اسلام آباد// وزیراعظم عمران خان نے نگراں وزیراعظم کے لیے سابق چیف جسٹس ا?ف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام حتمی طور پر تجویز کردیا۔ ملک میں نئے انتخابات تک نگران وزیر اعظم کی تعیناتی کے لیے تحریک انصاف کی قیادت نے مختلف ناموں پر غور شروع کیا اور دو نام شارٹ لسٹ کیے جن میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور سابق چیف جسٹس (ر) پاکستان گلزار احمد کے نام شامل ہیں۔اب وزیراعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام فائنل کردیا ہے جس کے لیے پارٹی قیادت اور ق لیگ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔اس دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل سے متعلق وزیر اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی کے تمام فیصلے اور اقدامات عدالت کے احکامات کے تحت ہوں گے ۔رپورٹ کے مطابق پیر کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ بنچ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے اور صدر کی جانب سے مسٹر خان کی سفارش پر قومی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کے بعد ملک میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔عدالت نے قومی اسمبلی کی حیثیت کی وضاحت نہیں کی تاہم پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کی آئینی حیثیت پر نوٹس جاری کئے جانے کی ہدایت دی ہیں۔اپنے حکم میں بنچ نے کہا ‘‘اس معاملے میں بادی النظر میں کوئی نتیجہ درج نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی متاثرہ فریق کو سماعت کی اجازت دی گئی ہے ۔ ہم یہ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ آرٹیکل 5 کی بنیاد پر عدم اعتماد کی تحریک کو آئین کے آرٹیکل 69 میں درج اخراج (عدالت کے دائرہ اختیار سے ہٹانا) سے تحفظ حاصل ہے ۔