حیدرآباد/دوستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ جیتنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔آندھراپردیش کے ضلع گنٹور سے تعلق رکھنے والے شیخ رشید نے ٹورنمنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل میں شاندار کارکردگی دکھائی اور ٹیم کو ٹرافی دلانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ شیخ رشید کے والدین اور مقامی افرادان کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ والدین اور مقامی افرادکی یہ خواہش ہے کہ شیخ رشید مستقبل میں قومی ٹیم کے لئے منتخب ہوں۔ ان تمام نے ٹیم انڈیا کی کامیابی میں اہم رول اداکرنے پر خوشی ظاہر کی۔ان کے والد شیخ ولی نے کہا کہ ان کے بیٹے کو مشکل سے یہ مقام ملا ہے ۔نئی نسل کے بچوں کے لئے وہ جذبہ ہے ۔ان کے خاندان کا تعلق متوسط درجہ سے ہے ۔ابتدا میں کھیل کے سلسلہ میں ان کے فرزند نے کافی جدوجہد کی اورمقامی اکیڈیمی میں تربیت حاصل کی۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ کوچ کرشنا، نرمل اورامتیاز سے ان کے فرزند نے تربیت حاصل کی جنہوں نے ان کے فرزند کی کافی مدد کی۔وہ پریکٹس اور فٹنس میں روزانہ 8گھنٹے صرف کرتا تھا۔اس کے والد نے کہاکہ ان کے دوستوں نے بھی ان کی مالی مدد بھی کی۔وہ انٹرنیشنل ٹسٹ اورونڈے کرکٹ میں اپنے بیٹے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔یہی ان کی خواہش ہے ۔شیخ رشید کی والدہ نے کہا کہ ابتدا میں کئی افراد نے کرکٹ کھیلنے سے ان کے بیٹے کو روکا تھا۔وہ اس کو کرکٹ کے بجائے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا کرتے تھے تاہم بیٹے میں کرکٹ کے تئیں جذبہ دیکھ کر اس کے والد اس کو پریکٹس کے لئے لے جانے لگے ۔پہلے رشید گھر کے قریب کھیلاکرتا تھا بعد ازاں دوسرے مقامات پر اس نے کرکٹ کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ خواہش ہے کہ رشید مزید ترقی کرے ۔ہندوستان ایسے ہی کرکٹ میچس جیتے ۔رشید کی والدہ نے کہاکہ ان کے فرزند کے مظاہرہ پر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور ان کو رات میں نیند بھی نہیں آئی۔وہ اپنے بیٹے کو باربار کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں۔ان کے والدین کے ساتھ ساتھ ان کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے بھی کہا کہ ان کورشید کے کھیل پر فخر ہے ۔شیخ رشید تلگوریاست سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت بلے باز ہیں۔ان کے والد شیخ ولی نے ان کو اس مقام پر لانے کیلئے سخت محنت کی اور ان کی تربیت کیلئے تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے اے پی کے ضلع گنٹور منتقل ہوگئے جہاں ان کو معمولی کام اپنے خاندان کی کفالت کے لئے کرناپڑا۔رشید میں کافی زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے اور اس صلاحیت کوان کے کوچ کرشنا راو نے محسوس کیا جن کا کہنا ہے کہ رشید صورتحال کے لحاظ سے کھیل میں تبدیلی لانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ رشید کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹراندرسین اورایس بی آئی کے ریجنل منیجر سریکانت نے ا ن کے خاندان کی کافی مدد کی جس پر وہ ان دونوں شخصیا ت کے کافی ممنون ومشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اندرسین ریڈی ہر سال مناسب آلات کی فراہمی کے لئے آٹھ برس سے ان کی مددکررہے ہیں جبکہ سریکانت نے ان کے والد کو لون ری کوری ایجنٹ کے طورپر ملازمت کے حصول میں مدد کی تھی۔(یواین آئی)