لندن//یواین آئی//برطانیہ میں طوفان ‘ڈیڈلی’ اور ‘یونائس’ کے بعد ‘فرینکلن’ سے نظام زندگی متاثر ہے ۔طوفان کے باعث ہزاروں خاندان بجلی سے محروم ہیں جبکہ کئی مقامات پر سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق 80 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور بارش نے شہریوں کو گھروں میں محصور کردیا ہے ۔ میٹ آفس نے بھی عوام کو غیرضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے ۔رپورٹس کے مطابق کچھ علاقوں میں سیلاب کے باعث لوگ عارضی طور پر اپنے گھروں کو بھی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل آنے والے طوفان کے نتیجے میں برطانیہ میں 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ادھربرازیل کے شہر پیٹروپولس میں سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی تباہی میں 191 اب بھی لاپتہ ہیں۔خراب موسم کا سلسلہ علاقے میں گذشتہ چار روز سے جاری ہے اور شدید بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے اور کم عمر بھی شامل ہیں۔منگل کے دن برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو کے شمال میں واقع اس سیاحتی مقام پر فروری کے پورے مہینے کی اوسط سے زیادہ بارش ایک ہی دن میں ہوئی تھی۔سنیچر کے دن ایمرجنسی ٹیموں کو اس وقت کئی بار اپنا کام روکنا پڑا جب انھیں غیر معمولی موسلا دھار بارش کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب کسی کے زندہ بچ جانے کی امید بہت کم ہے۔تقریباً 900 افراد کو سکولوں اور حفاطتی مقامات پر پناہ دی گئی ہے۔ریسکیو حکام سمیت رضاکار بیلچوں کی مدد سے ملبے اور کیچڑ میں کھودائی کرتے رہے جب کہ انھیں شدید دھند کا بھی سامنا تھا۔اس وقت بھی لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے لیکن ایسے علاقے جہاں اب بھی صورت حال غیر مستحکم ہے وہاں پر دستی اوزاروں اور برقی آریوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ان ٹیمز کو 41 ماہر کتوں کی مدد بھی حاصل ہے جو لاپتہ افراد کو سونگ کر تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔