد آپ اپنی بھلائی سے لاپرواہ ہوجائیں، وہ امّت کے غم میں کیوں کر شریک ہوجائیں؛ ان کو امّت کی آفاقیت سے کیا واسطہ؛ ان کو امّت کی عالمگیریت سے کیا لینا دینا؛ ان کو "جسد واحد" کی حقیقت سے کیا سروکار!
البتہ سیرت صحابہ کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے اللہ کے حکم سے منشیات کو خیرباد کہا اور ملّت اسلامیہ کو ایک عالمگیر شناخت عطا کی۔ اس ضمن میں صحابئ رسولۖ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ شراب کی حتمی حرمت سے قبل ایک بار آپ نشے کی حالت میں نماز پڑھارہے تھے۔ ظاہر ہے کہ آنجناب نمازکا حق ادا نہ کرسکے۔ اس پر وہ مشہورآیت نازل ہوگئی جس میں ایسی حالت میں نماز سے دور رہنے کا حکم دیا گیا (قرآن، النساء :43)۔ یہی عبد الرحمن مہاجرین کی انصار کے ساتھ مؤاخات کے باوجود اپنی تجارت کا پیشہ برقرار رکھنے کی اجازت رسولؐ سے حاصل کرکے مدینہ منوّرہ کی منڈی کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد نہ صرف ایک کامیاب تاجر کے طور پر ابھرتے ہیں بلکہ مدینہ کے بازاروں سے یہودیوں کی استحصالی تجارت کی کمر توڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ اس طرح آپ عظیم سالار بننے سے قبل ہی امّت مسلمہ کو مالی استحکام عطا کرتے ہیں۔
تاہم تہذیبوں کی ثقافتی و مالی ترقی ان کے افراد کی جانفشانی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ مختلف تہذیببوں کا تعامل نہایت سخت جان افراد کو عیش کوش بنادیتا ہے۔ اب شراب کے ساتھ موسیقی شامل ہوجاتی ہے۔ ایوان اقتدار ان محفلوں کے دلدادہ اور سرپرست بن جاتے ہیں۔ ان مشغلوں کی حرمت کا تصوّر مٹ جاتا ہے۔ اس نقطے پر پہنچ کر ایسی قوموں سے دنیا کی پیشوائی کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کے قانون تغیر و تبدل کے تحت نئی اور تازہ دم قوم کو سامنے لایا جاتا ہے، جو فطرت کے قوانین پر عمل پیرا ہوکرانسانیت کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھاتی ہے۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنے منفرد انداز میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
آ تجھ کو بتاؤں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل طاؤس و رباب آخر
رابطہ 9858471965