یو این آئی
کابل// افغانستان کے مغربی علاقے میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے کم از کم 15 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوگئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی۔
بی بی سی کے مطابق، امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا کہ 6.3 کی شدت کا یہ زلزلہ ایران کی سرحد کے قریب مغربی شہر ہرات سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مقامی وقت کے مطابق تقریباً 11 بجے آیا۔
افغان حکام نے بتایا کہ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جس سے لوگ ملبے تلے دب گئے ہیں۔ابتدائی زلزلے کے بعد کم از کم تین زبردست جھٹکے محسوس کیے گئے۔
ہرات کے رہائشی بشیر احمد نے کہا کہ ہم اپنے دفاتر میں تھے کہ اچانک عمارت ہلنے لگی۔ دیواروں کا پلاسٹر گرنا شروع ہوگیا اور دیواروں میں دراڑیں نظر آئیں، کچھ دیواریں اور عمارت کے کچھ حصے گر گئے۔
ہرات کے رہائشی بشیر احمد نے کہا کہ ہم اپنے دفاتر میں تھے کہ اچانک عمارت ہلنے لگی۔ دیواروں کا پلاسٹر گرنا شروع ہوگیا اور دیواروں میں دراڑیں نظر آئیں، کچھ دیواریں اور عمارت کے کچھ حصے گر گئے۔
انہوں نے کہا، “میں اپنے خاندان سے رابطہ نہیں کر پا رہا ہوں، نیٹ ورک کنکشن منقطع ہو گیا ہے۔ میں بہت پریشان اور خوفزدہ ہوں، یہ خوفناک تھا۔”
صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شہر کے مرکزی اسپتال میں 70 سے زائد زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
زلزلہ آنے کے بعد اپنی کلاس کو محفوظ طریقے سے خالی کرنے والی طالب علم ادریس ارسلا، نے بتایاکہ یہ زلزلہ کافی خوفناک تھا، میں نے پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا۔
ہرات ایرانی سرحد سے 120 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے اور اسے افغانستان کا ثقافتی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک کے 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ایک اندازے کے مطابق 1.9 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔