یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ کروناوبائی قہرکے اثرات کافی حدتک مدہم پڑجانےکے بعدبالآخرگذشتہ ہفتےوادی میں تعلیمی ادارے کھولنے کے احکام جاری ہو گئے ہیں۔ لگ بھگ تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے، جب سے طلاب گھر میں بیٹھے ہوئے ہیںاور اپنے اپنے گھریلو ماحول میںرہ کر درس وتدریس کےاسکولی ماحول، آداب واطواراور قواعدو ضوابط کو بہت حد تک بھول چکے ہیں۔ظاہر ہےکہ اب آنے والےکچھ وقت تک اُنہیں بہت ساری مشکلات کا سامنا ضرورکرنا پڑے گا ،اپنے گھریلو ماحول سے نکل کر دوسرے ماحول میں ڈھلناہوگا۔قریباً تین سال کے عرصے میں طلاب کے ذہن بدل چکے ہیں،اُن کی دنیا بھی بدل گئی ہے۔ جو چھوٹا بچہ اتنے لمبے وقفے کے بعد اسکول جائے گا،تو اُسے پھر سے ایک نئی صورت حال کا سامناکرنا ہوگا۔ اپنے گھر والوں سے دور،اپنے دوستوں سے دور اور اُس ماحول سے دور، جہاں وہ خود کو اظہار کرپاتا تھا۔ پھر سے وہاں جانا اور پھر ان دھندلی یادوں کے سہارے جینا، بہت معنی رکھتا ہے۔ اساتذہ کے لئے بھی یہ تبدیلی مشکلات میں ڈال سکتی ہیںاور درس وتدریس میں دِقتیں پیدا کرسکتی ہیں۔ وبائی قہر کی تباہیوںوہ درد بھرے مناظر ،اپنے عزیزوں، ہمسایوں،دوستوںکی جدائی،سرِ راہ لوگوں کاتڑپ تڑپ کر جان بحق ہونا، آکسیجن کی عدم دستیابی میں اپنے عزیزوں کی اموات اور اُن کے آخری رسومات میں شامل نہ ہونا، دریائوں میں لاشوں کا تیرنا،کتوں کا انسانی لاشوںکو گھسیٹنا،لاک ڈاون کے نفاذ،بے روزگاری اور بھکمری کی چیخیں اورہر سُووائرس کا خوف اور موت کاڈر، ایک دوسرے لا محالہ نہ ملنااور دور رہنا، وغیرہ یقیناًہمارے شعورر کے پردوںپرپڑے نقوش یکدم چھٹ نہیں سکتے ہیں۔
راقم الحروف کچھ دنوں سے مشاہدہ کر رہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے ضمن میں طلاب کا کیسا ردعمل ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ قابل توجہ ہے۔ ایک چھٹی کلاس کے طالب علم کو میں نے کہا کہ اگلے ہفتے تمہارا اسکول کھلنے جارہا ہے، ساری تیاریاں کر لینا۔ اس کا جواب سن کر میں دھنگ رہ گیا۔ اس کا جواب تھا کہ اسکول کیا کرنے جانا ہےاور مجھے کیوں اسکول جانا ہے؟ اس نے مزید کہا کہ میں تیسری جماعت میں تھا، جب میں نے اسکول کا دروازہ دیکھا تھا۔ تب سے میں نے کتابوں کی طرف زیادہ دھیان بھی نہیں دیا،پھر بھی میں ایک ایک کلاس چڑھتا ہوں۔ اس بچے کے جواب نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مالی و جانی نقصان کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میںہمارا بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے۔ یہ بچہ اپنی عمر سے بڑا ہوگیا ہےمگر مایوسی کی کالے دھبے اس کے چہرے سے نمایاںہیں۔ خیر۔۔۔!
اب جبکہ طلاب اسکول جارہے ہیں، تو ہمیں بہت ساری باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جیسے کہ پہلے ہی کہا گیا ہے کہ آج کے طلاب اب ۲۰۱۹ والے طلاب نہیں رہے ہیں۔ ان میں بہت حد تک بدلائو آچکا ہے۔آنے والی سطروں میں کچھ اہم باتوں کا ذکر کیا جائے گا، جو تعلیمی اداروں کو کھولنے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
پہلا ہے ان کا رویہ: طلاب کے رویے بدلے ہوئے ہیں، بجائےکسی سخت ڈانٹ ڈپٹ کے، ان کا استقبال کریں۔ ان کو یہ احساس دلائے کہ اب ہم واپس اپنی دنیا میںآچکے ہیں۔ ان کے جذبات کی قدر کریں۔ کوئی بچہ یا تو بہت خوش ہوگا یا کوئی زیادہ غمگین،کوئی رونا شروع کرے گاتو کوئی اسکول سے گھر جانے کی ضد کریگا۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عقل و تحمل کا استعمال کرکے اس کو دلاسہ دینے کی قوت ِ برداشت پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسرا بات یہ ہے کہ اساتذہ طلاب سے موسم سرما کے ہوم ورک کی فہرست نہ مانگیںاور نہ ہی کسی assignments یا projects کی ضد کریں۔ اُن کو سمجھائیں کہ اب سب سے زیادہ اہم assignments اور projects ہمارے لئے آپ ہیں۔اب ہم لوگوں کو آپ پر کام کرنا ہے۔ ان تین برسوں کے دوران کسی بچے کی ماں،کسی کا باپ گزر گئےہوں، کسی کا عزیز دادا، نانا، نانی یا دادی انتقال کرگئی ہو، کی کی بہن یا کسی کا بھائی چل بسا ہو۔ کوئی ایک جگہ سے مجبور ہوکر دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگیاہویا کسی کا گھر ہی نہیں رہا ہو۔ اُنہیں اپنوں کی یادیں لے کر یہ بچہ جب اسکول آئے گا، تو اُس کے معصوم دل میں کسک ضرور ہوگی۔ وہ رشتے جو کٹ گئے، وہ سہارے جو نہ رہے، وہ اُمیدیں جو ٹوٹ گئیں، وہ دوست جو نہ رہے، وہ خوشی جو ہم سے روٹھ گئ،اور وہ وباء جس نے ہمیں ذہنی مریض بنایا، وہ کھلی فضا جس کے لئے ہم ترستے رہے، ان سبھی باتوں کو ہمیں ملحوظات ہونا چاہئے۔ تیسری بات کہ امتحانات کا خوف کم کریں۔ اب جبکہ سرکار بھی نئی تعلیمی پالیسی پر غور کررہی ہے، تو ہم لوگوں کو بھی چاہیے کہ طلاب کو نمبرات اور نصاب سے نہ تولیں۔ ان کو سمجھائے کہ اب طلاب ہی نصاب بن گئے ہیں۔ اب انہیں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کیا معلوم کون کس وقت ہم سے رشتہ توڑ کر چلا جائے؟ نصاب کو زندگی کے موافق بنانے کی کوشش کی جائے۔ وہ موضوعات پڑھائے جائیں، جو حقیقی زندگیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ طلاب کو صاف صاف بتایا جائے کہ اب نمبرات کی دنیا سے آزاد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب تخلیقی صلاحیتوں کا دور ہے، اب جو طلاب سو فیصدی نمبرات بھی لاتے ہیں، وہ بھی کسی کام کے نہیں ہوتے ، اگر ان کے پاس موجودہ زمانے کے ہنر نہ ہوں۔ چوتھا بات یہ ہے کہ اساتذہ اپنا رویہ بدل دیں۔ ہاں! یہ ایک حقیقت ہے کہ اساتذہ بھی اس وباء کا شکار ہوگئے ہیں۔ مگر ان کے پاس عمر کا تجربہ ہے جو ان کو بہت ساری مصیبتوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ جتنا ہوسکے، طلاب کے سامنے بیتے ہوئے کل کی خوفناک یادیں دہرانے سے پرہیز کریں۔ اپنی کوششوں کو طلاب کے سامنے پیش کریں کہ کیسے انہوں نے مصیبتوں سے مقابلہ کرکے یہاں تک پہنچنے میں کامیاب حاصل کی ہے۔ اس سے معصوم طلاب کچھ اسباق حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ بھی اندھیرے میں روشنی کو دیکھنے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔
تو ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہماری تعلیم بنا کسی رکاوٹ کے آگے بڑھے گی۔ اس ضمن میں ہر کسی کو آگے آنا ہوگا۔ یہاں تو لگ بھگ سارےلوگ غریب ہوچکے ہیں، مگر ہمیں پسماندہ لوگوں کی فکر کرنی چاہئے۔ ہم غریب طلاب کی فیس، وردی، کاپیاں، کتابیں، وغیرہ فراہم کرسکتے ہیں، جو طلاب پڑھائی چھوڑ کر مزدوری کر رہے ہیں، اُن کو واپس اپنی دنیا میں لانے کی کوشش کریں گے۔ جن کو کوئی سہارا نہیں رہا ہے، اُن کو اپنا بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہر حال میںایک خوشگوار ماحول بنانے کے کوشش کریں گے۔یہ سب کچھ اب ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حالات پر رحم کرے۔ تو آیئے، ان بدلے ہوئے طلاب کو پھر سے پٹری پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کار خیر میں سب کا ساتھ چاہیے اور جاتے جاتے یہ مبارکباد ضرور پیش کروں گا کہ ہمارے بچے پھر سے اسکول جارہے ہیں۔
مدرس حسینی پبلک اسکول ،خوشی پورہ، زینہ کوٹ
رابطہ۔7889346763