کیف//یواین آئی// یوکرین نے روس کیجانب سے جلد حملہ کیے جانے کا امریکی حکام کا دعویٰ مسترد کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی پیشن گوئیوں اور دعوؤں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج یوکرین کے پاس ایک مضبوط فوج، بے مثال بین الاقوامی حمایت اور عوام کا اپنے ملک پر اعتماد ہے ، اس لیے دشمن کو ہم سے ڈرنا چاہئے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی حکام نے خبردار کیا تھاکہ روس یوکرین پر حملے کے لیے 70 فیصد فوجی تیاری مکمل کرچکا ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی اہلکار وں نے انٹلیجنس ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ روس یوکرین کی سرحد پر مزید جنگی سازوسامان جمع کررہا ہے اور جس رفتار سے مزید روسی فوجی سرحد پر پہنچ رہے ہیں، فروری کے وسط تک ڈیڑھ لاکھ فوجی یوکرین کی سرحد پر جمع ہو سکتے ہیں۔تاہم یوکرین نے روس کیجانب سے ملک پر حملے کے امریکی دعویٰ مسترد کردیا ہے ۔ادھرروس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہوگئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناو? میں کمی کے لیے کمر کس لی ہے۔ یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناو? بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاو?س کا رخ کیا ہے۔یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناو? کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔ادھرفرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد ا?ج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاو?س کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پْرامید بھی ہیں۔جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مو?قف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد ا?زما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔