2018 ادب جائزہ

۔2018ء ۔۔۔ مجھے اس وقت جرمن شاعر جوزف براڈسکی کی ایک نظم زیادہ یاد آئی جب سویڈش اکیڈمی نے فیصلہ کیا کہ در پیش جنسی اور مالیاتی اسکینڈل کے باعث اس سال ادب کا نوبل انعام نہیں دیا جائے گا۔ کیا سویڈش اکاڈمی جیسے بڑے ادارے کو واقعی اپنی ساکھ کا خطرہ ہے جو نوبل جیسا انعام روک لیاگیا؟ جس کا انتظار ایک دنیا کو رہتا ہے اور صرف اس لئے کہ اس جنسی اسکینڈل کا مرکز ایک ایسا فرانسیسی شہری ہے جو سویڈن میں انتہائی اہم  ثقافتی شخصیت کے طورپر جانا جاتا ہے۔ یہ واقعہ میرے لئے اُمید کی کرن اس لئے بھی ہے کہ گہرے اندھیرے میں کہیں روشنی کے ایک نقطہ کی چمک باقی رہ گئی ہے۔ کیا اس طرح کے کسی فیصلے کے بارے میں ہم ہندوستان میں تصور کرسکتے ہیں؟مودی حکومت کے ان پانچ برسوں میں عدم برداشت اور عدم تحمل کے خلاف یہاں کے ادیبوں نے اپنے انعامات واپس کئے تھے، پہلی بار ہندوستانی ادب دو خیموں میں تقسیم ہوا، ایک علیحدہ خیمہ فسطائی ادیبوں کا تھا، جن میںدیگر زبانوں کے ایسے ادیب ابھی بھی ہیں جو حکومت سے وفاداریاں نبھارہے ہیں۔ تین برس قبل اردو زبان میں جن ادیبوں میں زندگی کی حرارت نظر آئی تھی،2018ء آتے آتے وہ بے حس اور مردہ ہوگئے۔2018 ء کا تجزیہ کیجئے تو نقاد اپنی سمت بھول چکا ہے۔ ادیب گونگے کہ لکھنے کا خمیازہ اٹھانا پڑسکتا ہے۔ ایک خیمہ ایسے پروفیسر حضرات کا ہے جنہوں نے سیمیناروں پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان سیمیناروں میں آج بھی میرؔ و غالب ؔکو تو یاد کیا جاتا ہے لیکن ان میں کوئی بھی سلگتے موسموں کا گواہ نہیں بننا چاہتا۔ ایک جنسی اسیکنڈل سے سویڈش اکیڈمی تھرا اُٹھی اور یہاں یہ حال کہ اسیکنڈل پر اسیکنڈل ہورہے ہیں۔ 2018ء میں ہی’’می ٹو‘‘ مہم نے ملک کی کئی بڑی ہستیوں کو ننگا کردیا، ہجومی تشدد میں سینکڑوں مارے گئے، کروڑوں کا غبن کرکے انڈسٹریلسٹ یہ ملک چھوڑگئے،پارکوں میں نماز پر پابندی لگادی گئی، حکومت نے طلاق ِثلاثہ کا بل زبردست مخالفت کے باوجود اپوزیشن کے بغیر لوک سبھا میں منظور کرالیا اور فرضی انکاؤنٹر میں ہمارے بچے پھر سے جیل خانوں میں پہنچنے لگے۔ 
اس وقت مجھے نوبل انعام یافتہ ترکی ادیب اوہان پامک کی یاد آرہی ہے، جس نے ترکی کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی نظام پردل کھول کر لکھاکہ اُن پر ملک سے غداری کا مقدمہ بھی چلا۔ انعام ملنے کے بعد اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ میں اپنے ملک کے لئے اپنی دلچسپی اور حیثیت کو کھونا نہیں چاہوں گا۔ سیاست بولنے کی آزادی کو کچلنا چاہتی ہے اور خاموش رہنا آپ کے حق میں نہیں۔جب میرا ناول ’’دی نیو لائف ‘‘شائع ہوا تو کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ میری سیاسی شخصیت بننے کی شروعات ہوگئی۔ میں ہمیشہ یہ صاف کرتا ہوں کہ جس چیز کی تنقید کررہا ہوں وہ در اصل اظہار رائے کی آزادی ہے۔ میں اس تہذیب کی مخالفت کرتا ہوں جو میری آزادی کو روکتی ہے۔ ‘‘ اس روشنی میں دیکھئے تو فیض احمد فیضؔ کی آواز خاموش ہے۔ ’’بول کہ لب آزادہیں تیرے‘‘ گہرا سناٹا ہے۔2018ء میں عبد الصمد ’’جہاں تیرا ہے یا میرا ‘‘حسین الحق ’’اماوس میں خواب‘‘ نورالحسنین ’’تلک الایام‘‘ لے کر آئے۔ ان ناولوں میں ملک کے حادثوں کی خبر لی گئی ہے مگر اس کے باوجود اس اپروچ کی کمی نظر آتی ہے جو ادب کو آرٹ سے جوڑنے کا مطالبہ کرتی ہے اور جس کے لئے ابھی بھی قرۃ العین حیدر کے’’ آگ کا دریا‘‘ اورمستنصر حسین تارڑ کے ناول’’ خس وخاشاک زمانے‘‘ جیسی بہت سی مثالیں صرف اردو میں دی جاسکتی ہیں۔شمس الرحمٰن فاروقی نے حالات کو لے کر ایک مضمون ’’انڈین ایکسپریس ‘‘میں لکھا اور اثبات(مدیراشعر نجمیؔ) نے اس کا ترجمہ اردو میں شائع کیا۔ اس موقع پر بھی مجھے اوہان پامک یاد آتے ہیں۔پامک نے کہا تھا کہ یادوں کو دبائے رکھنے کی کوشش کی جائے گی تو کچھ نہ کچھ ہمیشہ لوٹ کر آئے گا۔ محترم فاروقی نے کم ازکم آگ اور راکھ کے اندر دبی ہوئی زندگی کو دیکھنے کی جرأت تو کی مگر یہ جرأت 2018 میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ 2018ء کا بیشتر ادب ایسا ہے جہاں مجروح حالات سے متاثر ہونے کی کوئی روش نظر نہیں آتی۔ کچھ نے قلم بھی اُٹھایا تو ہنگامی موضوعات تک سمٹ کرر ہ گئے۔تاریخی ، ثقافتی، سیاسی بصیرت کی کمی کا معاملہ تھا کہ شعر اچھلا تو راحت اندوری میں سما گیا اور فکشن آرٹ کی حدوں میں داخل نہیں ہوسکا۔1960ء سے80 ء کے درمیان جب جدیدیت کا زمانہ تھا، حالات کے پیش نظر کئی خوبصورت افسانے لکھے گئے۔ ترقی پسندوں کے ادب کو بھی میں پروپگنڈے کا ادب نہیں تسلیم کرتا۔ کئی ایسے نام تھے جو آرٹ کی بھرپور سمجھ رکھتے تھے۔
بورس پستر ٹاک کے شہرہ آفاق ناول ڈاکٹر زواگو کا ایک کردار کہتا ہے: تم جانتے بھی ہو مصنف کیا ہوتے ہیں؟ وہ غریبوں کے انسانی وقار کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پوری انیسویں صدی میں تم نے کیا دیکھا۔ پیرس کے انقلابات، روسیوں کی جلاوطنی کا سلسلہ ، زاروں کا قتل، دنیا کے مزدوروں کی تحریکیں، مارکسزم، لینن ازم۔۔۔۔ لیکن تمہیں یہ سب کیوں بتا رہا ہوں۔ تمہارے نزدیک یہ سب کچھ ایک مجیرے کی آواز ہے یا چمکتے ہوئے لفظ۔۔۔‘‘
سیاسی زلزلوں کے درمیان 2018ء کے ادب کا جائزہ لیناچاہتا ہوں تو مشہور فلم’’ شعلے‘‘ کا مکالمہ کانوں میں گونج جاتا ہے۔:’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘‘ بورس پستر ناک نے مصنف کو اس منصب پر دیکھا تھا جہاں وہ غریبوں کے انسانی وقار کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہاں ادب کی خوف ناک خاموشی میں ہمارے اردو ادیبوں کے سامنے صرف چمکتے لفظ رہ گئے ہیں یا مجیرے کی آواز۔ پانچ برسوں کی خوفناک دنیا میں نہ کسی کو ہجومی تشدد کے حادثوں نے للکارا، نہ دوبارہ تقسیم ہوتے حالات نے ان کے لہو کو گرمی پہنچائی۔ ایک بیان یہ بھی آیا کہ رام جنم بھومی پر ہندوؤں کا حق تسلیم نہیں کیا گیا تو ہندوستان سیریا بن جائے گا۔نفرت ، تشدد اور ہلاکت کی کہانی کے لئے ابھی مجھے عالمی سیاست کے منظرنامہ کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سلگتے جلتے ہندوستان میں ہمارا ادیب گونگا اور بہرہ بن گیا ہے۔ روسی ناول نگار نکولائی گوگول کا ایک ناول تھا۔ مردہ روحیں( ڈیڈسولز)۔ اس ناول میں بہت سے کسان جو موت کو پیارے ہوگئے تھے، وہ سرکاری ریکارڈ میں زندہ تھے۔ یہاں حال مختلف ہے۔ یہاں ہمارے زندہ ادیب گوگول کی مردہ روح کا حصہ بن چکے ہیںاور اس لئے اس سوال کا پیدا ہونا لازمی ہے کہ ہم کیوں لکھ رہے ہیں؟ کس لئے لکھ رہے ہیں؟ ایک ایسے گھر کی مثال دیتا ہوںجہاں دشمنوں نے آگ لگادی ہے۔ کیااس جلتے سلگتے گھر میں آپ آرام سے وائلن بجاسکتے ہیں ؟ شراب یا کافی پی سکتے ہیں؟ زندگی کا جشن مناسکتے ہیں؟میرے خیال سے آپ کا جواب بھی یہی ہوگا کہ پہلا کام اس جلتے سلگتے گھر سے باہر نکلنے کا ہوگالیکن ہم کیا کررہے ہیں؟ نفرت اور تشددکی اٹھتی تیز لپٹوں کے درمیان ادب سے وائلن بجانے کا کام لے رہے ہیں توآج کے ادب کو ایسے جشن کی ضرورت نہیں ہے۔ترقی پسندی ختم ہوچکی۔ جدیدیت کے شہسوار علامتوں اور استعاروں کی دنیا بھی بھول چکے ہیں۔ایک ہندی کہانی پڑھ رہا تھا۔ ایک طالب علم ایک کسان سے دریافت کرتا ہے: یہ زمین تو بنجر ہے، یہاں پودے کیسے آگئے؟ کسان مسکراکر جواب دیتا ہے: یہ بے حسی کے پودے ہیں۔بڑھتے نہیں۔ اتنے ہی رہتے ہیں اور ختم ہوجاتے ہیں۔
2018ء ختم ہوگیا۔2019ء نے دستک دی ہے۔ میرے لئے یہ سوچنا  ضروری ہے کہ 2018میں ہم نے حاصل کیا کیا؟مکاری، بے حسی، سیاسی زلزلے، کوئی ایسی کتاب جسے بار بار پڑھنے کی خواہش ہو؟ کوئی ایسا ادیب جو جشن ِاردو، اور جشن ِریختہ کے ہنگاموں سے نکل کر یہ بھی کہے کہ مصنف کو سیاسی  زلزلوں ، ہجومی تشدد اور مسلسل ہونے والی ہلاکتوں کا گواہ بننا ضروری ہے۔
کچھ بھی بولنے کے لئے نہیں …کچھ بھی لکھنے کے لئے نہیں ..یہاں کے آقاؤں نے شرم بیچ دی ۔تہذیب سے کنارہ کر لیا۔علم کی روشنی کو پتھروں اور غاروں کے عہد میں لے گئے۔اس بے بس ، لاچار ، بے حس ہندوستان پر ترس آتا ہے۔یہاں کے آقا سر عام اصول و قوانین اور آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہیں۔سر عام مسلمانوں کے خلاف زہر اور نفرت کی بارشیں کرتے ہیں ۔یہاں ہر انتخاب سے قبل مسلمانوں کو’’ دہشت گرد‘‘ ہونے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔سیاسی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے شاطر دوستووسکی کے’’ ایڈیٹ‘‘ معلوم ہوتے ہیں ..بتیس ارب پتی بنک کا خزانہ خالی کر گئے ،نوکری نہیں،کسان مر رہے ہیں ،سڑکوں چوراہوں پر معصوم اقلیتوں کا قتل جاری ۔۔۔ ہم ایک اجنبی پندرھویں صدی کے جزیرے میں آ گئے ہیں۔ 
ہر دن تیزاب کی جھلسا دینے والی بارش کے باوجود ایک اچھے دن کا انتظار ۔۔۔رات ہوتے ہی اُمیدیں ایسے دفن ہوتی ہیں جیسے اچھے دنوں کا انتظار ہی فضول ہو۔ پھر ایک نئی صبح ،سیاسی میزائلوں کا رقص اور مرتا ہوا ہندوستان ۔۔۔اچھے دنوں کا انتظار لہولہان اور خوفزدہ کرنے والی حقیقت کے ساتھ آزادی ،ہم آہنگی اور جمہوریت کے جذبے کو روندتا ہوا ہمیں اپاہج ،سرد اور بے جان لاش میں تبدیل کر رہا ہے۔آج کی تاریخ میں موجودہ سیاست کا ہر حربہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہا ہے۔
کارواں لٹ چکا ،نشانیاں ختم کی جا رہی ہیں۔تہذیبی اور قومی شناخت پر حملہ ہمیں غیر محفوظ بنا رہا ہے ۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جب ظلم و بربریت کے ہر صفحے پر برہمن وادی نظریہ کی خوف ناک آندھی سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔یہ پرانا دور اپنی تمام سفاکیت اور بر بریت کے ساتھ لوٹ آیا ہے۔اس دور میں ،اس سیاسی نظام میں کچھ بھی ممکن ہے۔ہم تہذیبی و قومی وراثت کے ساتھ ہندوستان کو بھی لٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں ۔
اس برس فہمیدہ ریاض،عمر میمن، ساقی فاروقی، فضیل جعفری، قاضی عبدالستار اور پروفیسر حامدی کاشمیری ہم سے جدا ہوگئے۔نند کشوروکرم اور فاروق ارگلی اردو کی پرانی بستیوں کو زندہ کررہے ہیں۔ ادب کا سلسلہ جاری رہے، اس کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اردو میں نئی نسل کے نام پر گہری خاموشی ہے۔ زندہ زبانیں نئی نسل کی منتظر ہوتی ہیں۔ادب کا قافلہ بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔مشہور جرمن شاعر جوزف براڈسکی کی نظم یاد آتی ہے: جب تم چائے یا کافی پیتے ہو، لوگ مررہے ہیں۔ جب تم نئے خداؤں کو یاد کرتے ہو،لوگ مر رہے ہیں۔ اور ہماری حقیقت یہ کہ ہمارے احساس مردہ ہیں، آنکھیں بے جان اور ادب کا قافلہ کہیں بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔
