اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھوں شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کے با برکت مہینے سے نوازا۔ ایک مرتبہ پھر ہمیں توبہ و استغفار اورروزوں کے ذریعہ اپنے گناہوں کو معاف کرانے کا قیمتی موقعہ دیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس موقعہ سے صحیح فائدہ اٹھا لینا ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتا۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو خاطر خواہ تیاری نہ ہونے کی وجہ سے اس قیمتی موقعہ کو پانے کے بعد بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں گے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت جبریلؑ نے یہ بددعا کی تھی جس پر پیارے نبیﷺ نے آمین بھی کہا تھا ’’جس نے رمضان کو پایا اس کے با وجود اس کی موت اس حال میں ہوئی کہ اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہوگا۔‘‘(رواہ الطبرانی، 2/243)
قرآن مجید میں خاص لفظ ’رمضان‘ کا ذکر ایک ہی بار ہوا ہے، سورۃ البقرۃ کی آیت ہے’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَیٰ وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَن کَانَ مَرِیضًا أَوْ عَلَیٰ سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیدُ اللَّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیدُ بِکُمُ الْعُسْرَ…الیٰ آخر الآیۃ‘‘(سورۃ البقرۃ،185)ترجمہ:رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔
عموما رمضان المبارک کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہنوں میں صرف روزہ کا خیال آتا ہے جب کہ اس آیت میں جو کہ قرآن مجید کی واحدآیت ہے جس میں ماہ رمضان کا ذکر کیا گیا ہے اس میں پہلے تفصیل سے قرآن مجید کے نزول اور وجہ نزول کے بارے میں بتایا گیاہے۔ اس کے بعد کہیں پھر روزہ کی فرضیت اور اس کے احکام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ایک بات تو یہ واضح ہو گئی کہ رمضان المبارک کے مہینہ کی معنویت روزوں سے آگے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ ہے۔البتہ اس سے روزوں کی اہمیت کو گھٹانا ہرگز مقصود نہیں ہے۔
روزوں کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک سے ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعمِاءَۃ ضِعْفٍ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ یَدَعُ شَہْوَتَہُ وَطَعَامَہُ مِنْ أَجْلِی. لِلصَّاءِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّہِ۔ (رواہ البخاری،5927)آدم کے بیٹے کے نیک عمل کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،روزہ اس سے مستثنی ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا جزاء دوں گا۔ وہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھانے کو ترک کر دیتا ہے۔روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت کی اور ایک اس وقت کی جب اس کی اپنے رب سے ملاقات ہوگی۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مختلف اسلامی تنظیمیں چلوں اور جماعتوں کے نام پر یا پھر کیمپ اور کانفرنس کے نام پر لوگوں سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے روز مرہ کے معمول سے کچھ وقت نکال کر اپنی تربیت اور تزکیہ کی فکر کریں لیکن رمضان کا مہینہ جو مکمل عبارت ہی ہے تزکیہ اور تربیت سے اس کے تئیں بڑے پیمانہ پر لوگوں میں بے شعوری اور بے حسی پائی جاتی ہے۔رمضان المبارک کا مہینہ دراصل تزکیہ اور عبادت کا مہینہ ہے، ذکر و اذکار کا مہینہ ہے، قرآن مجید کو پڑھنے،سمجھنے اور سمجھانے کا مہینہ ہے جب کہ ہم نے اسے سستی اور کاہلی، آرام و سکون اور کھانے پینے کا مہینہ بنا رکھا ہے۔
ذرا غور کریں! رمضان کے مہینہ میں آپ کے گھر آنے والے راشن کے اخراجات غیر رمضان سے کم ہوتے ہیں یا زیادہ؟ اگر زیادہ ہوتے ہیں تو پھر یہ روزہ کہاں ہوا، پھر ہم غریبوں اور مسکینوں کی حالت زار کو سمجھنے کے قابل کہاں رہے؟ یہ تو محض ایک خانہ پوری ہو گئی۔مزید ایک سوال، رمضان میں آپ کی نیند کا دورانیہ غیر رمضان سے کم ہوتا ہے یا زیادہ؟ اگر زیادہ ہوتا ہے تو یہ بھی سوچنے کا مقام ہے! آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم رمضان کو با برکت مہینہ بھی کہیں، اس کو اپنے لیے سعادت و خوش نصیبی کا مہینہ بھی سمجھیں اورساتھ ہی اس مہینہ کا بیشتر حصہ سوتے ہوئے گزار دیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے رمضان میں اور ہمارے رمضان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ایک زندہ انسان اور ایک بے جان لاشہ میں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں تو دونوں ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں لیکن ایک میں روح ہوتی ہے اور دوسرا بے جان ہوتا ہے۔
اب آئیے ذرا ایک نظر دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رمضان کیسا ہوتا تھا۔ اس کے بعد ہم اس کا موازنہ ہمارے آج کے رمضان کے نظام الاوقات اور ہماری دیگر رمضان کے ساتھ مخصوص مصروفیات سے کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر دونوں میں ایسا کیا فرق ہے کہ ہمارے روزے غور کرنے پر بالکل ہی بے جان سے معلوم ہوتے ہیں۔
نبی کریم ؐ کے روزے:۔آپ ﷺ کے روزوں کی کیفیت کا اندازہ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو حدیثیں میں یہاں ذکر کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ یْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ‘‘۔(صحیح البخاری، 38)ترجمہ:جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔یہاں لفظ ’ایمانا و احتسابا‘ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہ‘‘۔(بخاری،1903) ترجمہ:جو جھوٹی (بُری) بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ان دو حدیثوں سے یقینا یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ روزوں کی اصل ماہیت کیا ہونی چاہیے۔
نبی کریم ؐ کا قیام اللیل:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر رمضان میں بھی قیام اللیل کی بہت پابندی کرتے تھے خصوصا رمضان کے مہینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام اللیل کے لیے اور چاق و چوبند ہو جاتے تھے اور اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی قیام اللیل میں اٹھاتے تھے ساتھ ہی صحابہ کرام کو بھی رات میں نمازیں پڑھنے کی کثرت سے تاکید کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرۃ ؓ فرماتے ہیں’’کَانَ رَسُوْلُ االلہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ أنْ یَأْمُرَہُمْ بِعَزِیْمَۃٍ، و یَقُوْلُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَّ احْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ‘‘۔ (ترمذی، 808)ترجمہ: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو فرضیت کے بغیر قیامِ رمضان کی ترغیب دیتے تھے۔ آپؐ فرماتے: جس شخص نے ایمان اور احتساب (محاسبہ نفس کرنے) کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا اس کے پچھلے سارے (صغیرہ) گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں بھی لفظ ’ایمانا و احتسابا‘ مذکور ہے۔
نبی کریم ؐ کا قرآن مجید سے شغف:۔احادیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال ماہ رمضان میں حضرت جبریل ؑ کے ساتھ قرآن مجید کے نازل شدہ حصوں کا دور کیا کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریلؑ کے ساتھ قرآن مجید کا دو مرتبہ دور فرمایا تھا۔(بخاری و مسلم)
نبی کریم ؐ کا صدقہ و خیرات کا اہتمام:۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے سخی و فیاض تھے۔ آپ کی سخاوت کا دریا رمضان المبارک کے مہینہ میں بالکل رواں دواں ہوتا تھا۔حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں: کانَ النبیُّ صَلَّی اللہُ علیہ وسلَّمَ أجْوَدَ النَّاسِ بالخَیْرِ، وکانَ أجْوَدُ ما یَکونُ فی رَمَضَانَ حِینَ یَلْقَاہُ جِبْرِیلُ، وکانَ جِبْرِیلُ علیہ السَّلَامُ یَلْقَاہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ فی رَمَضَانَ، حتَّی یَنْسَلِخَ، یَعْرِضُ علیہ النبیُّ صَلَّی اللہُ علیہ وسلَّمَ القُرْآنَ، فَإِذَا لَقِیَہُ جِبْرِیلُ علیہ السَّلَامُ، کانَ أجْوَدَ بالخَیْرِ مِنَ الرِّیحِ المُرْسَلَۃ۔ (صحیح البخاری)ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ رمضان میں جب حضرت جبریل امینؑ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔ حضرت جبریل ؑ کی ملاقات کے وقت تو آپ ؐکی سخاوت تیز ہوا کے جھونکے سے بھی بڑھ جاتی۔
نبی کریم ؐکا روزہ داروں کو افطار کرانا:۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی روزہ داروں کو افطار کرانے کا اہتمام کرتے اور صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین کرتے، واضح رہے کہ اس کے پیچھے کوئی دنیاوی مفاد یا منشاء ہرگز پیش نظر نہیں ہوتا تھا آپؐ کا ارشاد مبارک ہے:'مَن فطَّر صائمًا کان لہ مِثلُ أجرِہ، غیرَ أنہ لا ینقصُ مِن أجرِ الصائمِ شیءًامَن فطَّر صائمًا کان لہ مِثلُ أجرِہ، غیرَ أنہ لا ینقصُ مِن أجرِ الصائمِ شیءً(سنن ترمذی، 807)ترجمہ:جس نے کسی روزہ دار کوافطاری کروائی اسے بھی اتنا ہی اجر وثواب حاصل ہوگا اورروزہ دار کے اجر وثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں ہوتی۔
فجر کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ذکر و اذکار کا اہتمام:۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام دنوں میں بھی فجر کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہونے تک مسجد میں بیٹھ کر ذکر واذکار کا اہتمام کیا کرتے تھے اور رمضان کے مہینہ میں اس معمول پر اور سختی سے عمل پیرا ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:من صلی الفجر فی جماعۃ ثم جلس یذکر اللہ حتی تطلع الشمس ثم صلی رکعتین کانت لہ کأجر حجۃ وعمرۃ‘‘۔(ترمذی: 586)ترجمہ: جو شخص با جماعت فجر کی نماز ادا کرے اور پھر بیٹھ کر اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے مکمل حج و عمرہ کرنے کا ثواب ہو گا۔
اعتکاف کا اہتمام کرنا:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی پوری زندگی پابندی کے ساتھ ہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپؐ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو اعتکاف کیے تھے جیسا کہ صحیح البخاری میں وارد ہے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں’’کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعتکف فی کل رمضان عشرۃ أیام، فلما کان العام الذی قبض فیہ اعتکف عشرین یوماً‘‘۔(صحیح البخاری:3/ 51)ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہررمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے،لیکن جو آپ کی وفات کاسال تھا توآپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
شب قدر میں عبادتوں کا اہتمام کرنا:۔روایتوں میں مذکور ہے کہ آپؐ شب قدر میں عبادتوں کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ آپ اپنے گھر والوں کو اس رات اٹھاتے اور عبادتیں کرنے کی تلقین فرمایا کرتے۔ صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب قدر کے تعلق سے ارشاد فرمایا:’’ان ہذا الشہر قد حضرکم و فیہ لیلۃ خیر من الف شہر من حرمہا فقد حرم الخیر کلہ ولا یحرم خیرہا الا حرم الخیر‘‘۔(سنن ابن ماجہ: 1644)ترجمہ: یہ جو ماہ تم پر آیا ہے‘ اس میں ایک ایسی رات ہے‘ جو ہزار ماہ سے افضل ہے‘ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا‘ گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتا محروم ہو۔
یہ تھا نبی کریمؐ کا رمضان، ایک ایسا رمضان جو انسان کی زندگی بدل دے، اس کے معمولات کی کایا پلٹ کر دے، اس کے خیالات اور اعمال کی دنیا میں ہلچل مچا دے، ایک زندہ و جان دار رمضان، ایک ایسا رمضان جو واقعتا انسان کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لے کر آئے۔ یقینا یہی وہ مطلوب رمضان ہے۔یہی وہ رمضان ہے جس کی قرآن و حدیث میں بے شمار فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں۔۔۔۔۔(باقی کل’ جمعہ ‘کے شمارے میں ملاخطہ فرمائیں)۔
)رابطہ۔ 8368964731 )