پرویز احمد
سرینگر // وادی کشمیر میں 5سال سے کم عمر کے بچے اکثر انفیکشن کے شکار ہوجاتے ہیں۔ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات میں بچوں کے گلے میں خراش، منہ میں چھالے،پائوں و ہاتھوں میں سوزش اور ناک کا بہنا وائرس کے اثرات ہوتے ہیں جو بچوں پر زیادہ حملہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے بچوں پر وائرس زیادہ تیزی سے اثر کرتا ہے اور اسی لئے ہر ایک ہسپتال میں بیمار بچوں کی تعداد میں 80فیصد اضافہ دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے ہاتھ، پائوں اور منہ کے انفکیشن سے متاثرمعاملات میں اضافہ ہو ررہا ہے جو اینٹی رو وائرس اے 16اور اینٹی رو وائرس 71سے پھیلتی ہے۔یہ وائرس کے اس کنبہ سے تعلق رکھتا ہے جو کافی تیزی سے پھیلتے ہیں اور اس میں ہاتھ پائوں اور منہ کی بیماری ،ہلکی سردی،آنکھ کی جھلی کی سوزش اور دیگر بیماریاں شامل ہیں لیکن ابتک اس بیماری سے کسی بچے کی موت نہیں ہوئی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری سے 5سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، جن کا وائرس سے لڑنے کا نظام کمزور ہوتا ہے۔ بیماری کی بڑی علامتوں میں بخار کے علاوہ منہ کے چھالے ، ہاتھ اور بائوں اور جسم کے دیگر اعضاء میں خارش ہوتی ہے ۔ ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ موسم بہار جراثیم کے پھیلائو کیلئے موزون وقت سمجھا جاتا ہے اور اس میں ہر قسم کے وائرس بڑھتاہے۔انکا کہنا ہے کہ یہ وائرس اپریل مئی میں زیادہ پھیلتا ہے لیکن مئی اور جون مہینے میں زیادہ گرمی کی وجہ سے کیسز میں کمی آجاتی ہے جبکہ اگست اور ستمبر مہینے میں اس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں پھر اضافہ ہوتا ہے۔ نیشنل لائبرری آف میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق اینٹی رو وائرس سے متاثر ہونے والے 69فیصد بچوں میں بخار،ر100فیصد کے رانوں پر خارش والے سرخ دھبے،71فیصد کے منہ میں چھالے اور دیگر علامتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ 48فیصد بچوں میں بھوک نہ لگنا،11فیصد میں گلے میں خراش اور 8فیصد بچوں کے جسم میں پانی کی کمی پائی جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق متاثرہ بچوں میں 61فیصد کی عمر 3سال سے کم ہوتی ہے جبکہ ان میں 27فیصد کو یہ بیماری گھروں میں ہی لگتی ہے۔ مشہور ماہراطفال ڈاکٹر قیصر احمد کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ معمولی نویت کی بیماری ہے جس میں بچوں کو دیگر بچوں سے دور کرنے کے علاوہ متواتر طور پر پانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری ان بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے جن کا دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے۔ اس لئے اپریل سے متاثر بچوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے لیکن اگست اور ستمبر اس بیماری کا اصل سیزن ہوتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل اور مئی سیز ن میں وائرس کافی سرگرم ہوتا ہے ، اسی لئے کچھ معاملات سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر کہتے ہیں کہ اس وائرس سے متاثرہ بچوں میں بخار ، کھانسی ، ناک کا بہنا اور دیگر علامات موجود ہوتی ہیں ۔چلڈرن ہسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرشید پرہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ابھی کچھ کیس سامنے آئے ہیں لیکن یہ اتنے نہیں ہیں کہ کوئی تشویش کی بات ہو۔ڈاکٹر پرہ کا کہنا تھا کہ اس کا علاج بخارکو قابو کرنا ہے جو Paracetmolسے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحیح نشونما کیلئے متوازن خوراک اوربیماری کو قابو کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔