بیجنگ//چین نے امریکی وفد کے دورئہ تائیوان کی مذمت کردی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ امریکا جسے بھی تائیوان کی حمایت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھیجے گا وہ ناکام ہو کر رہے گا۔واضح رہے کہ امریکی وفد میں جارج بش اور اوباما کی انتظامیہ کے سابق عہدیدار شامل ہیں۔ تائیوان کے ہوائی اڈے پر امریکی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جوائنٹ چیفس ا?ف سٹاف کے سابق چیئرمین مائیک میولن 5رکنی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جو 2روزہ دورے کے دوران تائیوان کی صدر سائی انگ وین اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کرے گا۔ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ چین بھی تائیوان پر حملہ کر دے گا اور انہیں لگتا ہے کہ یہ جلدی ہوگا۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس بزنس کی میزبان ماریا بارٹیرومو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران پوچھے جانے پر کہ حملہ جلدی کیونکر ہوگا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیونکہ وہ (چین) دیکھا رہا ہے کہ امریکی پالیسیاں احمقانہ ہیں، امریکی رہنما نااہل ہیں، یقیناً چین حملہ کرنے جا رہا ہے، یہ ان کا وقت ہے۔ دوسری جانب چین نے یوکرین پر روس کے حملے کی مبہم حمایت کی ہے جس نے تائیوان پر ممکنہ حملے کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جس طرح روس مخصوص یوکرینی خطوں کیلئے لڑرہا ہے، اسی طرح چین بھی بیجنگ پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔